صاحب ترتیب کو جماعت کے دوران قضا نماز یاد آئے تو حکم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
صاحبِ ترتیب کو جماعت کے دوران قضا نماز یاد آئے، تو کیا حکم ہے؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ صاحب ترتیب کو جماعت کے دوران اپنی قضا نماز یاد آئے، تو کیا حکم ہے؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں اگر وقت میں گنجائش موجود ہو تو صاحبِ ترتیب کی وہ نماز فاسد ہوجائے گی، لہذا قضا نماز ادا کرنے کے بعد وقتی نماز ادا کرے۔
چنانچہ فتاوٰی شامی میں ہے:
”لو تذکّر فائتۃً وھو یصلی فان کان قبل القعود قدر التشھّد بطلت اتفاقاً۔“
یعنی اگر صاحبِ ترتیب کو نماز پڑھنے کے دوران فوت شدہ نماز یاد آجائے، تو اگر یہ یاد آناقعدہ اخیرہ میں بقدرِ تشہد بیٹھنے سے پہلےہو تو نماز بالاتفاق باطل ہوجائے گی۔(ردّ المحتار مع الدر المختار، کتاب الصلاۃ،ج02،ص641،مطبوعہ کوئٹہ)
فتاوٰی ہندیہ، محیطِ برہانی، مبسوط سرخسی وغیرہ کتبِ فقہیہ میں مذکور ہے:
”و النظم للاول“ومن تذکّر صلوات علیہ وھو فی الصلاۃفقد حکی عن الفقیہ ابی جعفر رحمہ اللہ تعالیٰ ان مذھب علمائنارحمھم اللہ تعالی ان تفسد صلاتہ“
یعنی صاحبِ ترتیب کو وقتی نماز پڑھنے کےدوران قضا نمازیں یاد آئیں تو فقیہ ابو جعفر ہندوانی رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کیا گیا کہ ہمارےعلمائے کرام علیہم الرحمہ کے نزدیک اس کی نماز فاسد ہوجائے گی۔(الفتاوٰی الھندیۃ، کتاب الصلاۃ،ج01،ص122،مطبوعہ پشاور)
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ سے سوال ہوا کہ:”وقت کی نماز ادا کرنے کے بعد قضا یاد آئی تو کیا کرے ۔ “ آپ علیہ الرحمہ اس کے جواب میں فرماتے ہیں: ” ادا کرنے کے بعد قضا یاد آئی تو کوئی حرج نہیں اور درمیان میں یاد آئے اور وقت میں گنجائش ہو تو صاحب ترتیب کی نماز جاتی ہے گی۔ “(فتاوٰی امجدیہ، ج01، ص 271، مکتبہ رضویہ کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب:ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
فتوی نمبر:Nor-13812
تاریخ اجراء:02ذوالقعدۃ الحرام1446ھ/30اپریل2025ء