مجہول قراءت کرنے والے کی نماز ہو جائیگی؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
مجہول قراءت والے کی نماز کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ھذا میں کہ اگر قرآن کریم کو مجہول پڑھا جائے تو کیا نماز ہو گی یا نہیں؟
جواب
اتنی تجوید فرض ہے کہ ہر حرف کو اس کے مخر ج (اس کی اپنی جگہ) سے اس طرح ادا کیا جائے کہ وہ دوسرے حرف سے ممتاز و جدا ہو جائے۔ لہذا اگر کسی کی قراءت ایسی مجہول ہے کہ وہ ملتی، جلتی آواز والے حروف میں امتیاز نہیں کر سکتا، تو اس پر واجب ہے کہ دن رات مکمل کوشش کر کے حروف کی درست ادائیگی سیکھے، اور اگر صحیح خواں کی اقتدا کرسکتا ہو تو جہاں تک ممکن ہو اس کی اقتدا کرے یا وہ آیتیں پڑھے جس کے حروف صحیح ادا کر سکتا ہو اور یہ دونوں صورتیں ناممکن ہوں تو زمانہ کوشش میں اس کی اپنی نماز ہوجائے گی، اور اپنے مثل دوسرے کی امامت بھی کر سکتا ہےیعنی اس کی کہ وہ بھی اسی حرف کو صحیح نہ پڑھتا ہو، جس کو یہ صحیح نہیں پڑھ سکتا، اور اگر اس سے جو حرف ادا نہیں ہوتا، دوسرا اس کو ادا کر لیتا ہے مگر کوئی دوسرا حرف اس سے ادا نہیں ہوتا، تو ایک دوسرے کی امامت نہیں کرسکتا، اور اگر کوشش بھی نہیں کرتا تو اس کی خود بھی نہیں ہوتی دوسرے کی اس کے پیچھے کیا ہوگی۔
در مختار میں ہے "(و) لا (غير الألثغ به) أي بالألثغ (على الأصح) كما في البحرعن المجتبى، وحرر الحلبي وابن الشحنة أنه بعد بذل جهده دائما حتما كالأمي، فلا يؤم إلا مثله، ولا تصح صلاته إذا أمكنه الاقتداء بمن يحسنه أو ترك جهده أو وجد قدر الفرض مما لا لثغ فيه، هذا هو الصحيح المختار في حكم الألثغ، وكذا من لا يقدر على التلفظ بحرف من الحروف أو لا يقدر على إخراج الفاء إلا بتكرار" ترجمہ: صحیح قول کے مطابق لکنت والے شخص کے پیچھے اس شخص کی اقتدا درست نہیں جو لکنت سے محفوظ ہو، جیسا کہ بحر میں مجتبیٰ کے حوالے سے مذکور ہے۔ علامہ حلبی اور ابن الشحنہ نے لکھا کہ اگر وہ ہمیشہ پوری کوشش کے باوجود درست تلفظ پر قادر نہ ہو تو اس کا حکم اُمّی شخص کی طرح ہے۔ اس لیے وہ صرف اپنے جیسے شخص کی ہی امامت کر سکتا ہے۔ اور اگر وہ ایسے امام کی اقتدا کر سکتا ہو جو درست تلفظ کے ساتھ پڑھتا ہو (پھر بھی اکیلا پڑھے) یا اس نے صحیح تلفظ سیکھنے کی کوشش چھوڑدی ہو (اور اکیلا پڑھتا ہو) یا وہ بغیر لکنت کے فرض قراءت کی مقدار درست پڑھ سکتا ہو (لیکن پھر بھی اس کے بغیر اکیلا نماز پڑھے)، تو اس کی نماز درست نہیں۔ لکنت والے شخص کے بارے میں یہی صحیح اور مختار حکم ہے۔ یہی حکم اس شخص کا بھی ہے جو کسی حرف کو ادا نہ کر سکتا ہو یا بار بار کوشش کرنے کے بعد صرف حرف ف کو ادا کر سکتا ہو۔ (در مختار، جلد 2، صفحہ 395، 396، مطبوعہ:کوئٹہ)
فتاوٰی رضویہ میں ہے ”بلاشبہ اتنی تجوید جس سے تصحیح حرف ہوا ور غلط خوانی سے بچے، فرض عین ہے ۔“ (فتاوٰی رضویہ، ج 06، ص 343، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
فتاوٰی امجدیہ میں ہے ”قرآن مجید مطلقاً صحیح پڑھنا فرض ہے، نماز میں ہو، یا بیرونِ نماز، اس طرح کہ حروف مخارج سے نکالے جائیں اور وہ صفات جن سے ایک مخرج کے چند حروف باہم ممتاز ہوتے ہین ان کی بھی رعایت کی جائے۔“ (فتاوٰی امجدیہ، ج 01، ص 86، مکتبہ رضویہ، کراچی)
امام اہلسنت، امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں: ’’س، ص وغیرھما حروف کی تبدیل جس میں آج کل اکثر عوام مبتلا ہیں جب بطور عجز ہو یعنی ص کہنا چاہیں تو س ہی ادا ہو ص نہ نکال سکیں جیسا کہ یہاں عوام کا جنہوں نے قواعدِ ادا نہ سیکھے اور اس فرض عین کے تارک رہے یہی حال ہے تو اس صورت میں اگرچہ ان کی اپنی نماز ہو جانے پر فتوی ہے جبکہ سیکھنے پر کوشش کیے جائیں اور جو حروف نہیں نکال سکتے اس سے خالی کوئی سورت یا آیت پاتے ہوئے سوائے فاتحہ ایسا کلام جس میں وہ حروف آئیں نہ پڑھیں اور صحیح خوان کی اقتدا ملتے ہوئے جدا نماز ادا نہ کریں مگر یہ حکم صرف ان کی اپنی نماز ان شرطوں کے ساتھ جائز ہونے کے لیے ہے صحیح خوان کی امامت نہیں کر سکتے نہ اس کی نماز ان کے پیچھے ہوگی یہی مذہب صحیح ہے اور یہی قول جمہور ائمہ ہے جن میں متاخرین بھی شامل ہیں۔‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد 6، صفحہ 432، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
بہار شریعت میں ہے ’’جس سے حروف صحیح ادا نہیں ہوتے اس پر واجب ہے کہ تصحیح حروف میں رات دن پوری کوشش کرے اور اگر صحیح خواں کی اقتدا کر سکتا ہو تو جہاں تک ممکن ہو اس کی اقتدا کرے یا وہ آیتیں پڑھے جس کے حروف صحیح ادا کر سکتا ہو اور یہ دونوں صورتیں ناممکن ہوں تو زمانہ کوشش میں اس کی اپنی نماز ہو جائے گی اور اپنے مثل دوسرے کی امامت بھی کر سکتا ہے یعنی اس کی کہ وہ بھی اسی حرف کو صحیح نہ پڑھتا ہو جس کو یہ اور اگر اس سے جو حرف ادا نہیں ہوتا، دوسرا اس کو ادا کر لیتا ہے مگر کوئی دوسرا حرف اس سے ادا نہیں ہوتا، تو ایک دوسرے کی امامت نہیں کر سکتا اور اگر کوشش بھی نہیں کرتا تو اس کی خود بھی نہیں ہوتی دوسرے کی اس کے پیچھے کیا ہوگی۔ آج کل عام لوگ اس میں مبتلا ہیں کہ غلط پڑھتے ہیں اور کوشش نہیں کرتے ان کی نمازیں خود باطل ہیں امامت درکنار۔‘‘ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 570، 571، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد ابو بکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5166
تاریخ اجراء: 13 محرم الحرام 1448ھ/29 جون 2026ء