فجر کی نماز چھوڑنے والے کی اقتداء کرنا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
پانچ نمازوں میں سے ایک نماز نہ پڑھنے والا امامت کروا سکتا ہے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
جان بوجھ کر ایک وقت کی بھی نماز ترک کرنا، سخت ناجائز و حرام، اور گناہ کبیرہ ہے، اور اس کا مرتکب فاسق، اور عذاب نار کا حق دار ہے، لہذا جو شخص جان بوجھ کر فجر کی نماز نہیں پڑھتا، وہ فاسق معلن ہے، ایسا شخص امامت کا اہل نہیں ہے، اس کو امام بنانا گناہ ہے، اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی، پڑھ لی تو دوبارہ پڑھنا واجب ہے۔
درمختا ر میں ہے "تاركها عمدا مجانة أي تكاسلا فاسق" ترجمہ: جان بوجھ کر محض سستی کی بنا پہ نماز ترک کرنے والا فاسق ہے۔ (درمختا رمع رد المحتار، جلد 2، صفحہ 8، مطبوعہ: کوئٹہ)
فاسق کو امام بنانے کے متعلق غنیۃ المستملی میں ہے "لوقدموافاسقایاثمون،بناءعلی ان کراھۃ تقدیمہ کراھۃ تحریم" ترجمہ: اگر لوگوں نے فاسق کو امام بنایا، تو وہ گنہگار ہوں گے، کیونکہ اس کو مقدم کرنا مکروہ تحریمی ہے۔ (غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی، ص 442، مطبوعہ: کوئٹہ)
کراہت تحریمی کے ساتھ ادا کی گئی نماز کو دہرانے کے متعلق در مختار ميں ہے "كل صلاة أديت مع كراهة التحريم تجب إعادتها" ترجمہ: کراہت تحریمی کے ساتھ ادا کی گئی ہر نماز کا دہرانا واجب ہے۔(در مختار مع رد المحتار، جلد 2، صفحہ 182، مطبوعہ: کوئٹہ)
بہارِ شریعت میں ہے ”ایمان و تصحیح عقائد مطابق مذہب اہل سنت و جماعت کے بعد نماز تمام فرائض میں نہایت اہم و اعظم ہے۔ قرآن مجید و احادیث نبی کریم علیہ الصلوٰۃ و التسلیم اس کی اہمیت سے مالا مال ہیں، جا بجا اس کی تاکید آئی اور اس کے تارکین پر وعید فرمائی۔ ۔ ۔ جو قصداً (نماز)چھوڑ ے اگرچہ ایک ہی وقت کی وہ فاسِق ہے۔“ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 433، 443، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
امامِ اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں: ”امام میں چند شرطیں ہیں: اولاً قرآنِ عظیم ایسا غلط نہ پڑھتا ہو، جس سے نماز فاسد ہو۔ دوسرے وضو، غسل، طہارت صحیح رکھتا ہو۔ سوم سنی صحیح العقیدہ ہو،بدمذہب نہ ہو۔ چہارم فاسقِ معلن نہ ہو، اسی طرح اور امور منافیِ امامت سے پاک ہو۔ ملخصا۔“ (فتاویٰ رضویہ، جلد 6، صفحہ 543، رضا فاونڈیشن، لاہور)
امامِ اہلِ سُنَّت، امام اَحْمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: "کبیرہ کا علانیہ مرتکب فاسق معلن اور فاسق معلن کو امام بنانا گناہ اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی کہ پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجب۔ فتاویٰ حجہ میں ہے: لو قدموا فاسقا یاثمون (اگر انھوں نے فاسق کو مقدم کیا، تو گنہ گار ہوں گے۔) تبیین الحقائق میں ہے: لان فی تقديمه للامامة تعظيمه و قد وجب عليهم اهانته شرعا (کیونکہ امامت کے لئے فاسق کی تقدیم میں اس کی تعظیم ہے، حالانکہ اس کی اہانت شرعاً واجب ہے)۔" (فتاوی رضویہ، جلد 06، صفحہ 600، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو شاہد مولانا محمد ماجد علی مدنی
فتوی نمبر: WAT-5377
تاریخ اجراء: 21 ربیع الاول 1448ھ / 04 ستمبر 2026ء