واجب الاعادہ جماعت میں مسبوق نمازی کا شامل ہونا
بسم اللہ الرحمن الرحیم
واجب الاعادہ نماز کی جماعت میں نئے سرے سے پڑھنے والے کا شامل ہونا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائےدین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نماز عصر کی جماعت کروا رہا تھا، اس میں بھولے سے سورہ فاتحہ کی تقریباً ڈیڑھ آیت جہراً پڑھی، فورا یاد آنے پروہیں سے سراً قراءت شروع کردی۔ پھر آخر میں سجدہ سہو کرنا بھول گیا اور سجدہ سہو کے بغیر نماز مکمل کر دی۔ نماز مکمل کرنے کے بعد اعلان کیا کہ نماز دوبارہ پڑھی جائے گی، اس پر جو وہاں مسبوق نمازی نماز پڑھ رہے تھے، انہوں نے میرے اس اعلان پر اپنی نمازیں توڑدیں اور میرے ساتھ شریک نماز ہوگئے پھر میں نے درست طریقہ سے نماز مکمل پڑھائی۔ تو ایسی صورت میں ہم سب کی نمازوں کا کیا حکم ہے؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں جب آپ نے نماز عصر میں سورہ فاتحہ کی ڈیڑھ آیت جہر سے پڑھ لی توآپ پر سجدہ سہو واجب ہوگیا ،لیکن جب آپ نے سجدہ سہو نہیں کیا اورنماز مکمل کرلی تو نماز واجب الاعادہ ہوگئی۔ اس کے بعد دوبارہ جماعت کروانے کے اعلان پر نماز پڑھی گئی تو آپ اورشروع سے شامل مقتدیوں کی واجب الاعادہ نماز ہوگئی، البتہ جن مسبوق نمازیوں نے اپنی نمازیں توڑ کر آپ کے ساتھ دوبارہ شریک جماعت ہوئے ،ان کی نماز نہیں ہوئی ،ان کے ذمہ عصر کی نماز باقی ہے، کیونکہ آپ اور شروع سے شامل مقتدیوں کے فرض ادا ہوچکے تھے، مگر ترک واجب کی وجہ سے دوبارہ نماز پڑھ رہے تھے جبکہ مسبوق نمازیوں کے نماز توڑنے کی وجہ سے ان کے فرض ہی ادا نہیں ہوئے، اس لئے ایسے مبسوق ترک واجب کی وجہ سے دوبارہ پڑھی گئی نماز میں شریک نہیں ہوسکتے، نیز بلا عذر شرعی نماز توڑنے کی وجہ سے مسبوق نمازی گناہ گار ہوئے۔
امام کے لئے کونسی رکعت میں سرا اور کونسی رکعت میں جہراً قراءت کرنا واجب ہے اس کو بیان کرتے ہوئے تنویر الابصار ودرمختار میں ہے: (ویجھر الامام) وجوبا (في الفجر و أولى العشاءين أداء و قضاء و جمعة و عيدين و تراويح و وتر) ای فی رمضان ۔ ۔ ۔ و يسر في غيرها) ملخصا۔ امام وجوبی طور پرفجر اور مغرب و عشاء کی پہلی دو رکعتوں میں،جہر کے ساتھ قراءت کرے گا،چاہے یہ نمازیں ادا ہوں یا قضا۔یونہی جمعہ، عیدین، تراویح اور رمضان کے وتر میں بھی جہر کرے گا۔ ۔ ۔ اور اس کے علاوہ نمازوں میں آہستہ قراءت کرے گا۔
علامہ ابن عابدین الشامی رحمۃ اللہ علیہ اس عبارت "و يسر في غيرها" کے تحت فرماتے ہیں: و هو الثالثة من المغرب و الأخريان من العشاء، و كذا جميع ركعات الظهر و العصر" اور وہ مغرب کی تیسری اور عشاء کی آخری دو رکعت ہیں ،اور اسی طرح ظہر اور عصر کی تمام رکعات ہیں کہ ان میں آہستہ قراءت کرے گا۔ (تنویر الابصار و درمختار مع رد المحتار، ج 02، ص 304 تا 306، مطبوعہ: کوئٹہ)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: فجر و مغرب و عشا کی دو پہلی میں اور جمعہ و عیدین و تراویح اور وتر رمضان کی سب میں امام پر جہر واجب ہے اور مغرب کی تیسری اور عشا کی تیسری چوتھی یا ظہر و عصر کی تمام رکعتوں میں آہستہ پڑھنا واجب ہے۔ (بہار شریعت، ج 1، ص 544، مطبوعہ: مکتبۃ المدینہ، کراچی)
سجدہ سہو کے وجوب کی صورتوں کے تحت تنویر الابصار و درمختار میں ہے: (و الجھر فیما یخافت فیہ) للامام (و عکسہ) لکل مصل فی الاصح، و الاصح تقدیرہ (بقدر ما تجوز بہ الصلاۃ فی الفصلین۔) اور سری نماز میں امام کا جہر کرنا اور جہری نماز میں ہر نمازی کاسر کرنا اصح قول کے مطابق سجدہ سہو کو واجب کردے گا، اور اصح قول کے مطابق اس کی مقدار اتنی ہےکہ جس سے نماز درست ہوتی ہے دونوں صورتوں میں۔ (تنویر الابصار و درمختار مع رد المحتار، ج 02، ص 657، مطبوعہ: کوئٹہ)
سیدی اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں: اگر امام ان رکعتوں میں جن میں آہستہ پڑھنا واجب ہے، جیسے ظہر و عصر کی سب رکعات اور عشاء کی پچھلی دو اور مغرب کی تیسری اتنا قرآن عظیم جس سے فرض قراءت ادا ہوسکے (اور وہ ہمارے امام اعظم رضی اللہ عنہ کے مذہب میں ایک آیت ہے) بھول کر بآواز پڑھ جائیگا تو بلا شبہ سجدہ سہو واجب ہوگا، اگر بلا عذر شرعی سجدہ نہ کیا یا اس قدر قصدا بآواز پڑھا تو نماز کا پھیرنا واجب ہے۔ (فتاوی رضویہ، ج 6، ص 251، مطبوعہ: رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: امام نے جہری نماز میں بقدر جواز نماز یعنی ایک آیت آہستہ پڑھی یا سری میں جہر سے تو سجدہ سہو واجب ہے اور ایک کلمہ آہستہ یا جہر سے پڑھا تو معاف ہے۔ (بہار شریعت، ج 1، ص 714، مطبوعہ: مکتبۃ المدینہ، کراچی)
دوبارہ ہونے والی جماعت میں نئے لوگ کب شامل ہوسکتے ہیں اور کب نہیں؟ اس کے متعلق سیدی اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں: فرض کے ترک سے نماز فاسد ہوجاتی ہے اور واجب کے ترک سے مکروہ تحریمی، اور سنت موکدہ کا ترک بہت برا ہے اور غیر موکدہ کے ترک سے مکروہ تنزیہی، اور مستحب کے ترک سے غیر اولی، فرض کے ترک میں پھر پڑھنا فرض ہے کہ پہلی نماز اصلاً نہ ہوئی اور اس صورت میں نئے آدمی شامل ہوسکتے ہیں، اور واجب بھول کر چھوٹا تو سجدہ سہو کا حکم ہے اور قصداً چھوڑا یا بھول کر چھوٹا تھا مگر سجدہ سہو نہ کیا تو اعادہ واجب ہے اور سنت کے ترک میں سنت اور مستحب کے ترک میں مستحب اور ان سب صورتوں میں نئے آدمی شامل نہیں ہوسکتے۔ (فتاوی رضویہ، ج 7، ص 306، مطبوعہ: رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
یونہی فتاوی امجدیہ میں ہے: اگر اعادہ نماز بربنائے ترک واجب ہے یعنی نماز مکروہ تحریمی ہوئی ہے، تو نیا مقتدی فرض پڑھنے والا اس کےساتھ شریک نہیں ہوسکتا، کہ امام کا فرض ادا ہوچکا ہے ،مگر چونکہ ناقص طور پر ادا ہوا اس لئے اس نقصان کو دفع کرنے کے لیے اعادہ کرتا ہے۔ (فتاوی امجدیہ، ج 1، ص 169، مطبوعہ: مکتبۃ رضویہ، کراچی)
نماز شروع کرکے بلاعذر توڑنا حرام و گناہ ہے، جیساکہ بہار شریعت میں ہے: نماز توڑنا بغیر عذر ہو تو حرام ہے۔ (بہار شریعت، ج 1، ص 697، مطبوعہ: مکتبۃ المدینہ، کراچی)
تنبیہ: یاد رہے سری نماز میں اکثر سورہ فاتحہ جہراً پڑھنے سے پہلے اس کا سراً اعادہ کر لیا جائے یا جہری نماز میں اکثر سورہ فاتحہ سراً پڑھنے سے پہلے اس کا جہراً اعادہ کر لیا جائے تو واجب ہونے والا سجدہ سہو ساقط ہو جاتا ہے۔ مذکورہ صورت میں آپ نے سری نماز میں ڈیڑھ آیت جہرًا پڑھنے کے بعد دوبارہ اس کا سراً اعادہ نہیں کیا، تو لازم شدہ سجدہ سہو ادا کرنا واجب تھا ،اور سجدہ سہو نہ کرنے کی وجہ سے نماز واجب الاعادہ ہوئی، اگر آپ دوبارہ اس کا سرا اعادہ کرلیتے تو جو سجدہ سہو لازم ہوا تھا، سراً اعادہ کرنے کی وجہ سے ساقط ہوجاتا۔
فرض کی پہلی دو رکعتوں میں سورت سے پہلے فاتحہ کی تکرار نہ کرنا واجب ہے، اس کے متعلق تنویرالابصار و درمختار، واجبات نماز کے باب میں ہے: (وتقدیم الفاتحۃ علی)کل(السورۃ)وکذا ترک تکریرھا قبل سورۃ الاولیین۔ اور سورت پر فاتحہ کومقدم کرنا، اور اسی طرح پہلی دو رکعتوں میں سورت سے پہلے فاتحہ کی تکرار نہ کرنا (واجب ہے)۔
علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ درمختار کی عبارت (و کذاترک تکریرھا) تحت فرماتے ہیں: فلو قرا ھا فی رکعۃ من الاولیین مرتین وجب سجود السھو لتاخیر الواجب و ھو السورۃ کما فی الذخیرۃ وغیرھا،وکذا لو قرا اکثرھا ثم اعادھا کما فی الظھیریۃ۔ پس اگر فرض کی پہلی دو رکعتوں میں سے کسی رکعت میں دو بار فاتحہ پڑھی توواجب میں تاخیر کی وجہ سے سجدہ سہو واجب ہوگا اور وہ واجب، سورت ہےجیسا کہ ذخیرہ وغیرہ میں ہے، اور اسی طرح اگر اکثر سورت فاتحہ پڑھی پھر اس کا اعادہ کیا تو سجدہ سہو واجب ہوگا جیسا کہ ظہیریہ میں ہے۔ (تنویر الابصار و درمختار مع رد المحتار، ج 2، ص 187 تا 188، مطبوعہ: کوئٹہ)
جہری نماز میں بعض سورہ فاتحہ سراً پڑھ کر اس کا جہراً اعادہ کرنے سے سجدہ سہو ساقط ہوجائےگا جیساکہ سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں: لو خافت ببعض الفاتحۃ یعیدہ جھرا لان تکرار البعض لایوجب السھو ولا الاعادۃ و الاخفاء بالبعض یوجبہ فبالاعادۃ جھرا یزول الثانی و لایلزم الاول" یعنی: اگر بعض فاتحہ آہستہ قراءت کی تو وہ جہراً اس کا اعادہ کرے کیونکہ بعض کا تکرار سجدہ سہو اور نماز کے اعادہ کو واجب نہیں کرتا اور بعض کوآہستہ پڑھنا سجدہ سہو کو واجب کرتا ہے تو جہراً اعادہ کرنے سے دوسرا (نماز کے اعادہ کا وجوب) زائل ہوجاتا اور پہلا (سجدہ سہو کا وجوب) لازم نہیں رہتا۔ (جد الممتار، ج 3، ص 237، مطبوعہ: مکتبۃ المدینہ، کراچی)
حضرت علامہ محمدشریف الحق امجدی علیہ رحمۃ اللہ القوی فتاوی امجدیہ کے حاشیہ میں فر ماتے ہیں: آہستہ آہستہ سورہ فاتحہ پڑھتارہا، پھر بلند آواز سے پڑھنا شروع کیا، تو اگر سورہ فاتحہ کا اکثر حصہ پڑھ لیا تھا پھر شروع سے پڑھنا شروع کیا تو بھی سجدہ سہو واجب کہ یہ اکثرسورہ فاتحہ کی تکرار ہوئی اوریہ موجب سجدہ سہو ہے اگردونوں دفعہ بلا قصد سہوا ہوا ہو تو۔ اور اگر بالقصد تکرار کی تو اعادہ واجب اور اگر سورہ فاتحہ کا اکثر حصہ نہیں پڑھا تھا (اس سے پہلے ہی دوبارہ پڑھ کر درست کرلیا) تونہ سجدہ سہوہے نہ اعادہ۔ (فتاوی امجدیہ، ج 01، ص 282، مطبوعہ: مکتبہ رضویہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد نوید رضا عطاری مدنی
فتوی نمبر: Har-6666
تاریخ اجراء: 12 رجب المرجب 1446ھ / 13 جنوری 2025ء