logo logo
AI Search

عید اور جمعہ ایک دن ہوں تو جمعہ لازم ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

جمعہ کے دن عید آگئی، تو جمعے کی نماز کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میں سعودی عرب سے ہوں۔ ہم نے اس بار عید الفطر کی نماز جمعہ کے دن ادا کی تھی، تو ہمارے ایک مولوی نے بتایا کہ ابھی جمعہ ضروری نہیں ہے، اگرچہ کوئی مجبوری بھی نہ ہو، تو اس کا کیا جواب ہے؟

جواب

اگر جمعہ کے دن عید کی نماز آجائے، تو احناف کے نزدیک عید کی نماز ادا کرنے سے جمعہ کی نماز معاف نہیں ہوگی، بلکہ شرائط پائے جانے کی صورت میں جمعہ کی نماز بدستور لازم ہی رہے گی، جس کی ادائیگی ضروری ہوگی، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ مبارکہ میں عید، جمعہ کے دن آئی، تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے یہ دونوں نمازیں (عید اور جمعہ) ادا فرمائیں۔ لہذا عید والے دن جمعہ ہو تو بلاعذرِ شرعی جمعہ چھوڑنا جائز نہیں ہے، بلکہ مسلمانوں پر لازم ہے کہ صبح عید کی نماز بھی پڑھیں اور پھر وقت آنے پر نمازِ جمعہ بھی ادا کریں۔

احناف کے موقف کے متعلق شرح مختصر الکرخی میں ہے:’’إذا كان يوم عيد يوم جمعة، لم يسقط احدهما الآخر... لنا: ما روي ان يوم عيد وافق يوم الجمعة في عهد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم، فصلاهما عليه الصلاة و السلام۔ و لأن صلاة العيد إن كانت واجبة، لم تسقط الجمعة كالفجر و ان كانت مسنونة، فهي أولى“ ترجمہ: جب عید کا دن جمعہ کے دن واقع ہو جائے، تو ان نمازوں میں سے کوئی بھی دوسرے کو ساقط نہیں کرتی۔ ہماری دلیل وہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانے میں عید، جمعہ کے دن آئی، تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ دونوں نمازیں (عید اور جمعہ) ادا فرمائیں۔ اور اس لیے بھی کہ نمازِ عید اگر واجب ہے (تب بھی) وہ جمعہ کو ساقط نہیں کرے گی جیسے کہ نمازِ فجر (جمعہ کو ساقط نہیں کرتی)۔ اور اگر یہ سنت ہے، پھر تو یہ بدرجہ اولیٰ (جمعہ جیسے فرض کو) ساقط نہیں کرسکتی۔ (شرح مختصر الکرخی، جلد 1، صفحہ 547، دار اسفار، کویت)

یونہی علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ ایک مسئلہ پر کلام کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’اما مذهبنا فلزوم كل منهما. قال في الهداية ناقلا عن الجامع الصغير: عيدان اجتمعا في يوم واحد فالأول سنة و الثاني فريضة و لا يترك واحد منهما“ ترجمہ: رہی بات ہمارے مذہب کی، تو (عید اور جمعہ) دونوں میں سے ہر ایک کی ادائیگی لازم ہے۔ کتاب ’’ہدایہ“ میں ’’جامعِ صغیر“ کے حوالے سے منقول ہے کہ جب دو عیدیں (عید اور جمعہ) ایک ہی دن میں جمع ہوجائیں، تو پہلی (نمازِ عید) سنت ہے اور دوسری (نمازِ جمعہ) فرض ہے، اور ان دونوں میں سے کسی ایک کو بھی نہیں چھوڑا جائے گا۔ (رد المحتار علی الدر المختار، جلد 3، صفحہ 51، مطبوعہ: کوئٹہ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا احمد سلیم عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4950
تاریخ اجراء: 07 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 25 اپریل 2026ء