نماز میں وَ لَا تُخْسِرُوا کی جگہ وَ لَا تُقْصِرُوا پڑھنا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
﴿وَ لَا تُخْسِرُوا الْمِیْزَانَ﴾ کی جگہ ﴿وَ لَا تُقْصِرُوا الْمِیْزَانَ﴾ پڑھنے سے نماز کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ امام نے نماز فجر کی جماعت کرواتے ہوئے سورۂ رحمٰن کی آیتِ مبارکہ ﴿وَ لَا تُخْسِرُوا الْمِیْزَانَ﴾ کی جگہ غلطی سے ﴿وَ لَا تُقْصِرُوْ الْمِیْزَانَ﴾ پڑھ دیا، تو نماز کا کیا حکم ہے؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں قراءت کی مذکورہ غلطی سے نماز فاسد نہیں ہو گی، بلکہ نماز کے دیگر امور درست طریقے سے سر انجام دیے ہوں، تو نماز صحیح طور پر ادا شمار ہوگی۔
اس مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ اگر کوئی شخص نماز میں قراءت کرتے ہوئے، ايك لفظ کی جگہ دوسرا لفظ پڑھ دے اور یہ دونوں الفاظ ایک جیسے معانی پر مشتمل ہوں، تو ایسی صورت میں نماز فاسد نہیں ہوتی اور آپ کی بیان کردہ صورت میں بھی امام صاحب نے ایک لفظ (لا تخسرو) کی جگہ جو دوسرا لفظ (لا تقصرو) پڑھا ہے، یہ دونوں بھی ایک جیسے ہی معانی پر مشتمل ہیں کہ لا تخسروا کا مادہ الخسران ہے، جس کا معنی کم کرنا ہے اور لاتقصروا کا مادہ قصر ہے، جس کا معنی قلیل کرنا اور کسی چیز کی طوالت میں کمی کرنا ہے، تو اصل آیتِ مبارکہ ﴿وَ لَا تُخْسِرُوا الْمِیْزَانَ ﴾ کا ترجمہ اور وزن نہ گھٹاؤ ہو گا، جبکہ اس کی جگہ پڑھے گئے الفاظ (وَ لَا تُقْصِرُوْ الْمِیْزَانَ) کا ترجمہ اور وزن میں قلت و کمی نہ کرو ہو گا۔ خلاصہ یہ ہوا کہ اگرچہ لغوی اعتبار سے کمی کی نوعیت کا فرق دونوں میں موجود ہے، لیکن دونوں الفاظ کا مفہوم اور مرادی معنیٰ، کمی نہ کرنا ہی ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں نماز فاسد نہیں ہوگی۔
علامہ حسین بن محمد حنفی رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں: و إن أخطأ بذكر كلمة مكان كلمة۔۔۔وإن كان بينهما موافقة في المعنى إلا أن الثانية ليست في القرآن؛ بأن قرأ «طعام الفاجر» مكان: ﴿طعام الاثيم﴾ لا تفسد صلاته“ یعنی: اگر (نماز میں) غلطی سے ایک کلمے کی جگہ دوسرا کلمہ پڑھ دیا، تو اگر ان دونوں کلموں کے مابین موافقت ہو، اگرچہ دوسرا کلمہ قرآنِ پاک میں نہ ہو، جیسے کہ ﴿طعام الاثيم﴾ کی جگہ «طعام الفاجر» پڑھا، تو نماز فاسد نہیں ہو گی۔ (خزانۃ المفتین، صفحہ 618، مخطوطہ)
یونہی فتاوی عالمگیری میں ہے: (و منها) ذكر كلمة مكان كلمة على وجه البدل إن كانت الكلمة التي قرأها مكان كلمة يقرب معناها و هي في القرآن لا تفسد صلاته نحو إن قرأ مكان العليم الحكيم وإن لم تكن تلك الكلمة في القرآن لكن يقرب معناها عن أبي حنيفة و محمد - رحمهما اللہ تعالى - لا تفسد“ ترجمہ: اور اس میں سے ایک صورت ایک کلمے کو دوسرے کلمے کی جگہ پر برسبیل بدلیت، پڑھنا ہے، تو اگر وہ کلمہ جس کو دوسرے کلمے کی جگہ پڑھا ہے، وہ بلحاظِ معنی اس (پہلے) کلمے کے قریب ہو اور وہ (دوسرا کلمہ) قرآنِ پاک میں بھی ہو، تو نماز فاسد نہیں ہو گی، جیسے کہ علیم کی جگہ حکیم پڑھا اور اگر وہ کلمہ قرآنِ پاک میں تو نہ ہو، لیکن بلحاظِ معنی اس پہلے کلمے کے قریب ہو، تو امامِ اعظم و امامِ محمد علیھما الرحمہ سے منقول ہے کہ نماز فاسد نہیں ہو گی۔ (الفتاوی الھندیہ، جلد 1، صفحہ 80، مطبوعہ مطبعۃ مصطفی البابی، مصر)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1367ھ / 1947ء) لکھتے ہیں: ایک لفظ کے بدلے میں دوسرا لفظ پڑھا، اگر معنی فاسد نہ ہوں نماز ہو جائے گی جیسے عَلِیْمٌ کی جگہ حَکِیْمٌ اور اگر معنی فاسد ہوں نماز نہ ہوگی جیسے ﴿وَعْدًا عَلَیْنَاؕ- اِنَّا كُنَّا فٰعِلِیْنَ ﴾ میں فَاعِلِیْنَ کی جگہ غَافِلِیْنَ پڑھا۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 556، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)
خسران کے معنی کے متعلق لسان المیزان میں ہے: الخسران: النقص ۔ ۔ ۔ یقال کلتہ و وزنتہ فاخسرتہ ای نقصتہ“ ترجمہ: خسران کا معنی کمی کرنا ہے، کہا جاتا ہے کہ میں نے ناپ تول کیا اور اس میں خسارہ دیا یعنی کمی کر دی۔ (لسان العرب، جلد 5، صفحہ 1156، مطبوعہ دار المعرفہ، بیروت)
قصر کے معنی کے متعلق لسان العرب میں ہے: القصر فی کل شیئ: خلاف الطول“ ترجمہ: قصر کا معنی ہر شے میں، خلافِ طول ہے۔ (لسان العرب، جلد 5، صفحہ 3244، مطبوعہ دار المعرفہ، بیروت)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-10034
تاریخ اجراء: 30 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 16 جون 2026ء