اذان دیتے وقت کانوں میں انگلیاں ڈالیں یا ہاتھ رکھیں؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اذان دیتے وقت کانوں میں انگلیاں ڈالنی ہیں یا کانوں کے اوپر ہاتھ رکھنے ہیں ؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
بعض مؤذنین اذان دیتے وقت اپنی انگلیاں کانوں کے اندر داخل کرتے ہیں، جبکہ بعض صرف کانوں پر ہاتھ رکھ لیتے ہیں اور انگلیاں اندر نہیں ڈالتے۔رہنمائی فرمائیں کہ درست طریقہ کونسا ہے؟
جواب
اذان کہتے وقت کانوں میں انگلیاں ڈالنا اور کانوں پر ہاتھ رکھنا دونوں ہی طریقے شرعاً جائز اور درست ہیں، البتہ کانوں میں انگلیاں ڈال کر اذان کہنا مستحب و احسن یعنی زیادہ اچھا ہے، کیونکہ یہ عمل نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے فرمان سے ثابت ہے اور اس میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ کان بند ہونے کی وجہ سے مؤذن کو محسوس ہوتا ہے کہ آواز پوری طرح بلند نہیں ہوئی، جس کے نتیجے میں وہ زیادہ بلند آواز سے اذان دیتا ہے لیکن اس حکمت کے ساتھ یہ خیال رکھنا ضروری ہے کہ فی زمانہ اذان لاؤڈ اسپیکر پر دی جاتی ہے اور اس کے اپنے والیم کا حساب ہوتا ہے، زیادہ اونچی آواز دینے سے لوگوں کو تکلیف پہنچنے کا بھی اندیشہ ہے۔
تنویر الابصار و درمختار میں ہے: ”(ویجعل) ندبا (اصبعیہ فی) صماخ (اذنیہ) فاذانہ بدونہ حسن وبہ احسن“ ترجمہ: مؤذِّن استحبابی طور پر اپنی دونوں انگلیوں کو کانوں کے سوراخوں پر رکھے، البتہ ایسا کیے بغیر بھی اذان اچھی ہے، لیکن اگر انگلیاں رکھ کر اذان دی جائے، تو پھر احسن اور بہت اچھا عمل ہے۔
مذکورہ عبارت کے الفاظ”ویجعل اصبعیہ“ کے تحت علامہ ابنِ عابدین شامی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1252ھ/1836ء) لکھتے ہیں: ”لقوله صلى اللہ عليه وسلم لبلال رضي اللہ عنه «اجعل أصبعيك في أذنيك فإنه أرفع لصوتك» وإن جعل يديه على أذنيه فحسن؛ لأن أبا محذورة رضي اللہ عنه ضم أصابعه الأربعة ووضعها على أذنيه وكذا إحدى يديه۔۔۔ والأمر أي في الحديث المذكور للندب بقرينة التعليل، فلذا لو لم يفعل كان حسنا“ ترجمہ: کیونکہ نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا حضرت بلال رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے لیے فرمان تھا: ”اپنی دونوں انگلیوں کو کانوں میں رکھ لو کہ یہ عمل تمہاری آواز اونچی کرنے میں مددگار ہو گا“ اور اگر ہاتھوں کو کانوں پر رکھ دیا جائے، تو یہ بھی اچھا ہے، کیونکہ حضرت ابو محذورہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اپنی چاروں انگلیوں کو ملاتے اور اپنے کانوں پر رکھ لیتے، یونہی صرف ایک ہاتھ کو بھی رکھ لینا درست ہے۔ اور حدیثِ بلال میں دیا جانے والا حکم بیانِ علّت کے قرینہ کے سبب استحباب کے لیے ہے، لہذا اگر کوئی ایسا نہ بھی کرے، تو پھر بھی وہ طریقۂ اذان بہتر اور اچھا ہے۔ (تنویر الابصار و در مختار مع رد المحتار، جلد 02، صفحہ 67، مطبوعہ کوئٹہ)
امامِ اہلِ سنَّت، امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ”اذان میں انگلیاں کان میں رکھنا مسنون ومستحب ہے۔“ (فتاوٰی رضویہ، جلد 05، صفحہ 373، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1367ھ/1947ء) لکھتے ہیں: ”اَذان کہتے وقت کانوں کے سوراخ میں انگلیاں ڈالے رہنا مستحب ہے اور اگر دونوں ہاتھ کانوں پر رکھ ليے تو بھی اچھا ہے۔ اور اوّل احسن ہے کہ ارشادِ حدیث کے مطابق ہے اور بلندی آواز میں زیادہ معین۔ کان جب بند ہوتے ہیں آدمی سمجھتا ہے کہ ابھی آواز پوری نہ ہوئی، زیادہ بلند کرتا ہے۔“ (بہار شریعت، ج 01، ص 470، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9916
تاریخ اجراء:22 شوال المکرم 1447ھ/11 اپریل 2026 ء