logo logo
AI Search

مریض قبلہ رخ نہ ہو سکے تو نماز کیسے ادا کرے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

مریض قبلہ کی جانب منہ کرنے سے عاجز ہو تو کیا کرے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

اگر مریض قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز ادا نہ کر سکے، تو کیا دوسری جانب منہ کر کے نماز ادا کرسکتا ہے؟

جواب

اگر مریض استقبالِ قبلہ (یعنی قبلہ کی طرف منہ کرنے) سے عاجز ہو، مثلا اس میں اتنی قوت نہیں کہ ادھر رخ کر سکے، اورنہ اس کے پاس کوئی ایسا شخص ہو، جو قبلہ کی طرف اس کا رخ کر سکے، تو اس صورت میں حکم شرعی یہ ہے کہ جس طرف رخ کر کے نماز ادا کرنا ممکن ہو، اسی طرف منہ کر کے نماز ادا کرلے، بعد میں اس کا اعادہ بھی لازم نہیں۔ رد المحتار میں ہے "فلو لم يقدر المريض على التحول إلى القبلة بنفسه و لا بغيره صلى كذلك و لا إعادة عليه بعد البرء" ترجمہ: پس اگر مریض خود قبلہ رخ ہونے پر قادر نہ ہو اور نہ ہی کسی دوسرے کی مدد سے کیا جاسکتا ہو تو وہ جس حالت میں ہو اسی حالت میں نماز ادا کرلے اور صحت مند ہونے کے بعد اس پر اس نماز کا اعادہ بھی نہ ہوگا۔ (ردالمحتار علی الدر المختار، جلد 2، صفحہ 688، مطبوعہ: کوئٹہ)

بہار شریعت میں ہے جو شخص استقبال قبلہ سے عاجز ہو مثلاً مریض ہے کہ اس میں اتنی قوت نہیں کہ ادھر رخ بدلے یا وہاں کوئی ایسا نہیں جو متوجہ کردے۔ ۔ ۔ ۔ تو ان سب صورتوں میں جس رخ نماز پڑھ سکے پڑھ لے اور اعادہ بھی نہیں ہے۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 488، مکتبۃالمدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد علی عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5151
تاریخ اجراء: 18 محرم الحرام 1448ھ / 04 جولائی 2026ء