مکروہ وقت میں نفل نماز پڑھنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
مکروہ وقت میں نفل پڑھ لئے تو ان کی قضا کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کسی کو ریاض الجنۃ کا پرمٹ ملا، جس پہ فجر کے بعد کی ٹائمنگ تھی، فجر کی نماز کے بعد انہوں نے نوافل پڑھ لیے، بعد میں ان کو یہ احساس ہوا کہ فجر کی نماز کے بعد تو نوافل نہیں پڑھ سکتے، تو کیا یہ نوافل ہو گئے؟ اب ان کا کیا حکم ہے؟
جواب
فجر کی نماز کے بعد، فجر کے ٹائم میں جو نوافل پڑھے، ان کو دوبارہ پڑھنا واجب نہیں، لیکن فجر کے وقت میں نفل پڑھنا جائز نہیں تھا، اس لیے اس گناہ سے توبہ کرنا لازم ہے، ان کو چاہیے تھا کہ اس وقت میں ذکر و اذکار و تلاوت اور دعا میں مشغول رہتے، پھر جب طلوع آفتاب کو کم از کم بیس منٹ ہوجاتے، تو اب نوافل پڑھتے۔
اس کی تفصیل یہ ہے کہ فجر کے بعد نفل پڑھنا مکروہِ تحریمی، ناجائز و گناہ ہے، اس لیے اگر کسی نے شروع کر لیے، تو اس پر انہیں توڑنا، اور کامل وقت میں ان کی قضا کرنا واجب ہے، لیکن اگر اس نے اسی طرح مکمل کر لیے، تو نفل ادا ہوگئے، اور مکروہ وقت میں ادا کرنے کی وجہ سے گنہگار ضرور ہوگا، لیکن اس پر ان کی قضا واجب نہیں؛ کیونکہ مکروہ وقت میں شروع کرنے سے جس صفت کے ساتھ اس پر واجب ہوئے تھے، اس نے اسی صفت کے ساتھ اسے ادا کرلیا ہے۔
اس کی نظیر یہ ہے کہ تین اوقات مکروہہ (طلوع آفتاب، زوالِ آفتاب اور غروب آفتاب کے اوقات) میں کراہت زیادہ شدید ہے، اس کے باوجود اگر کوئی شخص ان اوقات میں نفل شروع کر کے مکمل کرلے، تو گنہگار تو ہوگا، لیکن اس پر ان نوافل کی قضا واجب نہیں، اور یہاں (فجر کے بعد کے مکروہ وقت میں) تو کراہت اس سے کم ہے، لہذا یہاں بدرجہ اولی قضا کا حکم نہیں ہوگا۔
فجر کی نماز کے بعد نوافل پڑھنا مکروہ تحریمی ہے، جیسا کہ درمختار میں علامہ علاؤ الدین علی حصکفی رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: ”كره نفل... بعد صلاة فجر“ یعنی فجر کی نماز کے بعد نفل پڑھنا مکروہ ہے۔
اس کے تحت علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: ”و الكراهة هنا تحريمية“ ترجمہ: یہاں کراہت سے مراد کراہتِ تحریمی ہے۔ (رد المحتارعلی الدر المختار، کتاب الصلوۃ، جلد 2، صفحہ 44، 45، مطبوعہ: کوئٹہ)
فجر کے بعد نفل شروع کر لیے توتین اوقات مکروہہ کی طرح یہاں بھی انہیں توڑنا اور کامل وقت میں قضاکرنا واجب ہے، جیسا کہ علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں:
و اعلم أن الأوقات المكروهة نوعان: الأول الشروق و الاستواء و الغروب. و الثاني ما بين الفجر و الشمس، و ما بين صلاة العصر إلى الاصفرار، فالنوع الأول لا ينعقد فيه شيء من الصلوات التي ذكرناها إذا شرع بها فيه، و تبطل إن طرأ عليها إلا صلاة جنازة حضرت فيها و سجدة تليت آيتها فيها و عصر يومه و النفل و النذر المقيد بها و قضاء ما شرع به فيها ثم أفسده، فتنعقد هذه الستة ۔۔۔ لكن مع وجوب القطع و القضاء في وقت غير مكروه: و النوع الثاني ينعقد فيه جميع الصلوات التي ذكرناها من غير كراهة، إلا النفل و الواجب لغيره فإنه ينعقد مع الكراهة، فيجب القطع و القضاء في وقت غير مكروه
ترجمہ: تو جان کہ مکروہ اوقات دو طرح کے ہیں: (1) پہلی قسم: طلوعِ آفتاب، زوال آفتاب اور غروب آفتاب کے اوقات ہیں۔ (2) اور دوسری قسم: طلوع فجر سے طلوع آفتاب کے درمیان اور عصر کی نماز سےسورج زرد ہونے تک کے اوقات ہیں۔ پس پہلی قسم (طلوعِ آفتاب، زوال آفتاب اور غروب آفتاب کے اوقات) میں مذکورہ کسی بھی قسم کی نماز شروع کرلی تو منعقد نہیں ہوگی، اور (پہلے سے) نماز پڑھتے ہوئے ان اوقات میں سے کوئی وقت آگیا تو نماز باطل ہو جائے گی، سوائے: (1) اسی وقت میں حاضرکردہ میت کی نمازجنازہ کے، (2) اور اسی وقت میں تلاوت کی گئی آیت سجدہ کے، (3) اور اس دن کی عصر کے، (4) اور نفل نماز کے، (5) اور اسی وقت کے ساتھ مقید نذر کے، (6) اور سوائے اس نماز کے جو اسی وقت میں شروع کی پھر اسے فاسد کر دیا، کہ یہ چھ چیزیں منعقد ہو جائیں گی، لیکن انہیں توڑنا اور غیر مکروہ وقت میں قضا کرنا واجب ہے۔ اور دوسری قسم (طلوع فجر سے طلوع آفتاب کے درمیان اور عصر کی نماز سےسورج زرد ہونے تک کے دورانیے) میں مذکورہ تمام نمازیں بلاکراہت منعقد ہو جائیں گی، سوائے نفل اور واجب لغیرہ کے، کہ یہ کراہت کے ساتھ منعقد ہوں گے، لہذا انہیں توڑنا اور کامل وقت میں قضا کرنا واجب ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الصلوۃ، جلد 2، صفحہ 42، مطبوعہ کوئٹہ)
اگر اوقات ثلاثہ میں نفل نماز توڑنے کی بجائے نماز مکمل کرلی تو گنہگار ہوگا لیکن قضا واجب نہیں، جیسا کہ غنیۃ المستملی میں ہے: ”و لکن مع ھذا لو لم یقطع بل تمم شفعا فقد اساء، لمخالفۃ النھی الواجب الامتثال و یکون آثما کتارک الواجب بالامر و مع ھذا لا شیء علیہ ای لیس علیہ قضاء تلک الصلوۃ لانۃ قد اتی بھا کما وجبت علیہ۔ و لو شرع فی النافلۃ فی الوقتین ای بعد طلوع الفجر الی طلوع الشمس و بعد صلاۃ العصر الی تغیرھاثم افسدلزمہ القضاء، و لا فائدۃ فی افراد ھذا بالذکر اذ قد فھم بالطریق الاولی مما قبلہ لانہ اذاکان بالشروع فی الاوقات الثلاثۃ مع شدۃ الکراھۃ فیھا قد امرہ بالقضاء اذا قطعھا ففیما سواھا بالطریق الاولی" ترجمہ: لیکن اس کے باجود (کہ اس پر شروع کرنے کے بعد توڑنا واجب تھا) اگر اس نے نہ توڑا بلکہ شفع (جفت) میں نفل کو مکمل کرلیا تو اس نے برا کیا، اس نہی کی مخالفت کی وجہ سے جس کی پیروی واجب تھی، اور وہ گنہگار ہوگا، جیسے امر کے ذریعے واجب ہونے والی چیز کو ترک کرنے والا (گنہگار ہوتا ہے)۔ اور اس کے باوجود اس پر کچھ لازم نہیں یعنی اس نفل نماز کی قضا واجب نہیں؛ کیونکہ اس نے اسے اسی صفت پر ادا کیا، جس پروہ واجب ہوئی تھی (یعنی ناقص واجب ہوئی اور ناقص ہی ادا کیا)۔ اور اگر اس نے ان دو اوقات یعنی طلوع فجر سے طلوع آفتاب تک اور عصر کی نماز کے بعد سے سورج متغیر ہونے تک (کے دورانیہ) میں نفل نماز شروع کردی، پھر اسے فاسد کردیا تو اس پر قضالازم ہے، اور اس بات کو الگ سے ذکر کرنے کا کوئی فائدہ نہیں؛ کہ اس سے پہلے والی بات سے یہ بدرجہ اولی مفہوم ہورہا تھا؛ کیونکہ مذکورہ بالاتین اوقات میں جب اس نے نفل نماز شروع کرکے توڑدی تو اسے قضا کا حکم دیا گیا ہے، باوجود اس کے کہ ان (تین اوقات) میں کراہت کی شد ت ہے، لہذا ان تین کے علاوہ بقیہ اوقات میں بدرجہ اولی یہی حکم ہو گا (کہ جب نفل شروع کر کے توڑ دیے، تو اس کی قضا لازم ہو گی۔) (غنیۃ المستملی، وقت الصلوۃ، صفحہ 214، مطبوعہ: کوئٹہ)
جس طرح فجرکے وقت میں شروع کرکے توڑے جانے والے نوافل کا حکم تین اوقات مکروہہ میں شروع کیے گئے نوافل سے بدرجہ اولی اخذ کیا گیا ہے، اسی طرح فجرکے وقت میں شروع کرکے مکمل کیے جانے والے نوافل کا حکم بھی، تین اوقات مکروہہ میں شروع کرکے مکمل کیے گئے، نوافل سے بدرجہ اولی اخذ کیا جائے گا۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا عبد الرب شاکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4911
تاریخ اجراء: 27 شوال المکرم 1447ھ / 16 اپریل 2026ء