کیا آنے والے شخص کے لیے امام رکوع کو لمبا کر سکتا ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
آنے والے مقتدی کے لیے امام کا رکوع کو طویل کرنا کیسا ؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ اگر امام رکوع میں ہو اور اسے محسوس ہو کہ کوئی جماعت میں شامل ہونے کے لئے آ رہا ہے، تو کیا امام اس کے لئے رکوع طویل کر سکتا ہے تاکہ وہ بھی جماعت میں شامل ہو کر موجودہ رکعت پا لے؟
جواب
اگر امام آنے والے کو پہچانتا ہے اور اس کی خاطر داری کے لئے رکوع طویل کرے، تو یہ مکروہ تحریمی ہے، البتہ اگر نہیں جانتا یا جانتا ہے، لیکن اس کی طرف رغبت کی وجہ سے طویل نہ کرے، بلکہ محض رکعت پانے میں اس کی مدد کا ارادہ ہو جو کسی نہ جاننے والے کے لئے بھی کر دیتا، تو معمولی مقدار میں رکوع طویل کرنا درست، بلکہ افضل ہے کہ نیکی پر اس کی مدد کرنا ہے، لیکن اس قدر بھی لمبا نہ کرے کہ دیگر مقتدیوں پر گراں گزرے کہ ایسا کرنا، مکروہ تحریمی ہے۔
بدائع الصنائع میں ہے: ’’ثم الامام اذا كان في الركوع، فسمع خفق النعل ممن دخل المسجد هل ينتظره ام لا؟ ۔۔۔۔قال الفقيه ابو الليث: ان كان الامام قد عرف الجائي فانه لا ينتظره، لانه يشبه الميل وان لم يعرفه فلا باس به، لان في ذلك اعانة على الطاعة‘‘ ترجمہ: پھر امام جب رکوع میں ہو اور مسجد میں داخل ہونے والے کے جوتوں کی آواز سنائی دے، تو اس کا انتظار کرے یا نہیں؟ ۔۔ (اس بارے میں) فقیہ ابو لیث (رحمۃ اللہ علیہ) فرماتے ہیں: اگر امام آنے والے کو جانتا ہے، تو اس کا انتظار نہ کرے، کیونکہ یہ اس طرح ہو گا گویا اس نے (عبادت میں غیر کی طرف) میلان کی وجہ سے ایسا کیا اور اگر نہ جانتا ہو، تو حرج نہیں کہ اس میں نیکی پر مدد کرنا ہے۔ (بدائع الصنائع، کتاب الصلوۃ، جلد 1، صفحہ 209، مطبوعہ بیروت)
در مختار میں ہے: ’’وكره تحريما اطالة ركوع او قراءة لادراك الجائي: اي ان عرفه والا فلا باس به‘‘ یعنی: رکوع یا قراءت کو آنے والے کی خاطر لمبا کرنا مکروہ تحریمی ہے، جبکہ اسے پہچانتا ہو ورنہ اس میں حرج نہیں۔
اس کے تحت رد المحتار میں ہے: ’’(قوله اي ان عرفه) ۔۔ لان انتظاره حينئذ يكون للتودد اليه لا للتقرب والاعانة على الخير (قوله والا فلا باس) اي وان لم يعرفه فلا باس به لانه اعانة على الطاعة، لكن يطول مقدار ما لا يثقل على القوم، بان يزيد تسبيحة او تسبيحتين على المعتاد۔۔اقول: قصد الاعانة على ادراك الركعة مطلوب۔۔فعلى هذا اذا قصد اعانة الجائي فهو افضل بعد ان لا يخطر بباله التودد اليه ولا الحياء منه ونحوه‘‘ یعنی: (جب جانتا ہو) کیونکہ اس صورت میں انتظار اس کی طرف رغبت کی وجہ سے ہو گا، نیکی اور بھلائی پر مدد کے لئے نہیں ہو گا، (ورنہ حرج نہیں) یعنی اگر اسے نہیں جانتا، تو اس میں حرج نہیں، کیونکہ یہاں نیکی پر مدد کرنا ہے، لیکن اس قدر طویل نہ کرے کہ مقتدیوں پر گراں گزرے، یوں کہ معمول کی تسبیحات سے ایک دو تسبیحات کا اضافہ کرے، ۔۔ میں کہتا ہوں کہ رکعت پانے پر مدد کا ارادہ مطلوب ہے، ۔۔تو اس وجہ سے اگر آنے والے کی مدد کا ارادہ کیا، تو یہ افضل ہے، لیکن یہ اس کی طرف رغبت اور اس سے حیاء وغیرہ کی وجہ سے نہ ہو۔ (ملتقطاً از رد المحتار مع در مختار، کتاب الصلوۃ، باب صفۃ الصلوۃ، جلد 1، صفحہ 495، مطبوعہ بیروت)
بہار شریعت میں ہے: ’’کسی آنے والے کی وجہ سے رکوع یا قراء ت میں طول دینا مکروہ تحریمی ہے، جب کہ اسے پہچانتا ہو یعنی اس کی خاطر ملحوظ ہو اور نہ پہچانتا ہو تو طویل کرنا افضل ہے کہ نیکی پر اعانت ہے، مگر اس قدر طول نہ دے کہ مقتدی گھبرا جائیں‘‘۔ (بہار شریعت، حصہ 3، صفحہ 526، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
مجیب: ابو تراب محمد علی عطاری
مصدق: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: pin-7780
تاریخ اجراء: 02 محرم الحرام 1448ھ/18 جون 2026ء