تراویح میں موبائل سے قرآن دیکھ کر سننا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
تراویح میں سامع کا موبائل میں قرآن مجید کھول کر قرآن پاک سننے کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا نماز تراویح میں موبائل پرقرآن پاک کھول کر قرآن پاک سن سکتے ہیں؟
جواب
امام ہو یا مقتدی، عام نماز ہو یا پھر نماز تراویح کسی بھی صورت میں دوران نماز موبائل پر قرآن پاک کو دیکھ کر پڑھنے سے نماز فاسد ہو جائے گی؛ کہ یہ خارج نماز سے تعلیم لینا ہے اور نماز میں خارج سے تعلیم لینے سے نماز فاسد ہو جاتی ہے، پس اس وجہ سے جماعت کے دوران عام مقتدی ہو، یا تراویح میں قرآن پاک سننے کےلیے مقرر سامع، اگر وہ اس طرح موبائل سے دیکھ کر لقمہ دے گا، تو اس کی نماز فاسد ہو جائے گی، اور اگر یہی لقمہ امام صاحب نے لے لیا، تو امام کی نماز بھی فاسد ہوجائے گی، اور پھر جب امام کی نماز فاسد ہو گی، تو سب مقتدیوں کی نماز بھی فاسد ہو جائے گی؛ کہ مقتدیوں کی نماز کی بنیاد امام کی نما ز پر ہوتی ہے، اور اس وجہ سے دوران نماز، موبائل پر دیکھ کر قرآن پاک سننا جائز بھی نہیں، کہ دوران نماز کسی ایسے امر پر اقدام کرنا جائز نہیں، کہ جس سے نماز فاسد ہوجائے۔
در مختار میں ہے:
(و قراءته من مصحف) ای: مافیہ قرآن (مطلقا)لانہ تعلم
ترجمہ: مصحف یعنی جس میں قرآن لکھاہے اس سے دیکھ کر تلاوت کرنا مطلقا مفسد نماز ہے، کیونکہ یہ سیکھنا ہے۔
لانہ تعلم کے تحت علامہ شامی علیہ الرحمہ رد المحتارمیں فرماتے ہیں :
ذکروا لابی حنیفۃ فی علۃ الفساد وجھین، احدھما ان حمل المصحف و النظر فیہ و تقلیب الاوراق عمل کثیر، و الثانی انہ تلقن من المصحف فصار کما اذا تلقن من غیرہ، و علی الثانی لا فرق بین الموضوع و المحمول عندہ و علی الاول یفترقان، و صحح الثانی فی الکافی تبعا لتصحیح للسرخسی
ترجمہ: علمائے کرام نے اس صورت میں نماز فاسد ہونے کے متعلق امام اعظم علیہ الرحمۃ کے مؤقف میں دو علتوں کو ذکر فرمایا ہے: ایک یہ کہ قرآن پاک اٹھانا، اس میں دیکھنا، اس کے ورق پلٹنا عمل کثیر ہے ، اور دوسری یہ کہ یہ قرآن پاک سے سیکھنا ہے، تو یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی اور سے سیکھے، دوسری علت کی بنا پر سامنے رکھے ہوئے، اور اٹھائے ہوئے قرآن مجید میں کوئی فرق نہیں ہو گا اور پہلی علت کی بنا پر فرق واقع ہوگا، دوسری علت کو کافی میں امام سرخسی کی تصحیح کی اتباع کرتے ہوئے صحیح قرار دیا گیا ہے۔ (در مختار مع رد المحتار، ج 2، ص 463، 464، مطبوعہ: کوئٹہ)
فتاوٰی امجدیہ میں ہے: اگرچہ مصحف شریف کی طرف نظر کرنا عبادت ہے مگر اس میں دیکھ کر پڑھنا خارج سے تعلم ہے اور یہ منافی نماز جیسے زبان سے حالت نماز میں امر بالمعروف یا نہی عن المنکر کرنے سے نماز فاسد ہو جائے گی، اگرچہ یہ دونوں عبادت ہیں مگر چونکہ منافی نماز ہیں لہذا نماز فاسد۔ (فتاوی امجدیہ، ج 1، حصہ 1، ص 185، مکتبہ رضویہ، کراچی)
رد المحتار علی الدر المختار میں ہے
المؤتم لما تلقن من خارج بطلت صلاته، فاذا فتح علی امامہ و اخذ منہ بطلت صلاتہ
ترجمہ: مقتدی نے جب خارجِ نماز سے سیکھا تو اس کی نماز باطل ہوگئی، اور جب اس نے امام کو لقمہ دیا، اور امام نے لقمہ قبول کرلیا، تو امام کی نماز بھی باطل ہوگئی۔ (رد المحتار مع الدر المختار، ج 02، ص 461، مطبوعہ: کوئٹہ)
رد المحتار علی الدر المختار میں ہے
إذا فسدت صلاته فسدت صلاة المقتدي لأنه متى فسد الشيء فسد ما في ضمنه
ترجمہ: جب امام کی نماز فاسد ہو جائے تو مقتدی کی نماز بھی فاسد ہو جاتی ہے؛ کیونکہ جب اصل چیز فاسد ہو جائے تو جو چیز اس کے تابع (یا اس کے ضمن میں) ہو، وہ بھی فاسد ہو جاتی ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، ج 2، ص 410، مطبوعہ: کوئٹہ)
دوران نماز ایسے امر پر اقدام کرنا جائز نہیں کہ جس سے نماز فاسد ہو جائے، چنانچہ فتاوی رضویہ میں ہے: ظاہر ہے کہ فتح حقیقتاً کلام ہے اور نماز میں کلام حرام و مفسد نماز، مگر بضرورت اجازت ہوئی جب اسے غلطی ہونے پر خود یقین نہیں تو مبیح میں شک واقع ہوا اور محرم موجود ہے لہذا حرام ہوا جب اسے شبہ ہے تو ممکن کہ اسی کی غلطی ہو اور غلط بتانے سے اس کی نمازجاتی رہے گی اور امام اخذ کرے گا تو اس کی اور سب کی نماز فاسد ہوگی، تو ایسے امر پر اقدام جائز نہیں ہوسکتا۔ (فتاوی رضویہ ، جلد 07، صفحہ 287، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد نور المصطفیٰ عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4841
تاریخ اجراء: 24 رمضان المبارک 1447ھ / 14 مارچ 2026ء