logo logo
AI Search

رکوع سے اٹھ کر اللّٰهم ربنا و لك الحمد کے ساتھ الفاظ بڑھانا؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

رکوع سے اٹھنے کے بعد حمد کے ساتھ مزید الفاظ بڑھانا کیسا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائےدین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں ہر نماز میں چاہے اکیلے میں پڑھوں یا امام کے پیچھے، رکوع سے اٹھتے وقت یہ کلمات پڑھتا ہوں "اللّٰھم ربنا و لک الحمد حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ" تو کیا میرا ان کلمات کو پڑھنا درست ہے؟ اور اس کی وجہ سے مجھ پر سجدہ سہو تو لازم نہیں ہوگا؟

جواب

احناف کے نزدیک فرض نمازوں کے قومہ (رکوع سے اٹھتے وقت) اور جلسہ (دونوں سجدوں کے درمیان) میں طویل اذکار پڑھنا سنت نہیں ہے، البتہ دونوں سجدوں کے درمیان اللھم اغفر لی کہنا مستحب ہے چاہے فرض نماز ہو یا نوافل ہوں کیونکہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے نزدیک دو سجدوں کے درمیان اللّٰھم اغفرلی کہنا فرض ہے، اورقواعد مذہب کی رو سے جب اپنے مذہب میں کوئی چیز ممنوع نہ ہو، اور دوسرے مذہب میں وہ چیز فرض یا واجب ہو، تو اختلاف سے بچنے کے لئے اس پر عمل کرنا مستحب ہے، نیز احادیث میں مذکور قومہ اور جلسہ کے اذکار طویلہ نوافل پر محمول ہیں اس طرح کہ منفرد کو نوافل میں طویل اذکار پڑھنے میں شرعا کوئی حرج نہیں، یونہی ایسے نوافل کی جماعت کہ جن میں امام و مقتدی دونوں طویل اذکار پڑھتے ہوں جیسے صلاۃ التسبیح، تو اس میں بھی حرج نہیں، البتہ فرض نمازوں میں طویل اذکار پڑھنا امام، مقتدی اور منفرد سب کے لئے خلاف سنت ہے، اور اگر مقتدی بوجھ محسوس کرتے ہوں تو امام کے لئے وہ طویل اذکار پڑھنا قطعا ممنوع ہیں، ہاں! اگر منفرد نے چند کلمات ماثورہ پڑھے تو کوئی حرج نہیں اور اگر مقتدی بوجھ محسوس نہ کرتے ہوں تو امام کے پڑھنے میں بھی حرج نہیں، مقتدی امام کے تابع ہے اگر امام پڑھے تو یہ بھی پڑھے ورنہ نہ پڑھے۔

اس تفصیل کے بعد صورتِ مسئولہ کا جواب یہ ہے کہ آپ کا اکیلے نماز پڑھتے وقت مذکورہ چند کلمات پڑھنے میں شرعا کوئی حرج نہیں، البتہ فرض کی جماعت کے دوران جب امام اس طرح کے کلمات نہ پڑھ رہا ہو تو آپ کو بھی یہ کلمات نہیں پڑھنے چاہیئے، پھر بھی اگر پڑھ لئے تو اس کی وجہ سے سجدہ سہو لازم نہیں ہوگا۔

فرض نمازوں میں قومہ و جلسہ کے درمیان کوئی ذکر مسنون نہیں، اس حوالے سے علامہ علاؤ الدین حصکفی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: (وليس بينهما ذكر مسنون، وكذا) ليس (بعد رفعه من الركوع) دعاء، و كذا لا يأتي في ركوعه و سجوده بغير التسبيح (على المذهب)، و ماورد محمول علی النفل" اور مذہب کی روایت کے مطابق ان دونوں ( قومہ و جلسہ )کے درمیان کوئی ذکر مسنون نہیں، اسی طرح رکوع سے اٹھنے کے بعد کوئی دعا پڑھنا بھی مسنون نہیں اور نہ ہی رکوع و سجود میں تسبیح کے علاوہ کوئی ذکر مسنون ہے، اور جو (احادیث میں اذکار) بیان ہوئے ہیں وہ نوافل پر محمول ہیں۔ (در مختار ج 2، ص 261، مطبوعہ: کوئٹہ)

خاتم المحققین علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ درمختار کی عبارت "و ليس بينهما ذكر مسنون" کے تحت فرماتے ہیں: قال أبو يوسف: سألت الإمام أيقول الرجل إذا رفع رأسه من الركوع و السجود اللّٰهم اغفر لي؟ قال: يقول ربنا لك الحمد و سكت، و لقد احسن فی الجواب اذ لم ینہ عن الاستغفار ، نھر وغیرہ؛ أقول: بل فيه إشارة إلى أنه غير مكروه إذ لو كان مكروها لنهى عنه كما ينهى عن القراءة في الركوع و السجود و عدم كونه مسنونا لا ينافي الجواز كالتسمية بين الفاتحة و السورة، بل ينبغي أن يندب الدعاء بالمغفرة بين السجدتين خروجا من خلاف الإمام أحمد لإبطاله الصلاة بتركه عامدا، و لم أر من صرح بذلك عندنا، لكن صرحوا باستحباب مراعاۃ الخلاف، واللہ أعلم

 امام ابویوسف رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کوئی شخص رکوع یا سجدے سے سر اُٹھانے کے بعد یہ "اللّٰھم اغفرلی" کہہ سکتا ہے؟ تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا:وہ ربنا لک الحمد (اے ہمارے رب! تیرے لئے حمد ہے) کہے، اور (اتنا جواب دینے کے بعد) آپ خاموش ہوگئے، اور یہ بہت اچھا جواب ہے، کیونکہ آپ نے استغفار سے منع نہیں فرمایا، نہر و غیرہ۔ میں کہتا ہوں: اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ مکروہ نہیں کیونکہ اگر یہ مکروہ ہوتا تو آپ اس سے ضرور منع فرماتے جیسا کہ آپ رحمہ اللہ نے رکوع و سجدے میں قراءت کرنے سے منع فرمایا اور (قومہ و جلسہ میں) ذکر مسنون نہ ہونا اس کے جواز کے منافی نہیں جیسا کہ فاتحہ و سورت کے درمیان تسمیہ پڑھنا، بلکہ امام احمد بن حنبل علیہ الرحمہ کے اختلاف سے بچنے کے لئے دونوں سجدوں کے درمیان دعائے مغفرت مستحب ہونی چاہیے کہ ان کے نزدیک اس کو جان بوجھ کر چھوڑنے والے کی نماز باطل ہوجائے گی، اور میں نے اپنے آئمہ میں سے کسی سے اس بات کی صراحت نہیں دیکھی لیکن انہوں نے اختلاف کی رعایت کرنے کو مستحب قرار دینے کی صراحت کی ہے، اور اللہ تعالیٰ زیادہ جانتا ہے۔ (رد المحتار، ج 2، ص 261، مطبوعہ: کوئٹہ)

حلبۃ المجلی میں قومہ کے متعلق متن کے اس قول "و لا یزید علی ھذا" کے تحت لکھا ہے: إن أراد الزیادۃ ماورد في السنة ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔فینبغي أن یکون ھذا في حق الإمامة إذا خاف التثقیل علی القوم و في حق المقتدي إذا لم یفعل الإمام ذلك، أما المنفرد أو الإمام إذا کان لا یثقل علی القوم إتیانه بذلك أو المقتدي إذا کان إمامه قد أتی به فلیسوا بممنوعین من زیادتھم به علی ذلك و لا سیما المنفرد في النوافل، ملتقطا" اگر زیادتی سے مراد وہ اذکار ہیں جو سنت میں وارد ہیں تو یہ امام کے متعلق ہوگا جبکہ مقتدیوں پر بوجھ کا خوف ہو ،اور مقتدی کے حق میں اس وقت ہے جب امام یہ نہ پڑھ رہا ہو، بہرحال منفرد یا وہ امام جس کے مقتدی اس کے پڑھنے کو بوجھ محسوس نہ کریں یا وہ مقتدی جس کا امام پڑھ رہا ہو تو ایسی صورت میں ان کے لیے ان اذکار کا اضافہ ممنوع نہیں، خصوصاً منفرد کو نوافل میں۔ (حلبۃ المجلی ج 2، ص 161، مطبوعہ: بیروت)

اسی کتاب میں کچھ صفحات کے بعد جلسہ یعنی دو سجدوں کے درمیان اذکار پڑھنے کے متعلق لکھتے ہیں: فی الفتاوی الظھیریۃ: و لیس بین السجدتین ذکر مسنون ۔ ۔ ۔ ۔ قال العبد الضعیف غفر اللہ تعالیٰ لہ: و یشکل بما عن ابن عباس، قال: کان ا لنبی صلی اللہ علیہ و سلم یقول بین السجدتین: "اللّٰھم اغفر الی و ارحمنی و عافنی و اھدنی و ارزقنی "۔ ۔ ۔ ۔و یمکن ان یجاب عنہ بان ھذا کان فی النوافل، و یشھد لہ لفظ ابن ماجۃ: کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم یقول بین السجدتین فی صلاۃ الیل "رب اغفر لی و ارحمنی و عافنی و اجبرنی و ارزقنی و ارفعنی، و لا باس علینا بان نقول باستحبابہ فی التطوع کما صرح مشائخنا بحمل ما في حدیث علي رضی اللہ تعالى عنه۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ علی النوافل ،علی أنه ثبت في المکتوبة فلیکن في حالة الانفراد و في حالة کونه إماما و المأمومون محصورون لا یثقلون بذلك، ملتقط

 فتاویٰ ظہیریہ میں ہے: دو سجدوں کے درمیان کوئی ذکر مسنون نہیں ہے، بندہ ضعیف اللہ اس کی بخشش فرمائے، کہتا ہے کہ اس پر حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہماکی اس روایت سے اشکال کیا جاسکتا ہے جس میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم دو سجدوں کے درمیان یہ پڑھا کرتے تھے "اللّٰھم اغفر لی۔ ۔ ۔ ۔ الخ، اس کا جواب یہ دیا جاسکتا ہے کہ یہ نوافل کے متعلق ہے اور اس کی شاہد ابن ماجہ کی روایت کے الفاظ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کی نماز میں دو سجدوں کے درمیان پڑھا کرتے تھے: رب اغفرلی ۔ ۔ ۔ الخ، اور ہمیں اس کو نوافل میں مستحب کہنے میں کوئی حرج نہیں ہے جیساکہ ہمارے مشائخ نے حضرت سیدنا علی رضی ﷲ تعالٰی عنہ سے مروی حدیث کو نوافل پر محمول کرنے کی تصریح کی ہے، اس طرح کہ اگر یہ فرائض میں ثابت ہوں تو پھر اس سے منفرد مراد ہوگا اور امامت کی حالت میں اس وقت کہ جب مقتدی محصور ہوں اور اس کی وجہ سے بوجھ محسوس نہ کریں ۔ (حلبۃ المجلی ج 2، ص 167، 166، مطبوعہ: بیروت)

یونہی امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن لکھتے ہیں: اللّٰھم اغفرلی" کہنا امام ومقتدی و منفرد سب کو مستحب ہے اور زیادہ طویل دعا سب کو مکروہ ہاں منفرد کو نوافل میں مضائقہ نہیں۔ (فتاوی رضویہ ج6، ص 182، مطبوعہ: رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

ایک اور مقام پر ہے: قومہ و جلسہ کے اذکارِ طویلہ نوافل پر محمول ہیں و لہذا ہمارے ائمہ فرائض میں انھیں مسنون نہیں جانتے اور شک نہیں کہ فرائض میں تطویل فاحش خلاف سنّت ہے اور امام کے لئے توقطعاً ممنوع جبکہ مقتدیوں میں کسی پر بھی گراں ہو، ہاں منفرد بعض کلماتِ ماثورہ بڑھائے تو حرج بھی نہیں، یونہی امام بھی جبکہ مقتدی محصور اور سب راضی ہوں، رہا مقتدی وہ آپ ہی اتباعِ امام کرے گا، اگر امام کہے، کہے ورنہ نہیں۔ (فتاوی رضویہ، باب صفۃ الصلاۃ، ج 6، ص 170، مطبوعہ: رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ سے جلسہ یعنی دو سجدوں کے درمیان ایک دعا "اللّٰھم اغفرلی وارحمنی واھدنی و ارزقنی" پڑھنے کے متعلق سوال ہوا کہ کیا اس کو پڑھنے کی وجہ سے سجدہ لازم ہوگا؟ تو آپ علیہ الرحمہ نے جوابا ارشاد فرمایا: قومہ اور جلسہ میں بقدر ایک تسبیح کے وقفہ سنت ہے اور امام ابن الہمام علیہ الرحمہ کے نزدیک واجب او ر امام ابو یوسف علیہ الرحمہ کے نزدیک فرض ہے ۔ ۔ ۔ اور امام احمد بن حنبل علیہ الرحمہ کے نزدیک "اللّٰھم اغفر لی" کہنا فرض ہے اور ہمارے مذہب میں فرائض نماز کے قومہ ، جلسہ میں کوئی ذکر مسنون نہیں اگر "اللّٰھم اغفرلی" کہہ لیا جائے تو کراہت بھی نہیں بلکہ نظر بقواعد مذہب مستحب ہونا چاہیے تو جب اپنے مذہب میں کوئی چیز ممنوع نہ ہو اور دوسرے مذہب میں فرض یا واجب ہو تو ایسی چیز پر عمل کرنا اختلاف سے بچنے کی وجہ سے اولی ہے۔ ۔ ۔ جو دعا سوال میں مذکور ہے یہ حدیث ابو داؤد میں بین السجدتین وارد ہے، اور اس میں وارحمنی کے بعد عافنی بھی ہے، بالجملہ صورتِ مذکور میں سجدہ سہو واجب نہیں کہ مکروہ ہونا ثابت نہیں، ملتقطا۔ (فتاوی امجدیہ، ج 1، ص 278 تا 279، مکتبہ رضویہ، کراچی)

تنبیہ: فتوے کے شروع میں نوافل کی جماعت کا ایک مسئلہ ضمنابیان ہوا تو اس کے متعلق مزید تفصیل بھی ذہن نشین کرلیں کہ جماعت کے ساتھ نوافل اداکرنے کی دو صورتیں ہیں: (۱) بغیر تداعی کے نوافل کی جماعت کروانا (۲) تداعی کے ساتھ جماعت کروانا۔پہلی صورت یعنی بغیر تداعی کے نوافل کی جماعت کروانا بالاجماع جائز ہے، تداعی کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کو جماعت کے لیے بلانا اور انہیں جمع کرنا، اصح قول کے مطابق اگر امام کے علاوہ چار یا اس سے زائد مقتدی ہوں، تو یہ تداعی ہے اور اگر اس سے کم ہوں، تو تداعی نہیں۔دوسری صورت یعنی نوافل کی جماعت تداعی کے ساتھ کروانا، تو اس صورت میں نماز تراویح اورکسوف و استسقاء یعنی سورج گہن اورطلب بارش کے لیے پڑھے جانے والے نوافل بھی بلا کراہت جائز ہیں، جبکہ ان کے علاوہ دیگر نوافل تداعی کے ساتھ ادا کرنا مکروہ تنزیہی و خلاف اولی ہے، البتہ اگر لوگ صلوٰۃ التسبیح، صلوٰۃ التوبہ، تہجد یا دیگر نوافل جماعت کے ساتھ ادا کریں، تو انہیں منع نہ کیا جائے کہ عوام الناس کی پہلے ہی نیکیوں میں رغبت کم ہے اور جو لوگ جماعت کی وجہ سے نوافل ادا کر لیتے ہیں، اگر انہیں بھی منع کر دیا جائے، تو ان کے بالکل ہی نوافل چھوڑ دینے کے امکان زیادہ ہیں ، اسی وجہ سے فقہاء کرام رحمہم اللہ السلام نے ایسی ممانعت سے منع فرمایا ہے۔

تداعی اور بغیر تداعی کے نوافل کی جماعت کے متعلق تفصیل بیان کرتے ہوئے امام اہلسنت سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الحنان لکھتے ہیں: تراویح و کسوف و استسقاء کے سوا جماعت نوافل میں ہمارے ائمہ رضی اللہ تعالی عنہم کا مذہب معلوم و مشہور اور عامہ کتب مذہب میں مذکور ومسطور ہے کہ بلاتداعی مضائقہ نہیں اور تداعی کے ساتھ مکروہ۔ تداعی ایک دوسرے کو بلانا جمع کرنا اور اسے کثرت جماعت لازم عادی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بالجملہ دو مقتدیوں میں بالاجماع جائز اور پانچ میں بالاتفاق مکروہ اور تین اور چارمیں اختلاف نقل ومشائخ، اور اصح یہ کہ تین میں کراہت نہیں، چار میں ہے، تو مذہب مختار یہ نکلاکہ امام کے سوا چار یا زائد ہوں تو کراہت ہے ورنہ نہیں ۔ ۔ ۔ پھر اظہر یہ ہے کہ یہ کراہت صرف تنزیہی ہے یعنی خلاف اولیٰ لمخالف التوارث، نہ تحریمی کہ گناہ وممنوع ہو، ملتقطا۔ (فتاوی رضویہ، ج 7، ص 430 تا 431، مطبوعہ: رضا فاؤنڈیشن لاھور)

عوام کو تداعی کے ساتھ نوافل ادا کرنے سے منع نہیں کیا جائے گا کہ اس سے لوگ کار خیر بالخصوص نوافل کی ادائیگی سے محروم ہو سکتے ہیں ۔ چنانچہ ایک مقام پر امام اہلسنت رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نفل غیر تراویح میں امام کے سوا تین آدمیوں تک تو اجازت ہے ہی، چار کی نسبت کتب فقہیہ میں کراہت لکھتے ہیں یعنی کراہت تنزیہہ جس کاحاصل خلاف اولیٰ ہے نہ کہ گناہ وحرام۔ کما بیناہ فی فتاوٰنا (جیسا کہ ہم نے اس کی تفصیل اپنے فتاویٰ میں ذکر کردی ہے) مگر مسئلہ مختلف فیہ ہے اور بہت اکابر دین سے جماعت نوافل بالتداعی ثابت ہے اور عوام فعل خیر سے منع نہ کیے جائیں گے۔ علمائے امت و حکمائے ملت نے ایسی ممانعت سے منع فرمایا ہے۔ (فتاوی رضویہ، ج 7، ص 465، مطبوعہ، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد نوید رضا عطاری مدنی
فتوی نمبر: Har-7210
تاریخ اجراء: 10 رجب المرجب 1447ھ / 31 دسمبر 2025ء