امام کے ساتھ ایک مقتدی ہو تو وہ کہاں کھڑا ہوگا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
امام کے ساتھ صرف ایک ہی مقتدی ہو تو جماعت کے لیے وہ کہاں کھڑا ہوگا؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میں جس مسجد میں امام ہوں وہاں آبادی کم ہونے کی وجہ سے نمازیوں کی تعداد بہت کم ہوتی ہے، اکثر صرف ایک ہی مقتدی ہوتا ہے، لیکن گمان ہوتا ہے کہ جماعت کے دوران، ایک دو آدمی مزید بھی آ جائیں گے اس لئے جب جماعت قائم ہوتی ہے تو میں امامت کے لئے آگے کھڑا ہوتا ہوں اوراس ایک مقتدی کو پیچھے صف میں کھڑا کرتا ہوں تاکہ مزید اگر مقتدی آئیں تو وہ اس کے ساتھ شامل ہوتے جائیں، اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جماعت کے دوران مزید کوئی مقتدی نہیں آتا، کبھی کبھار دوسرے مقتدی بھی شامل ہوجاتے ہیں، سوال یہ ہے کہ ایک آدمی کا پیچھے صف بنا کر کھڑا ہونا، گناہ تو نہیں ہے؟
جواب
مسلمانوں کی جتنی بھی آبادی ہو، کم ہو یا زیادہ، مسجدِ محلہ کی جماعتِ اولی سے فرض نماز کی ادائیگی ہر عاقل بالغ صحیح مسلمان مرد پر واجب ہے۔ ایسےمسلمان جن پر مسجد کی جماعت واجب ہے، اگر وہ سستی کی وجہ سے مسجد نہیں آتے اور یوں اکثر صرف ایک ہی مقتدی ہوتا ہے تو یہ نہایت افسوسناک معاملہ ہے کہ اس طرح کی سستی معاذ اللہ مسجد کی ویرانی کا سبب ہوتی ہے، لہذا مسلمانوں پرلازم ہے کہ وہ مسجد میں آکر جماعت کے ساتھ فرض نماز ادا کریں۔
مقتدی جب ایک ہی ہو تو اس کیلئے سنت یہ ہے کہ وہ امام کے ساتھ ہی امام کے دائیں جانب اس طرح کھڑا ہو کہ اس کے پاؤں کا ٹخنہ نماز کی کسی بھی حالت میں امام کے پاؤں کے ٹخنے سے آگے نہ ہونے پائے۔ اگر ایک مقتدی امام کے ساتھ کھڑا ہونے کی بجائے امام کے پیچھے صف بنا کرکھڑا ہوگیا یا امام کے دائیں جانب کی بجائے بائیں جانب کھڑا ہو گیا تو یہ گناہ تو نہیں ہے مگر خلافِ سنت اور مکروہ تنزیہی ہے۔
لہذا پوچھی گئی صورت میں سنت کی رعایت کرتے ہوئے افضل و بہتر یہی ہے کہ جب ایک ہی مقتدی ہے تو وہ پیچھے کھڑا نہ ہو بلکہ امام کے ساتھ ہی اوپر بیان کی گئی تفصیل کے مطابق کھڑا ہو، پھر اگرجماعت کے دوران، دوسرا مقتدی آ جائے تو امام کے ساتھ کھڑا ہونے والا مقتدی، خود ہی پیچھے ہٹ جائے یا نئے آنے والے مقتدی کے اشارے کے بعد، اس کا حکم ماننے کی نیت سے نہیں بلکہ شریعت کے حکم پر عمل کرنے کی نیت سے پیچھے ہٹ کر اس کے ساتھ صف بنا کر کھڑا ہوجائے کہ سنت یہی ہے کہ جب دو مقتدی ہوجائیں تو اب وہ پیچھے صف بنا کرکھڑے ہوں۔
مسجدِ محلہ کی جماعت واجب ہے۔ صحیح بخاری، صحیح مسلم اور سنن ابی داؤد کی حدیث پاک ہے: ”واللفظ لابی داؤد: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لقد هممت أن آمر بالصلاة فتقام، ثم آمر رجلا يصلی بالناس، ثم أنطلق معی برجال معهم حزم من حطب الى قوم لا يشهدون الصلاة، فاحرق عليهم بيوتهم بالنار“ ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے ارادہ کیا کہ میں باجماعت نماز قائم کرنے کا حکم دوں، پھر کسی شخص کو نماز پڑھانے پر مقرر کروں اور اپنے ساتھ کچھ ایسے مرد جن کے پاس لکڑیوں کے گٹھے ہوں، ان کو لے کران لوگوں کے پاس جاؤں جو نماز میں حاضر نہیں ہوتے اور ان کے گھروں کو جلا دوں۔ (سنن ابی داؤد، صفحہ 182، حدیث نمبر 548، مطبوعہ بیروت)
اس حدیث کی شرح میں علامہ بدر الدین محمود بن احمد العینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”وفی المفيد: الجماعة واجبة وتسميتها سنۃ لوجوبها بالسنة“ ترجمہ: مفید میں ہے کہ جماعت واجب ہے، اسے سنت اس لئے کہا گیا کہ اس کا وجوب سنت یعنی حدیث سے ثابت ہے۔ (شرح سنن ابی داؤد جلد 2، صفحہ198، مطبوعہ بیروت)
ایک مقتدی ہو تو اس کیلئے سنت یہ ہے کہ وہ امام کے ساتھ ہی امام کے دائیں جانب کھڑا ہو۔ بخاری شریف میں ہے: ”عن ابن عباس رضی الله عنهما، قال: نمت عند ميمونة والنبی صلى الله عليه وسلم عندها تلك الليلة فتوضأ، ثم قام يصلی، فقمت على يساره، فأخذنی، فجعلنی عن يمينه“ ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنھما سے روایت ہے، فرمایا کہ میں ام المؤمنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنھا کے گھر ایک رات سویا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس رات وہیں قیام فرمایا، رات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا پھر نماز ادا فرمانے لگے، میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے کیلئے آپ کے بائیں جانب کھڑا ہوگیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے ہاتھ سے اپنی دائیں جانب کھڑا کردیا۔ (بخاری شریف، صفحہ 329، حدیث نمبر 698، مطبوعہ بیروت)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”جب صرف ایک مقتدی ہو تو سنت یہی ہے کہ وہ امام کے برابر داہنی طرف کھڑا ہو مگر اس کا لحاظ فرض ہے کہ قیام، قعود، رکوع، سجود کسی حالت میں اس کے پاؤں کا گِٹّا امام کے گِٹّے سے آگے نہ بڑھے، اسی احتیاط کیلئے امام محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ فرماتے ہیں کہ یہ اپنا پنجہ، امام کی ایڑی کے برابر رکھے۔“ (فتاوی رضویہ جلد 7، صفحہ 201، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)
ایک مقتدی کا امام کے بائیں یا پیچھے کھڑا ہونا مکروہ ہے۔ درمختار میں ہے: ”فلو وقف عن يساره كره (اتفاقا وكذا) يكره (خلفه على الأصح) لمخالفة السنة“ ترجمہ: اگر اکیلا مقتدی، امام کے بائیں جانب کھڑا ہو تو بالاتفاق مکروہ ہے، اصح قول کے مطابق یہی حکم اس وقت بھی ہے جب وہ امام کے پیچھے کھڑا ہو، کہ اس نے سنت کی مخالفت کی۔ (درمختار جلد 2، صفحہ 308، مطبوعہ بیروت)
یہاں مکروہ سے مراد مکروہ تنزیہی ہے۔ درمختار کی عبارت ”كره اتفاقا “ کے تحت طوالع الانوار اور حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار میں ہے: ”واللفظ للآخر“ أی تنزیھا لقول محمد: ان صلی خلفہ جازت، وکذا ان وقف عن یسارہ وھو مسیء“ ترجمہ: یعنی یہاں کراہت سے مراد کراہت تنزیہی ہے کیونکہ امام محمد رحمہ اللہ نے اس مسئلے کو ان الفاظ کے ساتھ ذکر فرمایا ہے: اگر امام کے پیچھے اکیلے مقتدی نے نماز پڑھی تو یہ جائز ہے، اسی طرح اگر وہ امام کے بائیں جانب کھڑا ہو، البتہ اس نے برا کیا۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار جلد2، صفحہ270، مطبوعہ بیروت)
طوالع الانوار میں درمختار کے الفاظ ”لمخالفة السنة “ کے تحت مزید فرمایا: ”قد علمت أن ترک السنۃ مکروہ تنزیھا۔“ ترجمہ: تو نے جان لیا کہ سنت کا ترک مکروہ تنزیہی ہے۔ (طوالع الانوار مخطوطہ جلد2، صفحہ39)
پیچھے ہٹنے والا مقتدی شریعت کے حکم پر عمل کی نیت سے پیچھے ہٹے گا۔ امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: تحقیق منقح اس مسئلہ میں یہ ہے کہ نماز میں جس طرح اللہ عزوجل اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا، دوسرے سے کلام کرنا مفسد ہے، یوں ہی اللہ عزوجل و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی کا کہنا ماننا۔ پس اگر ایک شخص نے کسی نمازی کو پیچھے کھینچا یا آگے بڑھنے کو کہا اور وہ اُس کا حکم مان کر پیچھے ہٹا، نماز جاتی رہی، اگرچہ یہ حکم دینے والا نیت باندھ چکا ہو اور اگر اس کے حکم سے کام نہ رکھا بلکہ مسئلہ شرع کے لحاظ سے حرکت کی تو نماز میں کچھ خلل نہیں، اگرچہ اس کہنے والے نے نیت نہ باندھی ہو، اس لئے بہتر یہ ہے کہ اس کے کہتے ہی فوراً حرکت نہ کرے بلکہ ایک ذرہ تامل کرلے تاکہ بظاہر غیر کے حکم ماننے کی صورت بھی نہ رہے۔ (فتاوی رضویہ جلد7، صفحہ60، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)
دو مقتدی ہوں تو سنت یہ ہے کہ امام کے پیچھے صف بنائیں۔ بخاری شریف میں ہے: ”عن أنس بن مالك رضی الله عنه، قال: صلى النبی صلى الله عليه وسلم فی بيت أم سليم، فقمت ويتيم خلفه وأم سليم خلفنا“ ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام سلیم رضی اللہ عنھا کے گھر میں نماز ادا فرمائی، میں نے اور ایک یتیم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف بنائی اور ام سلیم رضی اللہ عنھا نے ہمارے پیچھے صف بنائی۔ (بخاری شریف، صفحہ361، حدیث نمبر871، مطبوعہ بیروت)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اگر دو مقتدی ہوں تو اگرچہ سنت یہی ہے کہ پیچھے کھڑے ہوں، پھر بھی اگر امام کے داہنے بائیں، برابر کھڑے ہوجائیں گے، حرج نہیں۔“ (فتاوی رضویہ جلد7، صفحہ201، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو محمد محمد فراز عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: OKR-0253
تاریخ اجراء:19 شوال المکرم 1447ھ/08 اپریل 2026 ء