logo logo
AI Search

قضا عصر یاد آئے تو صاحب ترتیب سنتیں توڑے یا جاری رکھے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

صاحب ترتیب کو سنتیں پڑھتے ہوئے قضا نماز یاد آجائے تو کیا حکم ہے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ صاحبِ ترتیب شخص کی نمازِ عصر قضا ہوگئی، اس نے بھول کر مغرب اور عشاء ادا کرلی، عشاء کے فرض پڑھنے کے بعد سنتیں ادا کر رہا تھا کہ اسے قضا شدہ عصر یاد آ گئی، تو ایسی صورت میں کیا وہ سنتیں جاری رکھے گا یا انہیں توڑ کر پہلے عصر ادا کرنی ہوگی؟ نیز نمازِ مغرب اور عشاء کے فرائض ادا ہو جائیں گے یا ان کو دوہرانا ہوگا؟

سائل: عامر شہزاد (راولپنڈی)

جواب

پوچھی گئی صورت میں صاحبِ ترتیب شخص عشاء کی سنتیں جاری رکھے گا، سنتیں توڑنے کی اجازت نہیں، البتہ (وقت میں گنجائش ہو، تو) وتر کی ادائیگی سے قبل قضا عصر ادا کرنی ہو گی، نیز اس کی مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا ہوگئیں، انہیں دوہرانے کی حاجت نہیں۔

تفصیل اس مسئلہ کی یہ ہے کہ صاحب ترتیب شخص پر پانچ فرائض (فجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشاء)، یونہی فرض اور وتر کے درمیان بھی ترتیب کا خیال رکھنا فرض ہے، یعنی صاحبِ ترتیب کی اگر کوئی فرض نماز قضا ہو جائے، تو وقت میں گنجائش ہونے کی صورت میں پہلے قضا ادا کرے گا، پھر وقتی پڑھے گا، یونہی وتر قضا ہوگئے، تو ان کی ادائیگی سے قبل فجر نہیں پڑھ سکتا، کیونکہ وتر بھی فرض عملی ہے، لہذا ترتیب لازم ہونے کے معاملہ میں یہ بھی فرائض کے ساتھ شامل ہے۔ البتہ یہ ترتیب وقت کی تنگی اور نسیان (یعنی بھول جانے) کے سبب ساقط ہو جاتی ہے۔ اب پوچھی گئی صورت میں جب اس نے قضا شدہ عصر کو بھول کر مغرب اور پھر عشاء کے فرائض وغیرہ ادا کر لئے، تو ترتیب ساقط ہوجانے کی وجہ سے اس کی یہ نمازیں ادا ہوگئیں، پھر جب اسے سنتوں میں قضا نماز یاد آئی، تو سنتوں میں کوئی خلل واقع نہیں ہوا، کیونکہ ترتیب تو پانچ فرائض اور فرض و وتر میں ہی لازم ہے، فرض اور سنن میں واجب نہیں، لہذا وہ سنتیں مکمل کرے گا، البتہ وتر سے قبل قضا ادا کرنی ہوگی کہ فرض و وتر کے مابین بھی ترتیب کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

صاحبِ ترتیب کے لئے فرائض و وتر میں ترتیب واجب ہے۔ درر الحکام میں ہے: ’’(الترتيب بين الفروض الخمسة و الوتر أداء و قضاء فرض عملي)۔۔ يعني أن الكل إن كان فائتا لا بد من رعاية الترتيب بين الفروض الخمسة، و كذا بينها و بين الوتر، و كذا إن كان البعض فائتا و البعض وقتيا لا بد من رعاية الترتيب فيقضي الفائتة قبل الوقتية‘‘ ترجمہ: پانچ فرائض کے درمیان اور وتر میں ترتیب فرضِ عملی ہے چاہے یہ ادا ہوں یا قضا،۔۔ یعنی اگر یہ تمام نمازیں بھی قضا ہو جائیں، تو پانچ فرائض اور یونہی فرض و وتر کے مابین ترتیب کا خیال رکھنا ضروری ہے اور اسی طرح اگر ان میں سے بعض قضا ہوں اور بعض وقتی تو ان میں بھی ترتیب کی رعایت ضروری ہے، پس وقتی نماز سے قبل قضا ادا کرنی ہوگی۔ (درر الحکام، کتاب الصلوۃ، باب قضاء الفوائت، جلد 1، صفحہ 124، مطبوعہ بیروت)

وتر اور دیگر فرائض میں بھی ترتیب ضروری ہے، کیونکہ یہ بھی فرضِ عملی ہے۔ چنانچہ بحر الرائق میں ہے: ’’لا يقدم الوتر على العشاء لوجوب الترتيب بين العشاء و الوتر و لأنهما فرضان عند الإمام و إن كان أحدهما اعتقادا و الآخر عملا ۔۔۔۔ و أشار إلى أن الترتيب بينه و بين غيره واجب عنده كما سيصرح به في باب الفوائت‘‘ ترجمہ: وتر کو عشاء پر مقدم نہیں کیا جائے گا، کہ عشاء اور وتر میں ترتیب واجب ہے اور اس لئے بھی کہ امام اعظم (رحمۃ اللہ علیہ) کے نزدیک یہ دونوں ہی فرض ہیں، اگرچہ عشاء فرضِ اعتقادی ہے اور وتر فرضِ عملی۔۔۔ اس (علت) میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ وتر اور دیگر فرائض میں بھی ترتیب کا خیال رکھنا امام اعظم کے نزدیک واجب ہے، جیسا قضا نمازوں کے بیان میں صراحت کر دی جائے گی۔ (بحر الرائق، کتاب الصلوۃ، جلد 1، صفحہ 259، مطبوعہ بیروت)

اسی لئے اگر کسی کے وتر قضا ہو گئے، تو اس سے پہلے فجر ادا کرنا، جائز نہیں۔ بدائع الصنائع میں ہے: ’’من صلى الفجر و هو ذاكر أنه لم يوتر و في الوقت سعة لا يجوز عنده؛ لأن الواجب ملحق بالفرض في العمل فيجب مراعاة الترتيب بينه و بين الفرض‘‘ اگر کسی نے فجر کی نماز پڑھی، جبکہ اسے یاد تھا کہ وتر نہیں پڑھے اور وقت میں وسعت بھی ہو، تو امام اعظم کے نزدیک فجر پڑھنا جائز نہیں، کیونکہ واجب بھی عملاً فرض کے ساتھ ملحق ہوتا ہے، پس اس کے اور فرض کے مابین ترتیب کی رعایت واجب ہے۔ (بدائع الصنائع، کتاب الصلوۃ، جلد 1، صفحہ 272، مطبوعہ بیروت)

بہار شریعت میں ہے: صاحبِ ترتیب کے ليے اگر یہ یاد ہے کہ نماز وتر نہیں پڑھی ہے اور وقت میں گنجائش بھی ہے تو فجر کی نماز فاسد ہے، خواہ شروع سے پہلے یاد ہو یا درمیان میں یاد آجائے۔ (بھار شریعت، حصہ 4، صفحہ 653، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

نسیان سے ترتیب ساقط ہو جاتی ہے۔ تبیین الحقائق میں ہے: ’’(و يسقط) أي الترتيب (بضيق الوقت والنسيان وصيرورتها ستا) أي بصيرورة الفوائت ستا وبكل واحد من هذه الثلاثة يسقط الترتيب‘‘ ترجمہ: وقت کی تنگی، نسیان اور (علاوہ وتر) چھ نمازیں قضا ہو جانے سے ترتیب ساقط ہو جائے گی، ان تینوں میں سے ہر ایک سے ترتیب ساقط ہو جائے گی۔ (تبیین الحقائق، کتاب الصلوۃ، باب قضاء الفوائت، جلد 1، صفحہ 186، مطبوعہ قاہرہ)

اس لئے بھولے سے اگلی نماز پڑھی، تو ہو جائے گی۔ فتاوی قاضی خان میں ہے: ’’لو تذکر صلاۃ قد نسیھا بعد ما ادی وقتیۃ، جازت الوقتیۃ، و لا یظھر الترتیب عند النسیان‘‘ ترجمہ: اگر وقتی نماز ادا کرنے کے بعد قضا یاد آئی، تو وقتی جائز ہے، اور نسیان کے وقت ترتیب کے احکام ظاہر نہ ہوں گے۔ (فتاوی قاضی خان، کتاب الصلوۃ، باب قضاء الفوائت، جلد 1، صفحہ 104، مطبوعہ کراچی)

فرائض اور سنن / نوافل میں ترتیب واجب نہیں۔ بحر الرائق میں ہے: ’’لا ترتیب بین الفرائض والسنن حتی لو تذکر فائتۃ فی تطوعہ لم یفسد تطوعہ، لانہ عرف واجباً فی الفرض بخلاف القیاس، فلا یلحق بہ غیرہ‘‘ ترجمہ: فرائض اور سنن میں ترتیب لازم نہیں، حتی کہ اگر کسی کو نفل ادا کرتے ہوئے قضا نماز یا دآ جائے، تو اس کے نفل فاسد نہیں ہوں گے، کیونکہ فرائض وغیرہ میں ترتیب کا واجب ہونا خلاف قیاس جانا گیا ہے، پس اس کے ساتھ غیر کو ملحق نہیں کریں گے۔ (البحر الرائق، کتاب الصلاۃ، باب قضاء الفوائت، جلد 1، صفحہ 97، مطبوعہ دار الکتاب الاسلامی)

یونہی بدائع الصنائع میں ہے:’’ان مراعاۃ الترتیب یختص بالفرائض دون التطوعات حتی لو شرع فی التطوع، ثم تذکر فائتۃ مکتوبۃ لم یفسد تطوعہ و لو کان فی الفرض تفسد الفریضۃ‘‘ ترجمہ: بے شک ترتیب کی رعایت فرائض کے ساتھ خاص ہے، نوافل کے ساتھ نہیں، حتی کہ اگر کسی نے نفل شروع کر لئے، پھر فرض نماز یاد آگئی، تو اس کے نفل فاسد نہیں ہوں گے اور اگر فرض میں یاد آیا، تو فرض باطل ہو جائیں گے۔ (بدائع الصنائع، کتاب الصلوۃ، باب صلوۃ التطوع، جلد 1، صفحہ 299، مطبوعہ بیروت)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Pin-7629
تاریخ اجراء: 23 صفر المظفر 1447ھ / 18 اگست 2025ء