قعدہ اولیٰ میں بیٹھتے ہی امام کھڑا ہو جائے تو مقتدی کیا کرے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
قعدہ اولیٰ میں بیٹھتے ہی امام کھڑا ہو جائے تو مقتدی کے لیے کیا حکم ہے ؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
امام صاحب قعدہ اولیٰ میں تھے، میں آکر نماز میں شامل ہوا، تو جیسے ہی میں قعدہ میں بیٹھا، امام صاحب تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہوگئے، لیکن پھر بھی میں نے التحیات مکمل کی اور مکمل کر کے تیسری رکعت کے قیام میں امام صاحب کے ساتھ شامل ہوا۔ سوال یہ ہے کہ کیا میرا ایسا کرنا درست تھا؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں آپ نے بالکل درست کیا کہ ایسی صورت میں تشہد پڑھ کر امام کی پیروی کرنا ہی مطلوب تھا، کیونکہ اصول یہ ہے کہ فرائض اور واجبات میں بلا تاخیر امام کی پیروی کرنا واجب ہے، لیکن اگر پیروی کی وجہ سے کوئی واجب نا مکمل ادا ہو رہا ہو یا بالکل ترک ہو رہا ہو، تو حکمِ شرعی یہ ہے کہ پہلے واجب کو ادا کرے اور پھر امام کی اتباع کرے، چنانچہ صورتِ مسئولہ میں بھی چونکہ امام کے کھڑے ہو جانے کے باوجود آپ نے تشہد مکمل کی اور پھر امام کے ساتھ تیسری رکعت میں شامل ہوئے، لہٰذا آپ کا ایسا کرنا درست تھا۔
مذکورہ صورت میں تشہد پڑھ کر کھڑا ہونا ہی مطلوب تھا، چنانچہ علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1252ھ/1836ء) لکھتے ہیں:
”شمل بإطلاقه ما لو اقتدى به في أثناء التشهد الأول أو الأخير، فحين قعد قام إمامه أو سلم، ومقتضاه أنه يتم التشهد ثم يقوم ولم أره صريحا، ثم رأيته في الذخيرة ناقلا عن أبي الليث: المختار عندي أنه يتم التشهد“
ترجمہ: اِس (درِ مختار میں مذکور مسئلہ) کے اطلاق میں یہ صورت بھی شامل ہے کہ اگر کسی نے پہلے یا دوسرے تشہد کے دوران امام کی اقتدا کی، تو اسی وقت امام تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہوگیا یا سلام پھیر دیا اور اس مسئلہ کا تقاضا ہے کہ یہ شخص تشہد کو مکمل کرکے کھڑا ہوگا اور میں نے اس کی صراحت کہیں نہیں دیکھی، پھر میں نے اس مسئلہ کو ”الذخیرۃ“ میں امام ابو لیث سے منقول دیکھا: (فرماتے ہیں کہ) میرے نزدیک مختار یہی ہے کہ وہ تشہد کو مکمل کرے گا۔ (ردالمحتار، کتاب الصلاۃ، جلد 2، صفحہ 244، مطبوعہ کوئٹہ)
اِس کی وجہ یہ ہے کہ نماز کے فرائض اور واجبات میں بغیر کسی تاخیر کے امام کی پیروی کرنا واجب ہے، لیکن اگر پیروی کی وجہ سے کوئی واجب نا مکمل یا ترک ہو رہا ہو، تو اُس واجب کی ادائیگی کرنے کے بعد اتباع ضروری ہوگی۔ اِس اصول کو علامہ اَحمد طَحْطاوی حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1231ھ/1815ء) نے یوں لکھا:
”أن متابعة الامام في الفرائض والواجبات من غير تأخير واجبة، فإن عارضها واجب آخر لا ينبغي أن يفوت ذلک الواجب، بل يأتي به، ثم يتابع“
ترجمہ: فرائض اور واجبات میں بلا تاخیر امام کی اتباع کرنا واجب ہے، البتہ اگر کوئی دوسرا واجب معارض آجائے، تو مقتدی اُس واجب کو ترک نہیں کرے گا، بلکہ اسے ادا کرکے امام کی پیروی کرے گا۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، صفحہ 255، مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
امامِ اہلِ سُنَّت، امام اَحْمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ”مقتدی قعدہ اولیٰ میں آکر ملا اس کے شریک ہوتے ہی امام کھڑا ہوگیا، اب اسے چاہیے کہ التحیات پوری پڑھ کر کھڑا ہو اور کوشش کرے کہ جلد جاملے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 07، صفحہ 275، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9759
تاریخ اجراء: 08 شعبان المعظم 1447ھ/28 جنوری 2026ء