logo logo
AI Search

بدبودار بدن یا کپڑوں کے ساتھ نماز پڑھنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بدبودار جسم یا کپڑوں میں نماز پڑھی تو دوبارہ پڑھنا لازم ہے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ بدبو دار بدن، منہ یا کپڑے کے ساتھ پڑھی گئی نماز واجب الاعادہ ہے یا نہیں؟

جواب

نماز اللہ تعالیٰ سے مناجات ہے جس کے لیے بہترین حالت اپنانا مطلوب ہے، جبکہ بدبو کے ساتھ نماز کی ادائیگی اس کے تعظیم و تقدس کے خلاف ہے، لہذا جب منہ، بدن یا لباس سے گندی بو آ رہی ہو تو نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے اور ایسی نماز کا اعادہ واجب ہے، البتہ ایسی بدبو جو شدید اور ایذا دہ نہیں ہوتی مثلاً خالی پیٹ ہونے کی وجہ سے یا ہلکے پسینے کی وجہ سے معمولی بو وغیرہ تو اس کا حکم ایسا سخت نہیں، مگر اسے بھی حتی المقدور دور کرنا چاہیے؛ کہ یہی ادب ہے، یوں ہی اگر کسی شخص کو عذر ہو مثلاً گندہ دہنی کے مرض والا تو وہ بھی معذور ہے اور اس پر اعادہ بھی نہیں لیکن یہ یاد رہے کہ ایذا دہ بدبو خواہ منہ سے ہو یا بدن و لباس سے، اور اپنے قصد سے ہو یا مرض سے، بہرصورت اس کے ساتھ مسجد میں داخلہ مطلقاً ممنوع و ناجائز ہے؛ کہ مسجد کو بدبو سے بچانا واجب ہے۔

اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے:

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ

ترجمہ کنز العرفان: اے آدم کی اولاد! ہر نماز کے وقت اپنی زینت لے لو۔ (پارہ 8، سورۃ الاعراف7، آیت 31)

تفسیر صراط الجنان میں اس آیت کے تحت ہے: سنت یہ ہے کہ آدمی بہتر ہیئت کے ساتھ نماز کے لیے حاضر ہو کیونکہ نماز میں رب عزوجل سے مناجات ہے تو اس کے لیے زینت کرنا اور عطر لگانا مستحب ہے، جیسا کہ سترِ عورت اور طہارت واجب ہے۔ (تفسیر صراط الجنان، جلد 3، صفحہ 300، مکتبة المدینہ، کراچی)

المجتبیٰ شرح مختصر القدوری میں ہے:

ان الصلاة مناجاة اللہ تعالى فوجب أن تكون على أحسن هيئاته وأحواله

ترجمہ: نماز اللہ تعالیٰ سے مناجات ہے، پس لازم ہے کہ یہ نمازی کی بہترین ہیئت اور حالت پر (ادا) ہو۔ (المجتبی شرح مختصر القدوری، کتاب الطهارة، باب الانجاس، جلد 1، صفحہ 143، دار الریاحین، عمان)

صحیح مسلم، سنن ابن ماجہ، سنن نسائی، مسند احمد، مشکوۃ المصابیح میں ہے:

و اللفظ لمسلم عن جابر بن عبد الله عن النبي صلى اللہ عليه و سلم قال: من أكل من هذه البقلة الثوم، و قال مرة: من أكل البصل و الثوم و الكراث، فلا يقربن مسجدنا فإن الملائكة تتأذى مما يتأذى منه بنو آدم

ترجمہ: حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جو شخص اس ترکاری یعنی لہسن کو کھائے، اور ایک مرتبہ فرمایا: جو پیاز، لہسن اور گندنا کھائے، تو وہ ہرگز ہماری مسجد کے قریب نہ آئے؛ کیونکہ فرشتے بھی اس چیز سے اذیت پاتے ہیں جس سے اولادِ آدم کو اذیت پہنچتی ہے۔ (صحيح مسلم، ‌‌كتاب المساجد و مواضع الصلاة، جلد 2، صفحہ 80، حدیث 564، دار الطباعة العامرة ، تركيا)

علامہ بدرالدین ابو محمد محمود بن احمد عینی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 855ھ / 1451ء) لکھتے ہیں:

و فيه ترك الإتيان إلى المسجد عند أكل الثوم ونحوه وهو بعمومه يتناول المجامع كمصلى العيد والجنازة ومكان الوليمة وحكم رحبة المسجد حكمه لأنها منه ... ينبغي احترام الملائكة و ليس المراد بالملائكة الحفظة، قلت: العلة أذى الملائكة و أذى المسلمين، فيختص النهي بالمساجد و ما في معناها... و يلحق بما نص عليه في الحديث كل ما له رائحة كريهة من المأكولات و غيرها

ترجمہ: اور اس حدیث میں ہے کہ لہسن وغیرہ کھانے کے وقت مسجد آنے کو ترک کیا جائے، اور یہ حکم اپنے عموم کے اعتبار سے تمام اجتماعات کو شامل ہے، جیسے عیدگاہ، جنازہ اور ولیمے کی جگہ، اور مسجد کا صحن بھی مسجد ہی کے حکم میں ہے، کیونکہ وہ اسی کا حصہ ہے۔… فرشتوں کا احترام کرنا چاہیے اور یہاں فرشتوں سے مراد محافظ فرشتے نہیں ہیں۔ میں کہتا ہوں: علت فرشتوں کو اذیت پہنچنا اور مسلمانوں کو اذیت پہنچنا ہے، پس ممانعت مساجد اور ان کے ہم معنی مقامات کے ساتھ خاص ہے۔ ... اور حدیث پاک میں جن چیزوں کی صراحت ہے، ان کے ساتھ ہر بدبو رکھنے والی چیز ملحق ہے، خواہ وہ کھانے کی چیزوں میں سے ہو یا ان کے علاوہ سے۔ (عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری، كتاب صفة الصلاة، باب ما جاء في الثوم ...الخ، جلد 6، صفحہ 146، دار إحياء التراث العربي، بيروت)

امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: منہ میں بدبو ہونے کی حالت میں نماز مکروہ اور ایسی حالت میں مسجد میں جانا حرام ہے، جب تک منہ صاف نہ کر لے، اور دوسرے نمازی کو ایذا پہنچنی حرام ہے اور دوسرا نمازی نہ بھی ہو تو بدبو سے ملائکہ کو ایذا پہنچتی ہے، حدیث میں ہے:

ان الملٰئکۃ تتاذی بمایتاذی بہ بنو ادم

(یعنی بے شک فرشتے بھی اس چیز سے اذیت پاتے ہیں جس سے اولادِ آدم اذیت محسوس کرتی ہے)۔ (فتاوی رضویہ، جلد 6، صفحہ 332، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: جو لوگ غیر خوشبو دار تمباکو کھاتے ہیں اور اسے منہ میں دبا رکھنے کے عادی ہیں، ان کا منہ اس کی بدبو سے بس جاتا ہے کہ قریب سے بات کرنے میں دوسرے کو احساس ہوتا ہے، اس طرح تمباکو کھانا، جائز نہیں کہ یہ نماز بھی یوں ہی پڑھے گا اور ایسی حالت سے نماز مکروہ تحریمی ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 24، صفحہ 555، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

امام اہل سنت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک مقام پر لکھتے ہیں: جب منہ میں بدبو ہو تو مسجد میں جانا حرام، نماز میں داخل ہونا منع۔ (فتاوی رضویہ، جلد 1، حصہ 2، صفحہ 838، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: پانی میں کولتار (Coal Tar) پڑ گیا جس سے اس میں سخت بدبو آ گئی مگر گاڑھا نہ ہو گیا، اس سے وضو جائز ہے۔... أقول(میں کہتا ہوں): مگر بوجہ خبث رائحہ مکروہ ہونا چاہیے، خصوصاً اگر اس کی بدبو نماز میں باقی رہی کہ باعث کراہت تحریمی ہوگی۔ (فتاوی رضویہ، جلد 2، صفحہ 565، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ / 1948ء) لکھتے ہیں: (حقے کے پانی سے وضو کرنے کی صورت میں) اگر وقت ختم ہونے میں عرصہ ہو اور اس پانی میں بدبو آ گئی تھی، تو اتنا وقفہ لازم ہوگا کہ بو اُڑ جائے کہ حالت نماز میں اعضا سے بو آنا مکروہ ہے اور اس حالت میں مسجد میں جانے کی اجازت نہ ہوگی کہ بدبو کے ساتھ مسجد میں جانا حرام ہے۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 2، صفحہ 428، مکتبة المدینہ، کراچی)

علامہ علاؤ الدین محمد بن علی حصکفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1088ھ / 1677ء) لکھتے ہیں:

و أكل نحو ثوم و يمنع منه و كذا كل مؤذ

ترجمہ: اور لہسن جیسی چیز کھانا (مسجد میں مکروہ ہے) اور اسے مسجد سے روکا جائے گا اور اسی طرح ہر اذیت پہنچانے والی چیز کا حکم ہے۔ (الدر المختار شرح تنویر الابصار، کتاب الطهارة، باب ما يفسد الصلاة و ما يكره فيها، جلد 1، صفحہ 152، دار الکتب العلمیة، بیروت)

مفتی مصر علامہ سید احمد بن محمد طحطاوی حنفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1231 ھ / 1815ء) لکھتے ہیں:

قوله: "و يمنع منه" يدل على كراهة التحريم. قوله "و كذا كل مؤذ" يعمّ من بفمه نتن أو بإبطه و من يؤذي بعرقه أو ريح ثوبه

ترجمہ: شارح کا قول: اور اسے مسجد سے روکا جائے گا یہ کراہت تحریمی پر دلالت کرتا ہے۔ اور ان کا قول: اور اسی طرح ہر اذیت دینے والی چیز اس شخص کو شامل ہے جس کے منہ یا بغل میں بدبو ہو اور اسے جو شخص اپنے پسینے یا اپنے لباس کی بو سے اذیت پہنچائے۔ (حاشية الطحطاوي على الدر المختار، کتاب الطهارة، باب ما يفسد الصلاة و ما يكره فيها، جلد 2، صفحہ 386، دار الکتب العلمیة، بیروت)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ / 1948ء) لکھتے ہیں: کچا لہسن، پیاز کھانا مکروہ ہے اور کھانے کے بعد جب تک بو باقی ہے، مسجد میں جانا منع ہے، اور اگر وقت میں گنجائش ہو تو نماز میں بھی تاخیر کرے، ورنہ بدرجہ مجبوری پڑھ لے۔ یوہیں جب تک بو باقی ہو، تلاوت بھی مکروہ ہے اور وجہ سب کی یہ ہے کہ اس سے فرشتوں کو ایذا ہوتی ہے۔ (فتاوی امجدیہ، جلد 4، صفحہ 149 - 150، مکتبہ رضویہ، کراچی)

اور غیر مجبور کی ایسی مکروہ تحریمی والی بدبو کے ساتھ پڑھی گئی نماز کا اعادہ واجب ہے کہ فقہاء کرام کا عمومی اصول یہی ہے کہ جس حالت میں نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہوتا ہے، اس حالت میں نمازبھی مکروہ تحریمی، واجب الاعادہ ہوتی ہے، مشہور قاعدہ ہے:

کل صلاۃ ادیت مع کراھۃ التحریم تجب اعادتھا (رد المحتار، ج 01، ص 457)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1073
تاریخ اجراء: 05 شعبان المعظم 1447ھ / 25 جنوری 2026ء