logo logo
AI Search

جمعہ کی سنتوں کے دوران خطبہ شروع ہو جائے تو کیا کریں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

جمعہ کی سنتیں پڑھتے ہوئے خطبہ شروع ہوجائے تو کیا حکم ہے ؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص جمعہ کی چار سنتیں پڑھ رہا ہو اور اِس دوران جمعہ کا عربی خطبہ شروع ہو جائے تو نمازی کیا کرے؟ کیا سنتوں کو مکمل کیا جائے گا یا نہیں؟

جواب

اگر کوئی شخص جمعہ کی سنتِ قبلیہ پڑھنا شروع کرے اور ابھی وہ سنتیں پڑھ رہا ہو کہ اِسی دوران خطیب صاحب عربی خطبہ شروع کر دیں، تو نمازی کو حکم ہے کہ وہ اپنی چار سنتیں مکمل کرے۔ سلام پھیر کر سنتوں کو درمیان میں چھوڑنا درست نہیں۔

زین الدین علامہ ابن نجیم مصری حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 970ھ/1562ء) لکھتے ہیں:  واختلفوا في السنة قبل الظهر أو الجمعة إذا ‌أقيمت أو ‌خطب الإمام فالصحيح أنه يتمها أربعا كما صرح به الولوالجي وصاحب المبتغى والمحيط ثم الشمني لأنها صلاة واحدة وليس القطع للإكمال بل للإبطال صورة ومعنى۔ ترجمہ: فقہاءِ احناف کا ظہر یا جمعہ سے قبل چار سنتوں کو مکمل کرنے یا نہ کرنے کے متعلق یوں اختلاف ہے کہ جب فرض نماز کے لیے اقامت شروع ہو جائے یا امام خطبہ دینے کے لیے کھڑا ہو جائے تو کیا کرنا چاہیے؟ صحیح قول یہی ہے کہ وہ اپنی چاروں رکعتیں مکمل کرے، جیسا کہ علامہ ولوالجی، صاحبِ مبتغی، صاحبِ محیط اور علامہ شُمنی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہم نےصراحت فرمائی۔ چار رکعت مکمل کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ چار سنتیں ایک ہی نماز ہے، لہذا اسے بیچ میں توڑ دینا نماز کو مکمل کرنا نہیں، بلکہ ظاہری اور معنوی دونوں اعتبار سے اسے باطل کرنا ہے۔ (بحرالرائق، جلد 02، صفحہ 76، مطبوعہ دار الکتاب الاسلامی)

”تنویر الابصار ودرالمختار“ میں ہے: (وكذا سنة الظهر و) سنة (الجمعة إذا أقيمت أو خطب الامام) يتمها أربعا (على) القول (الراجح)۔ ترجمہ: یونہی ظہر اور جمعہ کی سنتوں کا حکم ہے کہ اگر ان کی ادائیگی کے دوران فرض نماز کے لیے اقامت شروع ہو جائے یا امام خطبہ دینے لگے، تو راجح قول کے مطابق نمازی اپنی چاروں رکعتیں پوری کرے۔ (تنویر الابصار و درمختار، صفحہ 95، مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

”بہارِ شریعت“ میں ہے: جمعہ کی سنتیں شروع کی تھیں کہ امام خطبہ کے ليے اپنی جگہ سے اٹھا، چاروں رکعتیں پوری کرلے۔ (بھار شریعت، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 456، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)

یہ حکم شرعی اُس صورت میں ہے کہ پہلے سے سنتیں شروع کر دی تھیں اور بعد میں عربی خطبہ شروع ہوا تو اب سنتیں مکمل کر لے، اِس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ اگر خطبہ شروع ہو چکا ہو تو اب یہ سنتیں پڑھنا شروع کر دے، بلکہ دورانِ خطبہ سنتیں پڑھے گا تو گناہگار ہوگا، چنانچہ دورانِ خطبہ کسی درست اور بامقصد کلام کو بھی ناپسند قرار دیا گیا، چنانچہ  ”صحیح البخاری“ میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: إذا قلت لصاحبك يوم الجمعة أنصت والإمام يخطب فقد لغوت۔ ترجمہ: جب تو جمعہ کے دن اپنے ساتھ بیٹھے شخص کو کہے ”چپ کر جاؤ“ حالانکہ امام خطبہ دے رہا ہو، تو تم نے فضول گوئی کی۔ (صحیح البخاری، جلد 02، صفحہ 13، مطبوعہ دار طوق النجاۃ، بیروت)

اوپر روایت میں کلام کا ذکر ہے، مگر اِسی سے استدلال کرتے ہوئے صحابہ کرام نماز شروع کرنے کو بھی دورانِ خطبہ مکروہ جانتے تھے، چنانچہ شارِح بخاری، علامہ بدرالدین عینی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 855ھ/1451ء) لکھتے ہیں: عن علي وابن عباس وابن عمر، رضي اللہ تعالى عنهم، أنهم كانوا يكرهون الصلاة والكلام بعد خروج الإمام۔ ترجمہ: حضرت علی، حضرت ابن عباس اور حضرت ابن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُم سے روایت ہے کہ یہ حضرات امام کے آنے کے بعد نماز پڑھنے اور بات چیت کرنے کو مکروہ سمجھتے تھے۔ (عمدۃ القاری، جلد 06، صفحہ 240، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی، بیروت)

”بہارِ شریعت“ میں ہے: عین خطبہ کے وقت اگرچہ پہلا ہو یا دوسرا اور جمعہ کا ہو یا خطبہ عیدین یا کسوف و استسقا و حج و نکاح کا ہو، ہر نماز حتی کہ قضا بھی ناجائز ہے، مگر صاحب ترتیب کے ليے خطبہ جمعہ کے وقت قضا کی اجازت ہے۔ (بھار شریعت، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 456، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9917
تاریخ اجراء:21 شوال المکرم1447ھ/10 اپریل 2026