جمعہ کی سنت قبلیہ رہ جائیں تو کب ادا کریں؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
جمعہ کی پہلے والی سنتیں رہ جائیں تو کب پڑھیں؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائےدین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ جمعے کی سنت قبلیہ اگر کسی وجہ سے رہ جائیں تو کیا ان کو جمعہ کے فرضوں کے بعد ادا کر سکتے ہیں؟
سائل: رضوان (حیدر آباد)
جواب
جمعہ کی سنتِ قبلیہ اگر رہ جائیں تو جمعہ کے فرضوں کے بعد وقت کے اندر اندر ان سنتوں کو ادا کرسکتے ہیں، اور افضل یہ ہے کہ جمعہ کی سنتِ بعدیہ پڑھنے کے بعد، ا ن سنتوں کو ادا کرے، البتہ ظہر کا وقت ختم ہونے کے بعد ان سنتوں کی قضا نہیں۔ نیز یہ یاد رہےکہ ظہر اور جمعہ کی سنتِ قبلیہ کو فرضوں سے پہلے پڑھنا سنتِ مؤکدہ ہے، بلا عذر شرعی اس کو فرضوں کے بعد ادا کرنا برا ہے، اور اس کی عادت بنالینا گناہ ہے، لہذا بلا وجہ شرعی ان سنتوں کو فرضوں کے بعد تک مؤخر نہ کیا جائے بلکہ فرضوں سے پہلے ہی ادا کیا جائے۔
ظہر اور جمعہ کی سنتِ قبلیہ چھوٹ جائیں، تو ان کی ادائیگی کے متعلق در مختار میں ہے: بخلاف سنۃ الظھر و کذ الجمعۃ فانہ ان خاف فوت رکعۃ یترکھا و یقتدی ثم یاتی بھا علی انھا سنۃ فی وقتہ ای الظھر قبل شفعہ عند محمد، و بہ یفتی" برخلاف ظہر اور جمعہ کی سنت (قبلیہ) کے، کیونکہ اگر (جماعت کے ساتھ) ایک رکعت فوت ہونے کا خوف ہو، تو ان سنتوں کو چھوڑ دے اور اقتدا کرے، پھر ان سنتوں کو سنت کی ہی نیت سے ظہر کے وقت میں دو رکعت (سنتِ بعدیہ) سے پہلے ادا کرے امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک، اسی پر فتویٰ ہے۔
رد المحتار میں ہے: القیاس فی السنن عدم القضاء، و قد استدل قاضیخان لقضاء سنۃ الظھر بما عن عائشۃ رضی اللہ تعالیٰ عنھا: ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم کان اذا فاتتہ الاربع قبل الظھر قضاھن بعدہ" فیکون قضاؤھا ثبت بالحدیث علیٰ خلاف القیاس کما فی سنۃ الفجر، کما صرح بہ فی الفتح، فالقول بقضاء سنۃ الجمعۃ یحتاج الیٰ دلیل خاص، و علیہ فتنصیص المتون علیٰ سنۃ الظھر دلیل علیٰ ان سنۃ الجمعۃ لیست کذلک، فتامل، ملتقطا" سنتوں میں قیاس یہ ہے کہ ان کی قضا نہیں، اور امام قاضی خان رحمہ اللہ نے ظہر کی سنتوں کے متعلق اس حدیث سے استدلال کیا ہے جو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم کی جب ظہر کی چار سنت قبلیہ فوت ہوجاتیں، تو آپ ان کی فرضوں کے بعد قضا کرتے، لہذا ان سنتوں کی قضا خلاف قیاس حدیث پاک سے ثابت ہے، جیساکہ سنتِ فجر میں ہے، اسی طرح فتح القدیر میں صراحت کی ہے، تو جمعہ کی سنتوں کی قضا کا حکم دینے کے لئے خاص دلیل کی حاجت ہے، مزید اس پر یہ کہ متون میں ظہر کی سنتوں کی صراحت کرنا اس بات پر دلیل ہے کہ جمعے کی سنتوں کا یہ حکم نہیں، لہذا غور و فکر کرو۔ (در مختار مع رد المحتار ج 2، ص 620، مطبوعہ: کوئٹہ)
رد المحتار کی عبارت "ثبت بالحدیث علیٰ خلاف القیاس" کے تحت امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن لکھتے ہیں: اقول فیہ: ان الحاق سنۃ الجمعۃ بسنۃ الظھر بدلیل المساواۃ فلایضرکون القضاء فیھن علی خلاف القیاس لان الالحاق دلالۃ لایختص بعقول المعنی کما نص علیہ الامام ابن الھمام وغیرہ من الاعلام بل لقائل ان یقول ان سنۃ الجمعۃ من افراد سنۃ الظھر فلا الحاق فافھم و بالجملۃ فالاحوط الایتان بھا خروجا عن العھدۃ بیقین" میں اس بارے میں یہ کہتا ہوں: کہ جمعہ کی سنتوں کو مساوات کی وجہ سے ظہر کی سنتوں کے ساتھ الحاق ہے، لہذا یہ (جمعہ) کی سنتوں کو خلافِ قیاس قضا کرنے کے معاملے میں مضر نہیں، کیونکہ دلالۃ الحاق معقول المعنیٰ ہونے کے ساتھ خاص نہیں، جیساکہ اس پر امام ابن ہمام اور ان کے علاوہ دیگر علماء نے صراحت فرمائی ہے، بلکہ کہنے والے کے لئے یہ کہنا ممکن ہے کہ جمعہ کی سنتیں، ظہر کی سنتوں کے افراد میں سے ہے، لہذا پھر کوئی الحاق نہ ہوگا، اسے سمجھ لو، خلاصہ یہ ہے کہ زیادہ احتیاط ان سنتوں کو بجا لانے میں ہے تاکہ بالقین ذمہ سے اتر جائیں۔ (جد الممتار ج 3، ص 516، مطبوعہ: مکتبۃ المدینہ)
ظہر یا جمعہ کی رہ جانے والی سنتِ قبلیہ کو ، سنتِ بعدیہ کے بعد ادا کرے ۔چنانچہ درمختار کی عبارت "و بہ یفتیٰ" کے تحت رد المحتار میں ہے: اقول : و علیہ المتون، لکن رجح فی الفتح تقدیم الرکعتین، قال فی الامداد: و فی فتاوی العتابی انہ المختار، و فی مبسوط شیخ الاسلام انہ الاصح، لحدیث عائشۃ رضی اللہ تعالیٰ عنھا: انہ علیہ الصلاۃ و السلام کان اذا فاتتہ الاربع قبل الظھر یصلیھن بعد الرکعتین" و ھو قول ابی حنیفۃ، و کذا فی جامع قاضیخان اھ "میں کہتا ہوں : اسی پر متون ہیں ، لیکن فتح القدیر میں دو رکعتیں (سنتِ بعدیہ ) مقدم کرنے کو ترجیح دی ہے، امداد میں فرمایا: اور فتاویٰ عتابی میں ہے کہ یہ مختار ہے اور شیخ الاسلام کی مبسوط میں ہے کہ یہ اصح ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حدیث کی وجہ سے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی جب ظہر کی چار رکعتیں سنتِ قبلیہ فوت ہوجاتیں تو آپ ان کو دو رکعت (سنتِ بعدیہ) کے بعد ادا فرماتے، یہی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا قول ہے، اور اسی طرح جامع قاضی خان میں ہے۔ ( رد المحتار ج 2، ص 621، مطبوعہ: کوئٹہ)
رد المحتار کی عبارت "و ھو قول ابی حنیفۃ" کے تحت جد الممتار میں ہے: اقول: و اذ کان ھذا قول الامام، و قد ثبت عن صاحب الشریعۃ صلی اللہ علیہ و سلم، فلا وجہ للعدول عنہ، و ان قیل فی الاخر: بہ یفتیٰ؛ اذ لا شک ان الترجیح فی الجانبین، و قد ترجح ھذا بما قلنا ، فلا یعارضہ ما فی قولھم: بہ یفتیٰ، من الرجحان علی قولھم ھو المختار و الاصح، و اللہ تعالیٰ اعلم" میں کہتا ہوں: جب یہ امام کا قول ہے اور شارع صلی اللہ علیہ و سلم سے ثابت بھی ہے، تو اس سے عدول کرنے کی کوئی وجہ نہیں اگرچہ دوسرے قول میں "بہ یفتیٰ" کہا گیا ہو، کیونکہ اس بات میں شک نہیں کہ ترجیح دونوں جانب ہے، اور اس (سنتِ بعدیہ کے بعد ان سنتوں کو ادا کرنے والے) قول کو اس سبب سے ترجیح ہوگی جو ہم نے بیان کی، لہذا فقہائے کرام کے بہ یفتیٰ کے قول کی وجہ سے، دیگر فقہاء کے قول ھو المختار اور اصح پر ترجیح دیتے ہوئے اس کا مقابلہ نہیں کیا جائے گا۔ (جد الممتار ج 3، ص 517، مطبوعہ: مکتبۃ المدینہ)
امام اہلسنت سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن سے سوال ہوا کہ سنن اربعہ جو بروز جمعہ قبل از خطبہ پڑھی جاتی ہیں اگر وہ کسی عذر سے ترک ہوجائیں تو بعد خطبہ اور فرضوں کے ان کی ادا ہے یا نہیں؟
تو اس کے جواب میں آپ رحمہ اللہ لکھتے ہیں: (ان سنتوں کی ادا) ہے اور سنتوں ہی کی نیت کرے وہ سنت ہی واقع ہوں گی، ہاں اگر وقت ظہر نکل گیا توا ب قضا نہیں، ملتقطا۔ (فتاویٰ رضویہ ج 8، ص 153، مطبوعہ: رضا فاؤنڈیشن لاھور)
بہار شریعت میں ہے: ظہر یا جمعہ کے پہلے کی سنت فوت ہوگئی اور فرض پڑھ ليے تو اگر وقت باقی ہے بعد فرض کے پڑھے اور افضل یہ ہے کہ پچھلی سنتيں پڑھ کر ان کو پڑھے۔ (بہار شریعت، ج 1، حصہ 4، ص 664، مطبوعہ: مکتبۃ المدینہ)
وقت میں وسعت ہونے کے باوجود سنتِ قبلیہ کو فرضوں سے پہلے نہ پڑھنا ترک سنت ہے، چنانچہ امام اہلسنت سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ سے سوال ہوا کہ طلوع آفتاب ہونے کے کتنی دیر کے بعد نماز قضا پڑھنے کا حکم ہے اور وہ شخص جس نے کہ سنّتیں فجر کی نہ پڑھی ہوں اور دس بارہ منٹ طلوع میں باقی ہوں نماز پڑھا سکتا ہے یا نہیں، اسی طرح پر ظہر کی سنت بے پڑھے امامت کرسکتا ہے یا نہیں؟
اس کے جواب میں آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: طلوع کے بعد کم ازکم بیس ۲۰ منٹ کا انتظار واجب ہے۔ دس بارہ منٹ میں سنّتیں اور فرض دونوں ہوسکتے ہیں سنّتیں پڑھ کر نماز پڑھائے، اگر وقت بقدر فرض ہی کے باقی ہے تو آپ ہی سُنتیں چھوڑے گا پھر اگر جماعت میں کسی نے ابھی سُنتّیں نہ پڑھیں یا جس نے پڑھیں وہ قابلِ امامت نہیں تو جس نے نہ پڑھیں وہی امامت کرے گا اور اگر وقت میں وسعت ہے تو سنّتِ قبیلہ کا ترک گناہ ہے اور اُس کی امامت مکروہ ہے واللہ تعالٰی اعلم۔ (فتاویٰ رضویہ ج 5، ص 325، مطبوعہ: رضا فاؤنڈیشن لاھور)
یونہی فتاویٰ امجدیہ میں ہے: ظہر کی سنتیں اگرچہ بعد فرض پڑھ لے گا، مگر بلاعذر اس کو اس کی جگہ سے ہٹانا بھی برا ہے کہ سنتِ قبلیہ میں اصل سنت یہی ہے کہ وہ فرض سے قبل پڑھی جائے۔ (فتاویٰ امجدیہ ج 1، ص 200، مطبوعہ: مکتبہ رضویہ)
ظہر کی سنتوں کو فرضوں سے پہلے پڑھنا ہی سنتِ مؤکدہ ہے، فرضوں سے پہلے نہ پڑھنے والا سنتِ مؤکدہ کا تارک شمار ہوگا، چنانچہ فتاویٰ جامعہ اشرفیہ میں سوال ہوا کہ کیا امام سنتِ قبل از ظہر پڑھے بغیر فرض نماز ظہر پڑھا سکتا ہے یا نہیں؟ امام کو سنت پہلے پڑھنا ضروری ہے یا نہیں؟
اس کے جواب میں شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی علیہ رحمۃ اللہ القوی لکھتے ہیں: امام کو اس کی اجازت نہیں کہ ظہر کی پہلے والی سنتیں پڑھے بغیر فرض پڑھائے۔ ان سنتوں کو فرض سے پہلے پڑھنا ہی سنت مؤ کدہ ہے۔ جو امام ایسا کرتا ہے وہ سنت مؤ کدہ کا تارک ہے۔ و اللہ تعالی اعلم۔ (فتاویٰ جامعہ اشرفیہ ج 5، ص 635، مطبوعہ: مجلس فقہی، جامعہ اشرفیہ مبارک پور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد نوید رضا عطاری مدنی
فتوی نمبر: Har-6795
تاریخ اجراء: 26 شوال المکرم 1446ھ / 25 اپریل 2025ء