logo logo
AI Search

کیا قضا نماز میں تہجد کی نیت کرسکتے ہیں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قضا نماز میں تہجد کی نیت کرنے کا شرعی حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

ایک شخص کے ذمہ کئی قضا نمازیں ہیں جن کی ادائیگی وہ باقاعدگی سے کر رہا ہے اور ساتھ ہی تہجد کی نماز کا بھی اہتمام رکھتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر وہ تہجد کے وقت بیدار ہو کر قضا نمازیں ادا کرے اور ساتھ تہجد کی نیت بھی شامل کر لے، تو کیا اس صورت میں قضا نمازوں کی ادائیگی کے ساتھ تہجد  کے نوافل بھی ہو جائیں گے یا نہیں؟

جواب

احکامِ شریعت کی رُو سے ایک ہی نماز میں قضا اور نفل دونوں کی نیت نہیں ہو سکتی۔ اگر کوئی شخص ایک ہی نماز میں فرض و نفل دونوں کی نیت کر لے، تو شرعاً وہ صرف فرض نماز ادا ہوگی، نفل نماز ادا نہیں ہوگی، کیونکہ فرض و نفل دونوں جدا جدا مستقل حیثیت رکھتے ہیں اور اصول یہ ہے کہ جب ایک ہی نیت میں دو مستقل عبادات کو جمع کیا جائے اور ان میں سے ایک اقوی ہو، تو اس کی نیت درست قرار پائے گی اور ادنی کی نیت لغو ہو جائے گی، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں قضا نمازوں میں تہجد کی نیت نہیں کی جا سکتی۔ اگر کسی نے دونوں کی نیت کر لی، تو صرف قضا نمازیں ہوں گی، تہجد کے نوافل نہیں ہوں گے۔

جب ایک نیت میں دو مستقل عبادات جمع کی جائیں اور ان میں سے ایک زیادہ قوی ہو، تو شرعاً اسی کی نیت معتبر ہوتی ہے، جیسا کہ علامہ احمد بن محمد طَحْطاوی حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1231ھ/1815ء) لکھتے ہیں:

”الضابط أنه إذا جمع بين عبادتين في نية واحدة فإن كانت  إحداهما أقوى كان شارعًا فيها“

 ترجمہ: ضابطہ یہ ہے کہ جب دو عبادتوں کو ایک نیت میں جمع کرے، تو اگر ان میں سے ایک اقوی ہو، تو وہ اسی کو شروع کرنے والا قرار پائے گا۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار، صفحہ 113، مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

مذکورہ اُصول کی بنا پر اگر کسی شخص نے ایک ہی نماز میں فرض و نفل دونوں کی نیت کی، تو شرعاً وہ صرف فرض نماز ادا ہوگی، چنانچہ الاشباہ و النظائر اور درمختار و غیرہ کتبِ فقہیہ میں ہے، واللفظ للآخر: ”لو فرضاً و نفلاً فللفرض“ یعنی اگر کسی شخص نے فرض و نفل دونوں کی نیت کی، تو صرف فرض نماز ہوئی۔  

مذکورہ بالا عبارت کے تحت علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1252ھ/1836ء) لکھتے ہیں:

”اذا جمع بین فرض و تطوع فانہ یکون مفترضا عندھما لقوتہ“

ترجمہ: جب کسی شخص نے فرض اور نفل کی نیت کو جمع کیا، تو شیخین عَلَیْہِمَا الرَّحْمَۃ کے نزدیک فرض کے قوی ہونے کی وجہ سے وہ فرض ادا کرنے والاہوگا۔ (ردالمحتار مع الدرالمختار، کتاب الصلاۃ، جلد 2، صفحہ 155، مطبوعہ کوئٹہ)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1367ھ/1947ء) لکھتے ہیں: ”دو نمازوں کی ایک ساتھ نیت کی اس میں چند صورتیں ہیں:۔۔۔(۷) اور ایک فرض، دوسری نفل، تو فرض ہوئے۔“ (بھارِ شریعت، جلد 01، حصہ 03، صفحہ 499، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9757
تاریخ اجراء: 07 شعبان المعظم 1447ھ/27 جنوری 2026ء