logo logo
AI Search

فرض کے بعد سنت و نفل کیلئے جگہ بدلنا ضروری ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فرضوں کے بعد سنتیں اور نفل جگہ بدل کر پڑھنے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کےبارے میں کہ جب باجماعت نماز مکمل ہو جائے، تو مقتدیوں کے لیے جگہ بدل کر سنتیں اور نوافل ادا کرنا ضروری ہے؟

جواب

جب باجماعت نماز مکمل ہو جائے تو بعد والی سنتیں اور نفل پڑھنے کے لیے جگہ بدلنا مسنون اور اچھا عمل ہے، ضروری نہیں ہے۔ احادیث میں صراحت کے ساتھ جگہ بدلنے کا حکم یا ترغیب ملتی ہے اور جگہ تبدیل کرنے کی دو بڑی حکمتیں ہیں۔ (1) عبادت کرنے کے مقامات بڑھ جائیں گے اور مقاماتِ عبادت کا بڑھنا نہایت مفید ہے۔ (2) فرض اور نفل میں امتیاز ہو جائے گا، یعنی بعد میں آنے والے مقتدی کو یہ شبہ نہیں ہو گا کہ جماعت قائم ہے۔

مقاماتِ عبادت بڑھانا آخرت میں انسان کو فائدہ دے گا، کیونکہ زمین اپنے اوپر ہونے والے عمل کی گواہ ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

یَوْمَىٕذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَهَا۔

ترجمہ کنزالعرفان:اس دن وہ اپنی خبریں بتائے گی۔ (پ 30، الزلزال: 04)

اس آیت کے تحت معروف مفسر امام خازن رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 741ھ / 1341ء) لکھتے ہیں:

و المعنى أن الأرض تحدث بكل ما عمل على ظهرها من خير أو شر، فتشكوا العاصي، وتشهد عليه وتشكر الطّائع وتشهد له «عن أبي هريرة قال: قرأ رسول اللہ صلّى اللہ عليه وسلّم هذه الآية يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَها قال أتدرون ما أخبارها قالوا اللہ و رسوله أعلم، قال فإن أخبارها أن تشهد على كل عبد أو أمة بما عمل على ظهرها تقول عمل يوم كذا كذا و كذا فهذه أخبارها۔

ترجمہ: آیت کا مطلب یہ ہے کہ زمین ان تمام نیک اور بد اعمال کی خبر دے گی، جو اس کی سطح پر کیے گئے ہوں گے۔ وہ نافرمان کی شکایت کرے گی اور اس کے خلاف گواہی دے گی، جبکہ اطاعت گزار کا شکریہ ادا کرے گی اور اس کے حق میں گواہی دے گی۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی کہ

یَوْمَىٕذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَهَا۔

اس کی تلاوت کے بعد آپ ﷺ نے پوچھا کہ کیا تم جانتے ہو کہ زمین کی خبریں کیا ہیں؟ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اس کی خبریں یہ ہیں کہ وہ ہر مرد اور عورت کے اُن اعمال کی گواہی دے گی، جو انہوں نے اُس کی پیٹھ پر کیے ہوں گے۔ وہ زمین کہے گی کہ اِس انسان نے فلاں فلاں دن یہ کام کیا تھا، بس یہی زمین کی خبریں ہیں۔ (تفسیر الخازن، جلد 04، صفحہ 459، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)

نبی اکرم ﷺ نے جماعت کے بعد سنت ونفل کے لیے مقام بدلنے کی ترغیب ارشاد فرمائی، چنانچہ امام ابن ماجہ قُزوینی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال:273ھ/887ء) فرمانِ مصطفیٰ ﷺ نقل کرتے ہیں:

أ يعجز أحدكم إذا صلى أن يتقدم، أو يتأخر، أو عن يمينه، أو عن شماله۔

ترجمہ: کیا تم میں کوئی اتنا عاجز و مجبور ہے کہ جب (فرض) نماز پڑھ چکے تو نفل کے لیے آگے بڑھ جائے، یا پیچھے ہٹ جائے، یا دائیں، بائیں ہو جائے۔ (سنن ابن ماجۃ، جلد 02، صفحہ426، مطبوعه دار الرسالۃ العالمیۃ)

اِس روایت کے تحت حاشية السندي علي سنن ابن ماجة  میں ہے:

(إذا صلى) أي فرغ من الفرض وقيل وكذا النفل فينتقل فيه من مكان إلى مكان لتكثير محال العبادة (أن يتقدم) أي من محل الفرض لأجل النفل قوله: (أو عن يمينه) أي جهته أو ينصرف عن يمينه قيل هذا مخصوص بالإمام كالحديث الآتي وسوق هذا الحديث يقتضي العموم كيف والخطاب مع المقتدين وكان صلى اللہ عليه وسلم هو الإمام يومئذ۔

ترجمہ: جب نمازی فرض سے فارغ ہو جائے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ نفل سے فارغ ہونے کا بھی یہی حکم ہے، تو اسے چاہیے کہ وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ چلا جائے تاکہ عبادت کے مقامات زیادہ ہو جائیں۔ نفل پڑھنے کے لیے فرض والی جگہ سے آگے بڑھ جائے یا اپنی دائیں جانب مڑ جائے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ حکم صرف امام کے لیے خاص ہے جیسا کہ آنے والی حدیث سے معلوم ہوتا ہے، لیکن اس حدیث کا سیاق و سباق اس کے عام ہونے کا تقاضا کرتا ہے کیونکہ اس میں خطاب مقتدیوں سے ہے اور اس دن نبی کریم ﷺ خود امام تھے۔ (حاشية السندي علي سنن ابن ماجة، جلد 1، صفحه 436، مطبوعة دار الجيل، بيروت)

جماعت کے بعد نفل وسنت کے لیے مقام بدلنا مسنون اور احسن عمل ہے، چنانچہ علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1252ھ / 1836ء) منیۃ المصلی  سےنقل کرتے ہیں:

أما المقتدي والمنفرد فإنهما إن لبثا أو قاما إلى التطوع في مكانهما الذي صليا فيه المكتوبة جاز، والأحسن أن يتطوعا في مكان آخر۔

ترجمہ: جہاں تک مقتدی اور اکیلے نماز پڑھنے والے کا تعلق ہے، تو اگر وہ اُسی جگہ بیٹھے رہیں یا اسی جگہ نفل پڑھنے کے لیے کھڑے ہو جائیں جہاں انہوں نے فرض نماز پڑھی تھی تو یہ جائز ہے، لیکن بہتر یہ ہے کہ وہ کسی دوسری جگہ نفل پڑھیں۔ (رد المحتار مع در مختار، جلد 03، صفحہ 428، مطبوعہ دار الثقافۃ و التراث، دمشق)

عبارت میں موجود  و الأحسن  کا معنی یہی ہے کہ ایسا کرنا مسنون ہے، چنانچہ چند سطور بعد لکھا:

نص في المحيط على أنه السنة كما في الحلية، و هذا معنى قوله في المنية: والأحسن أن يتطوعا في مكان آخر۔

ترجمہ: المحیط میں اس بات کی صراحت کی گئی کہ یہ عمل سنت ہے جیسا کہ الحلیۃ میں ہے، اور منیۃ المصلی میں اُن کے اِس قول

و الأحسن أن يتطوعا في مكان آخر

کا مطلب بھی یہی ہے کہ یہ سنت ہے۔ (رد المحتار مع در مختار، جلد 03، صفحہ 428، مطبوعہ دار الثقافۃ والتراث، دمشق)

مقام بدلنے میں حکمت یہ ہے کہ بعد میں آنے والے کو جماعت جاری ہونے کا وہم نہ ہو، چنانچہ فتاوی رضویہ میں ہے: جس طرح بعدِ ختمِ نمازِ ظہر و مغرب و عشاء ادائے سنن کے لیے مقتدیوں کو کسرِ صفوف مسنون، کہ اس کے بعد کسی آنے والے کو بقائے جماعت کا احتمال نہیں ہوسکتا۔ (فتاوٰی رضویہ، جلد 09، صفحہ 232، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9762
تاریخ اجراء: 09 شعبان المعظم1447ھ / 29 جنوری2026ء