logo logo
AI Search

کسی شہر میں عارضی قیام پر قصر نمازیں پڑھنا

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وطن اقامت سے شرعی مسافت پر جا کر واپس آنے پر نماز کا حکم؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میرا آبائی علاقہ پنجاب (منڈی بہاؤ الدین) ہے، لیکن نیوی کی ملازمت کےسلسلے میں فیملی سمیت کراچی شفٹ ہوا ہوں، مستقل کراچی نہیں رہنا جاب سے ریٹائر ہونے یا درمیان میں ادارے نے جب بھی پنجاب بھیج دیا تو واپس پنجاب ہی جانا ہے۔ بعض اوقات یوں ہوتا ہے کہ کراچی سے (92 کلو میٹر سے زیادہ کی مسافت پر واقع) کسی دوسرے شہر جیسا کہ گوادر وغیرہ ادارے کی طرف سے جانا ہوتا ہے اور پھر چار پانچ دن ( پندرہ دن سے کم) کے لیے کراچی آتا ہوں، کراچی آنے سے پہلے ہی ہمیں آرڈر ہوتا ہے کہ چار پانچ دن کراچی ٹھہر کر پھر دوبارہ گوادر واپس آنا ہے یا کسی دوسرے شہر (جو 92کلو میٹر کی مسافت پر ہوتا ہے، وہاں) جانا ہے۔ ایک شخص نے مجھ سے کہا ہے کہ چونکہ پنجاب سے 18 سال کے لیے کراچی آئے ہو تو اب کراچی سے کسی اور جگہ جاؤ گے تو قصر نماز پڑھو گے، لیکن جب کراچی آؤ گے تو پوری نماز پڑھو گے، اگرچہ پندرہ سے کم دنوں کے لیے ہی کراچی آؤ نماز پوری ہی پڑھنی ہوگی۔ آپ اس بارے میں شرعی رہنمائی فرما دیں کہ جب میں گوادر سے کراچی چار پانچ دنوں کے لیے آؤں گا اور آنے سے پہلے مجھے کنفرم معلوم بھی ہو کہ کراچی سے پھر مجھے 92 کلو میٹر سے دور دوسرے شہر جانا ہے۔، تو کراچی میں میں پوری نماز پڑھوں گا یا قصر نماز پڑھوں گا؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں گوادر سے جب بھی آپ پندرہ سے کم دنوں کے لیے آئیں گے تو آپ کو پوری نماز نہیں پڑھنی بلکہ قصر پڑھنی ہے۔ مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ جب کوئی شخص اپنے وطنِ اصلی سے کم از کم 92 کلو میٹر کی مسافت پر جائےاور وہاں پندرہ یا اس سے زیادہ (خواہ بیس تیس سال تک) ٹھہرنےکی نیت ہو لیکن بالآخر واپس اپنے وطنِ اصلی آنے کا ہی ارادہ ہے مستقل اُس جگہ نہیں ٹھہرنا تو یہ جگہ اس شخص کےلیے وطنِ اقامت کے طور پر شمار ہوتی ہے اور وطنِ اقامت تین چیزوں سے ختم ہوجاتا ہے، ایک وطنِ اصلی جانے سےدوسرا کسی اور جگہ کو وطنِ اقامت بنانے سےتیسرا، کسی بھی طرح کا سفرِ شرعی کرنے سے۔ اس میں وطنِ اقامت کو اس چیز سےکوئی فرق نہیں پڑتا کہ وطنِ اقامت میں بیس تیس سال یا اس سے بھی زیادہ ٹھہرنے کے لیے آیا تھا وہ صرف وطنِ اقامت تھا جو مذکورہ بالا کسی بھی چیز سے باطل ہوجاتا ہے لہٰذا پوچھی گئی صورت میں کراچی آپ کےلیے وطنِ اقامت ہے تو جب آپ کراچی سے گوادر یا شرعی مسافت (92) کلو میٹر کی دوری پر جائیں گے، تو کراچی والا آپ کا وطنِ اقامت باطل ہوجائے گا اور یوں جب بھی آپ گوادر وغیرہ شرعی مسافت سے کراچی آئیں گے تو پھر نئے سرے سے آپ کی نیت کا اعتبار ہوگا اگر پندرہ دن یا زائد مسسلسل ٹھہرنے کی نیت ہوگی، تو پھر وطنِ اقامت بن جائے گا اور اگر پندرہ سے کم دنوں کی نیت ہوگی، تو وطنِ اقامت نہیں بنے گا، بلکہ وہاں آپ مسافر ہی رہیں گے اورقصر نماز پڑھنی ہوگی۔

وطنِ اقامت کی تعریف (Definition) کے متعلق فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

وطن سفر وقد سمي وطن إقامة وهو البلد الذي ينوي المسافر الاقامة فيه خمسة عشر يوما أو أكثر

ترجمہ: اور وطنِ سفر اور اسی کو وطن اقامت بھی کہا جاتا ہے یہ وہ شہر (یا علاقہ) ہے، جس میں مسافر پندرہ دن یا اس سے زائد ٹھہرنے کی نیت کرے۔ (فتاوى عالمگیری، جلد 1، صفحہ 157، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت)

اسی طرح وطنِ اقامت کی تعریف اور اس کا حکم بیان کرتے ہوئے شمس الاَئمہ، امام سَرَخْسِی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 483ھ / 1090ء) لکھتے ہیں:

و وطن مستعار وهو أن ينوي المسافر المقام في موضع خمسة عشر يوما و هو بعيد عن وطنه الأصلي، و الوطن المستعار ينقضه الوطن الأصلي و وطن مستعار مثله و السفر لا ينقضه وطن السكنى و قد قررنا هذا الأصل فيما أمليناه من شرح الزيادات فأكثر المسائل على هذا الأصل بخروجها ثمة

یعنی: دوسری قسم وطن مستعار (وطن اقامت) اس سے مراد، جہاں مسافر پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت کرے اور وہ وطن اصلی سے دور ہو۔ اور وطن اقامت کو وطن اصلی، وطن اقامت اور سفر شرعی باطل کر دیتے ہیں۔ بے شک اس ضابطے کو ہم نے شرح زیادات پر اپنی امالی میں ثابت کیا ہے، پس اکثر مسائل وہاں کی آبادی سے نکلنے کے ساتھ اس ضابطے پر مبنی ہیں۔ (مبسوط سرخسی، جلد 1، صفحہ 250، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی)

وطنِ اقامت کے باطل ہونے کی صورتوں کے متعلق علامہ ابوبکر بن مسعود کاسانی قدس سرہ السامی لکھتے ہیں:

وطن الاقامۃ ینتقض بالوطن الاصلی و بوطن الاقامۃ ایضاًو ینتقض بالسفر ایضاً۔ ملخصاً

ترجمہ: وطن اقامت وطن اصلی سے باطل ہوجاتا ہے اور کسی دوسری جگہ کو وطن اقامت بنانے سے بھی باطل ہوجاتا ہے اور سفر کرنے سے بھی باطل ہوجاتا ہے۔ (بدائع الصنائع، جلد 1، صفحہ 498، مطبوعہ کوئٹہ)

لہٰذا اب دوبارہ کراچی آنے پر پندرہ دن یا اس سے زائد رہنا ہو، تو پوری نماز ادا کرنا ہو گی، ورنہ قصر کرنا ہوگی جیساکہ تنویر الابصار و در مختار میں ہے:

(او ینوی اقامۃ نصف شھرینوی بموضع) واحد (صالح لھا، فیقصرفی اقل منہ)۔ ملخصاً

ترجمہ: یا (مسافر تب مقیم ہوگا) جب اس نےایسی ایک ہی جگہ جو اقامت کی صلاحیت رکھتی ہو، اس پرآدھا مہینا (پندرہ دن) ٹھہرنے کی نیت کی ہو، لہٰذا پندرہ دن سے کم ٹھہرنے کی صورت میں قصر کرے گا۔ (تنویر الابصار و الدرالمختار، جلد 2، صفحہ 728، مطبوعہ کوئٹہ)

ملازمت والی جگہ وطنِ اقامت ہونے اور اس کا حکم بیان کرتے ہوئے شیخ الاسلام و المسلمین امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں: جبکہ وہ دوسری جگہ نہ اس کا مولد ہے، نہ وہاں اس نے شادی کی، نہ اسے اپنا وطن بنالیا یعنی یہ عزم نہ کرلیا کہ اب یہیں رہوں گا اور یہاں کی سکونت نہ چھوڑوں گا، بلکہ وہاں کا قیام صرف عارضی بر بنائے تعلق تجارت یا نوکری ہے، تو وہ جگہ وطن اصلی نہ ہوئی اگر چہ وہاں بضرورت معلومہ قیام زیادہ اگر چہ وہاں برائے چندے یا تا حاجت اقامت بعض یا کل اہل وعیال کو بھی لے جائے کہ بہر حال یہ قیام بیک وجہ خاص سے ہے، نہ مستقل ومستقر، تو جب وہاں سفر سے آئے گا جب تک ۱۵ دن کی نیت نہ کرے گا قصر ہی پڑھے گا کہ وطن اقامت سفر کرنے سے باطل ہوجاتا ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 8، صفحہ 271، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاھور)

مزید ایک مقام پر آپ رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: جب کہ مسکن زید کا دوسری جگہ ہے اور بال بچوں کا یہاں رکھنا عارضی ہے، تو جب یہاں آئے گا اور پندرہ دن سے کم ٹھہرنے کی نیت کرے گا، قصر کرے گا اور پندرہ دن یا زیادہ کی نیت سے مقیم ہو جائے گا، پوری نماز پڑھے گا۔ (فتاوی رضویہ، جلد 8، صفحہ 270، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Aqs-2897
تاریخ اجراء: 11 شعبان المعظم 1447ھ / 30 جنوری 2026ء