تشہد میں انگلی اٹھانا سنتِ مؤکدہ ہے یا غیر مؤکدہ؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
تشہد میں انگلی کا حلقہ بنانا اور اشارہ کرنا سنتِ مؤکدہ ہے یا غیر مؤکدہ؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
تشہد میں انگلی کا حلقہ بنانا اور اشارہ کرنا سنت مؤکدہ ہے یا غیر مؤکدہ؟
جواب
یہ سنت غیر مؤکدہ ہے۔
ردالمحتار میں ہے:
”وفی المحیط أنها سنة، يرفعها عند النفی ويضعها عند الاثبات،وهو قول أبی حنيفة ومحمد،وكثرت به الآثار والاخبار فالعمل به أولى اھ۔ فهو صريح فی أن المفتى به هو الاشارة بالمسبحة مع عقد الأصابع على الكيفية المذكورة لا مع بسطها فانه لا اشارة مع البسط عندنا، ولذا قال فی منية المصلی: فان أشار يعقد الخنصر والبنصر ويحلق الوسطى بالابهام ويقيم السبابة“
یعنی محیط میں ہے کہ ایسا کرنا سنت ہے، نفی (یعنی لا الٰہ) پر انگلی اٹھائے اور اثبات (یعنی الا اللہ)پر رکھ دے ،یہی امام اعظم ابو حنیفہ اور امام محمد رحمۃ اللہ علیہما کا قول ہے ،اسی پر کثیر احادیث و آثار ہیں ،لہٰذا اِسی پر عمل اَوْلیٰ ہے۔ تو یہ اس بات میں صریح ہے کہ مفتیٰ بہٖ قول یہ ہے کہ باقی انگلیوں کو بیان کردہ کیفیت کے مطابق بند کرکے شہادت کی انگلی سے اشارہ کرے ،نہ کہ پھیلا کر اس لئے کہ ہمارے نزدیک ہاتھ پھیلا کر اشارہ کرنا نہیں ہے،اسی وجہ سے منیۃ المصلی میں کہا:اگر اشارہ کرے تو چھوٹی اور اس کےساتھ والی انگلی کو بند کرے، درمیان والی انگلی کا انگوٹھے سے حلقہ بنائے اور شہادت کی انگلی اٹھائے۔“ (ردالمحتار مع الدر المختار، جلد2، صفحہ 266، دار المعرفۃ،بيروت)
در مختار میں ہے:
”وفی العینی عن التحفۃ: الأصح أنھا مستحبۃ۔ وفی المحيط سنة“
یعنی عینی میں بحوالہ تحفہ ہے کہ یہ مستحب ہے اور محیط میں ہے کہ سنت ہے۔‘‘
اس کے تحت رد المحتار میں ہے:
”(قوله وفی المحيط سنة) يمكن التوفيق بأنها غير مؤكدة“
یعنی مصنف کا قول: محیط میں ہے کہ سنت ہے۔ دونوں اقوال میں یوں تطبیق ممکن ہے کہ اشارہ کرنا سنتِ غیرمؤکدہ ہے۔(الدر المختار و ردالمحتار ، جلد2، صفحہ 268، دار المعرفۃ،بيروت)
واللہ اعلم و رسولہ اعلم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم
مجیب: مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2345
27محرم الحرام 1447ھ / 23 جولائی 2025ء