عمامہ کے ساتھ جمعہ 70 جمعے کے برابر ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عمامہ کے ساتھ جمعہ، بغیر عمامہ کے ستر جمعوں کے برابر ہے، اس روایت کی تحقیق
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا اس طرح کی کوئی حدیث ہے کہ عمامہ کے ساتھ ایک جمعہ بغیر عمامہ کے ستر جمعوں کے برابر ہے؟ اور کیا وہ من گھڑت ہے؟
جواب
جی ہاں! سوال میں ذکر کردہ روایت، کتب حدیث میں موجود ہے، اور یہ روایت من گھڑت نہیں ہے، بلکہ ضعیف ہے، جو فضائل میں مقبول ہے۔ فتاوٰی رضویہ میں ہے فضل صلاۃ بالعما مۃ میں احادیث مروی، وہ اگر چہ ضعاف ہیں مگر دربارہ فضائل ضعاف مقبول اور عند التحقیق ان پر حکم بالوضع محل کلام ۔۔۔۔۔ ابن عساکر و الدیلمی و ابن النجار عن ابن عمر رضی ﷲ تعالٰی عنھما قال سمعت رسول ﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم یقول صلاۃ تطوع او فریضۃ بعمامۃ تعدل خمسا و عشرین صلاۃ بلا عمامۃ و جمعۃ بعمامۃ تعدل سبعین جمعۃ بلا عمامۃ (یعنی ایک نماز نفل ہو یا فرض، عمامہ کے ساتھ پچیس نماز بے عمامہ کے برابر ہے اور ایک جمعہ عمامہ کے ساتھ ستّر جمعہ بے عمامہ کے ہمسر۔) فیہ مجاھیل قلت و لیس فیھم کذاب و لا وضاع و لامتھم بہ و لا فیہ ما یردہ الشرع او یحیلہ العقل وقد اوردہ السیوطی فی الجامع الصغیر۔ (اس میں مجہول راوی ہیں۔میں کہتا ہوں: ان میں سے کوئی بھی کذاب اور وضّاع (حدیث گھڑنے والا) نہیں اور نہ ہی کوئی متہم بالوضع ہے اور نہ اس میں کوئی ایسی چیز ہے جس کو شریعت رد کرتی ہو یا اسے عقل محال تصور کرتی ہو، اور اسے امام سیوطی نے جامع صغیر میں نقل کیا ہے۔) (فتاوی رضویہ،ج 06، ص 203، 204، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد حسان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4914
تاریخ اجراء: 03 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 21 اپریل 2026ء