کرسی پر نماز پڑھنا کب جائز ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
کرسی پر نماز پڑھنا کب جائز ہے اور کب نہیں؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کےبارے میں کہ میری والدہ کے گھٹنوں میں کافی عرصے سے شدید درد ہے، جس کی وجہ سے انہوں نے فتویٰ لیا تھا، تو انہیں سنتیں، نوافل بیٹھ کر (زمین پر سجدہ حقیقی کے ساتھ) پڑھنے کی اجازت ملی تھی، اب دو ماہ پہلے گھٹنے میں بہت شدید بل پڑگیا، تو ڈاکٹر نے کہا ہے کہ گھٹنوں میں گیپ ہے، اس لیے آپ کرسی پربیٹھ کر نماز پڑھیں۔ اب تکلیف بہت زیادہ ہے اور فرائض بھی کھڑے ہوکر پڑھنا مشکل ہے اور جو سنتیں وغیرہ زمین پر بیٹھ کر اداکرتی تھیں وہ بھی چار رکعت سے زیادہ نہیں پڑھی جاتیں، تکلیف بڑھ جاتی ہے، تو کیا اب انہیں کرسی پر اشارے سے نماز پڑھنے کی اجازت ہوگی؟ اور اگر کوشش کرکے فرائض وغیرہ زمین پر بیٹھ کر سجدے کے ساتھ پڑھ لیں تو سنتیں، اشارے سے پڑھ سکتی ہیں؟ اور کیا رمضان المبارک میں تراویح بھی اشارے سے پڑھنے کی رخصت ہے؟ نیز اگر قضا نمازیں پڑھیں، تو ان کا کیا حکم ہوگا؟ مختصر یہ کہ والدہ کی کوئی ایک مخصوص کیفیت نہیں ہے، بلکہ کبھی کچھ قیام کر لیتی ہیں، تو کبھی مشکل ہو جاتی ہے اور کسی وقت زمین پر سجدہ کر لیتی ہیں اور کبھی زمین پر سجدہ بھی نہیں ہوتا، بلکہ اشارے سے نماز پڑھ سکتی ہیں۔
جواب
بیان کردہ تفصیلات کے مطابق چونکہ آپ کی والدہ کی ایک مخصوص حالت نہیں، لہٰذا ان کے لیے مختلف احوال میں مختلف احکام ہوں گے، جو بالتفصیل بیان کیے جا رہے ہیں:
اگر آپ کی والدہ زمین یا زمین پر رکھی ہوئی ایسی سخت چیز جس کی اونچائی بارہ انگل (9 انچ) سے زیادہ نہ ہو،اس پر بھی سجدہ نہ کر سکتی ہوں یا سجدہ تو کر سکتی ہوں، لیکن اس طرح سجدہ کرنے سے ناقابل برداشت تکلیف ہو گی یا مرض بڑھ جائے گا یا دیر سے اچھا ہوگا، تو اس صورت میں وہ فرائض و واجبات، سنن و نوافل اور ادا وقضا ہر طرح کی نماز کرسی پر بیٹھ کر اشارے سے ادا کر سکتی ہیں۔
اور اگر وہ زمین پر یا زمین پر رکھی ہوئی ایسی سخت چیز جس کی اونچائی بارہ انگل سے زیادہ نہ ہو، اس پر سجدہ کر سکتی ہوں، تو اس کی دو صورتیں ہوں گی:
(1) جن نمازوں میں قیام فرض ہے (یعنی فرض، واجب اور سنتِ فجر) ان میں جتنی دیر قیام کر سکتی ہوں، اتنا قیام کریں، اگر خود کھڑی نہ ہو سکتی ہوں، عصا یا دیوار وغیرہ کے سہارے کھڑی ہو سکتی ہوں، تو جتنی دیر اس طرح کھڑا ہونا ممکن ہو، اتنی دیر قیام فرض ہوگا، حتی کہ تکبیرِ تحریمہ ہی کھڑے ہو کر کہنے کی قدرت ہو، تو اتنا ہی قیام فرض ہوگا، پھر جب قیام پر قدرت ختم ہوجائے، تو کرسی پر بیٹھ کر نماز جاری رکھیں اور سجدہ زمین پر کریں اور جب زمین پر سجدہ کی بھی قدرت نہ رہے یا اس سے تکلیف یا مرض بڑھ جانے یا دیر سے اچھا ہونے کا صحیح اندیشہ ہو، تو کرسی یا زمین پر جیسے آسانی ہو، بیٹھ کر اشارے سے بھی پڑھ سکتی ہیں۔
(2) اور جن نمازوں میں قیام فرض نہیں (یعنی سنتِ فجرکے علاوہ تراویح یا دیگر سنن و نوافل) ان میں ابتداءً ہی کرسی یا زمین پر جیسے آسانی ہو، بیٹھ کر نماز پڑھ سکتی ہیں، لیکن جب تک زمین پر سجدہ کرنے کی قدرت ہو، زمین پر ہی سجدہ کرنا ہو گا اور جب زمین پر سجدہ کرنے کی بھی قدرت نہ رہے یا اس سے تکلیف یا مرض بڑھ جانے کا صحیح اندیشہ ہو، تو رکوع و سجود کے لیے اشارہ بھی کر سکتی ہیں۔
یاد رہے! اشارے سےسجدہ کرنے کی تمام صورتوں میں جب سجدے کا اشارہ کریں، تو سجدے میں رکوع کی بنسبت سر زیادہ جھکائیں، اگر سجدے کے لیے رکوع سے زیادہ سر نہ جھکایا، تو نماز نہیں ہوگی۔
حقیقی سجدے پر قدرت ہو، تو بقدرِ قدرت قیام فرض ہےاور جب سجدے پر قدرت ہی نہ ہو تو اشارے سے بھی نماز پڑھ سکتے ہیں، چنانچہ صحیح بخاری ، سنن ابی داؤد، سنن ابن ماجہ، مسند احمد، سنن الکبری للبیہقی و غیرہا کتبِ احادیث میں ہے،
و اللفظ للاوّل: عن عمران بن حصين رضي اللہ عنہ قال: كانت بي بواسير، فسألت النبي صلى اللہ عليه و سلم عن الصلاة، فقال: صل قائما، فإن لم تستطع فقاعدا، فإن لم تستطع فعلى جنب
ترجمہ: حضرت عمران بن حصین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ مجھے بواسیر کا مرض تھا، تو میں نے نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ سے (اس مرض میں) نماز پڑھنے کے متعلق سوال کیا تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اگر تمہیں اس کی طاقت نہ ہو ،تو بیٹھ کر پڑھو اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو، تو کروٹ کے بل لیٹ کر پڑھو۔ (صحيح البخاري، أبواب تقصير الصلاة، جلد 1، صفحه 376، مطبوعہ دمشق)
مذکورہ حدیث پاک کے تحت علامہ بدرالدین عینی حنفیرَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 855ھ / 1451ء) لکھتےہیں:
و بهذا الحديث استدل أصحابنا أن المريض إذا عجز عن القيام صلى قاعدا يركع ويسجد، فإن لم يستطع الركوع و السجود أومأ إيماء قاعدا، وجعل سجوده أخفض من ركوعه... و أما كيفية القعود فيما إذا صلى قاعدا فبحسب طاقته وتمكنه. اختلف أصحابنا في حد المرض الذي يبيح الصلاة قاعدا...وأصح الأقاويل:أن يلحقه ضرر بالقيام، وإذا كان قادرا على بعض القيام دون تمامه كيف يصنع؟ قال الفقيه أبو جعفر: يؤمر بأن يقوم مقدار ما يقدر، فإذا عجز قعد، حتى إذا كان قادرا على أن يكبر قائما ولا يقدر على القيام للقراءة، أو قادرا على القيام ببعض القراءة دون تمامها، قالوا: يؤمر بأن يكبر قائما ويقرأ ما يقدر عليه قائما، ثم يقعد إذا عجز. وبه أخذ شمس الأئمة الحلواني
ترجمہ: اسی حدیث سے ہمارے فقہائے احناف نے استدلال کیا ہے کہ مریض جب قیام سے عاجز ہو، تو بیٹھ کر رکوع و سجود کے ساتھ نماز ادا کرے، اگر رکوع و سجود کی بھی طاقت نہ ہو، تو بیٹھ کر اشارے سے پڑھے اور سجدے کو رکوع سے زیادہ پست کرے۔ اور رہا بیٹھ کر نماز پڑھنے کی صورت میں بیٹھنے کا طریقہ تو وہ اس کی طاقت اور قدرت کے مطابق ہوگا۔ ہمارے فقہا کا اس مرض کی حد میں اختلاف ہے جو بیٹھ کر نماز پڑھنے کو جائز کرتا ہے، اصح قول یہ ہے کہ قیام کے ساتھ نماز پڑھنے میں ضرر لاحق ہو (تو بیٹھ کر نماز پڑھنے کی رخصت ہوگی)۔ اور اگر وہ شخص قیام کے کچھ حصے پر قادر ہو ،نہ کہ مکمل پر تو وہ کیا کرے؟ فقیہ ابو جعفر نے فرمایا: اس کو حکم دیا جائے گا کہ جتنے قیام پر قادر ہو، اتنا قیام کرے، پھر جب عاجز ہو جائے تو بیٹھ جائے، یہاں تک کہ اگر وہ کھڑے ہو کر صرف تکبیرِ تحریمہ کہہ سکتا ہو اور کھڑے ہو کر قراءت نہ کر سکتا ہو، یا قیام کے ساتھ کچھ قراءت کر سکتا ہو، مکمل کی قدرت نہ ہو، تو فقہائے کرام نے فرمایا: اسے حکم دیا جائے گا کہ کھڑے ہو کر تکبیر تحریمہ کہے اور جتنی قراءت کھڑے ہو کر کرنے پر قادر ہے کرے، پھر جب عاجز آجائے تو بیٹھ جائے اور اسی کو شمس الآئمہ امام حلوانی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اختیار کیا۔ (شرح سنن أبي داود للعيني، کتاب الصلاۃ، باب في صلاة القاعد، جلد 4، صفحه 225، 226، مطبوعه ریاض)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
اذا عجز المریض عن القیام صلی قاعدا یرکع و یسجد کذا فی الھدایۃ... و لو کان قادرا علی بعض القيام دون تمامه يؤمر بان یقوم قدر ما یقدر حتی اذا کان قادرا علی ان یکبر قائما... یؤمر بان یکبر قائما... و ان عجز عن القیام و الرکوع و السجود و قدر علی القعود یصلی قاعدا بایماء و یجعل السجود اخفض من الرکوع
ترجمہ: جب مريض قيام سے بالکل عاجز ہو جائے ، تو بیٹھ کر رکوع و سجود کے ساتھ نماز پڑھے، جیسا کہ ہدایہ میں ہے اور اگر مکمل قیام پر قدرت تو نہ ہو، لیکن بعض قیام پر قادر ہو، تو اسے حکم دیا جائے گا کہ جتنے پر قادر ہے اتنا قیام کرے، یہاں تک کہ اگر وہ صرف تکبیر تحریمہ کھڑے ہوکر کہنے پر قادر ہو، تو اسے حکم دیا جائے گا کہ تکبیر تحریمہ کھڑے ہوکر کہے (پھر بیٹھ جائے) اور اگر کوئی شخص کھڑے ہونے اور رکوع و سجدہ کرنے سے عاجز ہوجائے اور بیٹھنے پر قادر ہو تو ایسا شخص بیٹھ کر اشارے کے ساتھ نماز پڑھے اور سجدے کے اشارے کورکوع سے پست رکھے۔ (فتاویٰ عالمگیری، جلد 1، کتاب الصلاۃ، صفحہ 149، 150، مطبوعہ کوئٹہ)
رکوع و سجود دونوں پر قدرت نہ ہو یا صرف سجدہ پر قدرت نہ ہو، تو قیام ساقط ہوجاتا ہے، چنانچہ تنویر الابصار و در مختار میں ہے:
(و ان تعذرا) لیس تعذرھما شرطا بل تعذر السجود کاف (أومأ قاعدا) و ھو افضل من الایماء قائما (و یجعل سجودہ اخفض من رکوعہ) لزوما
ترجمہ: اور اگر رکوع و سجود دونوں نہیں کرسکتا، بلکہ دونوں پر قدرت نہ ہونا شرط نہیں، صرف سجدہ کرنے پر قدرت نہ ہونا ہی کافی ہے، تو (اگر سجدہ پر قدرت نہ ہو، توبھی) بیٹھ کر اشارے سے نماز پڑھے اور بیٹھ کر اشارے سے پڑھنا، کھڑے ہوکر اشارہ کرکے پڑھنے سے افضل ہے اور اس صورت میں سجدے کے اشارے کو رکوع سے پست رکھنا ضروری ہے۔ (تنویر الابصار و در مختار، جلد 2، صفحہ 684، 685، مطبوعہ کوئٹہ)
سنتِ فجر کے علاوہ سنن و نوافل میں قیام کی رخصت ہے، لیکن زمین پر سجدہ کی قدرت ہو، تو اس کی رخصت نہیں، چنانچہ بدائع الصنائع، بحر الرائق اور فتاویٰ عالمگیری وغیرہا کتبِ فقہ میں ہے،و اللفظ للبحر:
ان المتنفل یتخیر بین القیام و القعود و لا یتخیر بین الایماء و السجود
ترجمہ: نفل پڑھنے والے کو قیام اور قعود میں اختیار ہے، لیکن اشارہ اور سجدہ میں اختیار نہیں۔ (بحر الرائق، کتاب الصلاۃ، جلد 1، صفحہ 387، مطبوعہ دار الكتاب الاسلامي)
فتاوی تاتارخانیہ میں ہے:
لو صلی التطوع بالایماء من غیر عذر لایجوز لعدم ارکان الصلاۃ
ترجمہ: اگر کسی نے بلا عذر نفل نماز اشارہ سے پڑھی، تو یہ جائز نہیں، کیونکہ اس میں نماز کے ارکان مکمل نہیں ہوتے۔ (فتاوی تاتارخانیہ، جلد 1، صفحہ 399، مطبوعہ بیروت)
حالتِ مرض میں نماز کی صورتوں کو بالتفصیل بیان کرتے ہوئے امامِ اہلِ سنّت الشاہ امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: آج کل بہت جہال ذرا سی بے طاقتیِ مرض یا کبر سن میں سرے سے بیٹھ کر فرض پڑھتے ہیں، حالانکہ
اولاً: ان میں بہت ایسے ہیں کہ ہمت کریں تو پورے فرض کھڑے ہو کر ادا کر سکتے ہیں، اور اس ادا سے نہ ان کا مرض بڑھے نہ کوئی نیا مرض لاحق ہو نہ گر پڑنے کی حالت ہو نہ دوران سر (چکر آنا) وغیرہ کوئی سخت الم شدید ہو، صرف ایک گونہ مشقت و تکلیف ہے جس سے بچنے کو صراحۃً نمازیں کھوتے ہیں۔ ہم نے مشاہدہ کیا ہے کہ وہی لوگ جنہوں نے بحیلۂ ضعف و مرض فرض بیٹھ کر پڑھے اور وہی باتوں میں اتنی دیر کھڑے رہے کہ اُتنی دیر میں دس بارہ رکعت ادا کر لیتے، ایسی حالت میں ہر گز قعود کی اجازت نہیں، بلکہ فرض ہے کہ پورے فرض قیام سے ادا کریں۔ کافی شرح وافی میں ہے:
ان لحقہ نوع مشقۃ لم یجز ترک القیام
(اگر اسے کچھ مشقت لاحق ہو تو قیام ترک کرنا جائز نہ ہوگا)۔
ثانیاً: مانا کہ انہیں اپنے تجربہ سابقہ، خواہ کسی طبیب مسلمان حاذق عادل مستور الحال غیر ظاہر الفسق کے اخبار، خواہ اپنے ظاہر حال کے نظر صحیح سے جو کم ہمتی و آرام طلبی پر مبنی نہ ہو، بظن غالب معلوم ہے کہ قیام سے کوئی مرض جدید یا مرض موجود شدید و مدید ہوگا، مگر یہ بات طول قیام میں ہوگی، تھوڑی دیر کھڑے ہونے کی یقیناً طاقت رکھتے ہیں تو ان پر فرض تھا کہ جتنے قیام کی طاقت تھی اتنا ادا کرتے، یہاں تک کہ اگر صرف اللہ اکبر کھڑے ہو کر کہہ سکتے تھے تو اتنا ہی قیام میں ادا کرتے، جب وہ غلبۂ ظن کی حالت پیش آتی تو بیٹھ جاتے، یہ ابتدا سے بیٹھ کر پڑھنا اب بھی ان کی نماز کا مفسد ہوا۔
ثالثاً: ایسا بھی ہوتا ہے کہ آدمی اپنے آپ بقدر تکبیر بھی کھڑے ہونے کی قوت نہیں رکھتا مگر عصا کے سہارے سے یا کسی آدمی خواہ دیوار پر تکیہ لگا کر کل یا بعض قیام پر قادر ہے تو اس پر فرض ہے کہ جتنا قیام اس سہارے یا تکیہ کے ذریعے سے کر سکے بجا لائے، کل تو کل یا بعض تو بعض، ورنہ صحیح مذہب میں اس کی نماز نہ ہوگی۔... یہ سب مسائل خوب سمجھ لیے جائیں، باقی اس مسئلہ کی تفصیل تام و تحقیق ہمارے فتاوی میں ہے جس پر اطلاع نہایت ضرور و اہم کہ آج کل نا واقفی سے جاہل تو جاہل بعض مدعیانِ علم بھی ان احکام کا خلاف کر کے ناحق اپنی نمازیں کھوتے اور صراحۃً مرتکب گناہ و تارک صلوۃ ہوتے ہیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 6، صفحه 160، 161، رضا فاؤنڈیشن،لاھور)
بہار شریعت میں ہے: کھڑا ہو سکتا ہے،مگر رکوع و سجود نہیں کر سکتا یا صرف سجدہ نہیں کرسکتا مثلاً: حلق وغیرہ میں پھوڑا ہے کہ سجدہ کرنے سے بہے گا، تو بھی بیٹھ کر اشارہ سے پڑھ سکتا ہے، بلکہ یہی بہتر ہے اور اس صورت میں یہ بھی کرسکتا ہے کہ کھڑے ہو کر پڑھے اور رکوع کے ليے اشارہ کرے یا رکوع پر قادر ہو تو رکوع کرے، پھر بیٹھ کر سجدہ کے ليے اشارہ کرے۔۔۔ اشارہ کی صورت میں سجدہ کا اشارہ رکوع سے پست ہونا ضروری ہے۔۔۔ اور سجدہ کے ليے زيادہ سر نہ جھکایا تو ہوا ہی نہیں۔ (بھار شریعت، جلد 1، صفحہ 721، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9774
تاریخ اجراء: 11 شعبان المعظم1447ھ / 31 جنوری2026ء