logo logo
AI Search

امام کے رکوع سے اٹھتے وقت مقتدی کیا کرے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

جماعت میں مقتدی کو رکوع سے کب اٹھنا چاہئے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جماعت میں جب امام رکوع سے اٹھتا ہے، تو کیا مقتدی کو امام کے ساتھ اٹھنا چاہیے، یا جب امام سیدھا کھڑا ہو جائے، یعنی قومہ میں آ جائے، تو پھر مقتدی رکوع سے اٹھنا شروع ہو؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں افضل یہ ہے کہ مقتدی ہر فعل، امام کے ساتھ ساتھ بجا لائے یعنی مقتدی کے ہر رکن کی ابتدا، امام کی ابتدا کے ساتھ، اور ہر رکن کا اختتام امام کے رکن کے اختتام کے ساتھ ہو، یہ عین طریقہ مسنونہ ہے، اسی کو فقہائے کرام نے افضل قرار دیا ہے، لہذا اسی کے مطابق عمل کیا جائے۔ اور اگر کسی نے امام کے مکمل رکوع سے اٹھ جانے کے بعد اٹھنا شروع کیا، تو یہ خلاف سنت ہے، لیکن اس کی نماز ہو جائے گی۔ رد المحتار علی الدر المختار میں ہے ”الحاصل ان المتابعۃ فی ذاتھا ثلثۃ انواع: مقارنۃ لفعل الامام مثل ان یقارن احرامہ لاحرام امامہ و رکوعہ لرکوعہ و سلامہ لسلامہ“ ترجمہ: حاصل یہ ہے کہ متابعتِ امام کی تین قسمیں ہیں، امام کےفعل سے مقارنت، مثلاً: امام کی تکبیرتحریمہ کے ساتھ تکبیر تحریمہ کہے، اس کے رکوع کے ساتھ رکوع کرے اور اس کے سلام کے ساتھ سلام پھیرے۔ (ردالمحتار علی الدر المختار، جلد 2، صفحہ 204، مطبوعہ کوئٹہ)

منحۃ السلوک فی شرح تحفۃ الملوک میں ہے ”(الأفضل مقارنة الإمام فی التكبير) هذا عند أبی حنيفة، وعندهما: يكبر بعد تكبيرة الإمام، قيل: الاختلاف فی الجواز، و الأصح أنه فی الأفضلية“ ترجمہ: امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے نزدیک افضل یہ ہے کہ مقتدی تکبیر کہنے میں امام کی مقارنت کرے یعنی اس کے ساتھ تکبیر کہے، جبکہ صاحبین کے نزدیک افضل یہ ہے کہ امام کی تکبیر کے بعد تکبیر کہے۔ ایک قول یہ ہے کہ اختلاف جواز میں ہے۔ لیکن اصح قول یہ ہےکہ اختلاف صرف افضلیت میں ہے۔ (منحۃ السلوک فی شرح تحفۃ الملوک، صفحہ 124، مطبوعہ: قطر)

امام اہلسنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: تحقیق مقام یہ ہے کہ متابعتِ امام جو مقتدی پر فرض میں فرض ہے، تین صورتوں کو شامل، ایک یہ کہ اس کا ہر فعل، فعلِ امام کے ساتھ کمال مقارنت پر محض بلا فصل واقع ہوتا رہے، یہ عین طریقہ مسنونہ ہے اور ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے نزدیک مقتدی کو اسی کا حکم۔ دوسرے یہ کہ اس کا فعل فعلِ امام کے بعد بدیر واقع ہو ۔ ۔ ۔ فرض یوں بھی ادا ہوجائے گا ۔ ۔ اگر بلا ضرورت فصل کیا تو قلیل فصل میں جس کے سبب امام سے جا ملنا فوت نہ ہو ترکِ سنت۔ (فتاوی رضویہ، ج 7، ص 274، 275، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-50321
تاریخ اجراء: 05 ذو الحجۃ الحرام 1446ھ / 22 مئی 2026ء