صلٰوۃ الاوابین کا کیا وقت ہے نیز اسکی وضاحت؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
صلاۃ الاوابین کی وضاحت اور اس کا وقت
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
اوابین کی نماز بعض علما کے نزدیک اس وقت پڑھی جاتی ہے، جب اونٹ کے پاؤں جلنے لگیں، تو وہ ٹائم کون سا ہے؟ مغرب کی نماز کے بعد اوابین کی جو رکعتیں ادا کی جاتی ہیں، 20 رکعتیں بھی منقول ہیں، تو ان رکعتوں کا نام اوابین کس روایت میں رکھا گیا ہے؟
جواب
صلاۃ الاوابین کا مطلب ہے: اللہ تعالی کی طرف رجوع و توبہ کرنے والوں کی نماز۔ بعض احادیث مبارکہ میں چاشت کی نماز کو صلاۃ الاوابین کہا گیا ہے، اور چاشت کی نماز کا وقت، مکروہ وقت ختم ہوتے ہی شروع ہوجاتا ہے، اور ضحوی کبری یعنی نصف النہار شرعی تک رہتا ہے، البتہ! چاشت کی نماز ادا کرنے کا مختار و افضل وقت یہ ہے کہ چوتھائی دن گزرنے کے بعد (یعنی جب خوب دن چڑھ جائے، اس وقت) پڑھے اوراسی وقت کو حدیث پاک میں اونٹنی کے بچوں کے پاؤں جلنے کا وقت کہا گیا ہے، جبکہ بعض احادیث مبارکہ میں مغرب کے بعد کے نوافل کو بھی "صلاۃ الاوابین" کہا گیا ہے، جس کی بکثرت فضیلت احادیث مبارکہ میں وارد ہے، اس کی کم ازکم 6 رکعتیں اور زیادہ سے زیادہ 20 رکعتیں احادیث مبارکہ سے ثابت ہیں۔
صحیح مسلم میں ہے "عن القاسم الشيباني أن زيد بن أرقم رأى قوما يصلون من الضحى فقال: أما لقد علموا أن الصلاة في غير هذه الساعة أفضل۔ إن رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم قال: صلاة الأوابين حين ترمض الفصال" ترجمہ: حضرت قاسم شیبانی سے روایت ہے کہ حضرت زید ابن ارقم نے ایک قوم کو چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا تو فرمایا کہ یہ حضرات جانتے ہیں کہ اس کے علاوہ دوسری گھڑی (ساعت) میں یہ نماز افضل ہے، رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: اوابین کی نماز تب ہے کہ جب اونٹنی کے بچے کے پاؤں (گرمی کی وجہ سے) جلنے لگیں۔ (صحیح مسلم، جلد 2، صفحہ 515، رقم الحدیث 748، دار احیاء التراث العربی، بیروت)
اس حدیث پاک کے تحت علامہ نووی رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں: ”و الرمضاء الرمل الذي اشتدت حرارته بالشمس أي حين يحترق أخفاف الفصال و هي الصغار من أولاد الإبل جمع فصيل من شدة حر الرمل و الأواب المطيع و قيل الراجع إلى الطاعة و فيه فضيلة الصلاة هذا الوقت قال أصحابنا هو أفضل وقت صلاة الضحى“ ترجمہ: رمضاء اس ریت کو کہتے ہیں جو سورج کی وجہ سے بہت زیادہ گرم ہو جائے۔ یعنی اس وقت (اوابین کی نماز ہوتی ہے) جب اونٹ کے بچوں کے پاؤں جلنے لگیں۔ الفصال اونٹ کے چھوٹے بچوں کو کہتے ہیں، جو فصیل کی جمع ہے، اور (یہ اس لیے کہ) ریت کی شدید گرمی سے ان کے کھُر جلنے لگتے ہیں۔ اور اواب کا معنی ہے اطاعت کرنے والا، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ (گناہ سے) رجوع کر کے اطاعت کی طرف آنے والا۔ اس حدیث میں اس وقت نماز پڑھنے کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ ہمارے اصحاب نے فرمایا: یہ چاشت کی نماز کا افضل وقت ہے۔ (شرح النووی علی مسلم، جلد 6، صفحہ 30، دار إحياء التراث العربي، بيروت)
اسی طرح مراۃ المناجیح میں ہے: چونکہ اس زمانہ میں گھڑی نہ تھی اس لیے اوقات کا ذکر علامت سے ہوتا تھا آپ نے دوپہر کو اسی علامت سے بیان فرمایا کہ اونٹ کے بچے اون کی وجہ سے جب گرم ہوجائیں یعنی خوب دن چڑھ جائے وقت گرم ہوجائے، چونکہ اس وقت دل آرام کرنا چاہتا ہے اس لیے اسو قت نماز بہتر ہے۔ (مراۃ المناجیح، جلد 2، صفحہ 297، نعیمی کتب خانہ، گجرات)
چاشت کی نماز کے وقت کے حوالےسے فتاوی ہندیہ میں ہے: ”و من المندوبات صلاۃ الضحی.... و وقتھا من ارتفاع الشمس الی زوالھا“ یعنی مستحب نمازوں میں سے چاشت کی نماز بھی ہے، اور اس کا وقت آفتاب بلند ہونے سے لے کر زوال (سے پہلے) تک ہے۔ (فتاوی ہندیہ، جلد 1، صفحہ 112، درا الفكر، بيروت)
چاشت کے افضل وقت کے متعلق حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار میں ہے: ”(وقتھا المختار) ای الافضل (بعد ربع النھار)“ ترجمہ: چاشت کی نماز کا مختار یعنی افضل وقت چوتھائی دن کے بعد کا وقت ہے۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار، جلد 1، صفحہ 287، مطبوعہ کوئٹہ)
اسی حوالےسےصدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اس کا وقت آفتاب بلند ہونے سے زوال یعنی نصف النہار شرعی تک ہے اور بہتر یہ ہے کہ چوتھائی دن چڑھے پڑھے۔ (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ 4، صفحہ 676، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)
مغرب کے بعد ادا کیے جانے والے نوافل کو بھی اوابین کہا جاتا ہے، چنانچہ مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے: ”عن عبد اللہ بن عمر، قال: صلاة الأوابين، ما بين أن يلتفت أهل المغرب، إلى أن يثوب إلى العشاء“ ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہیں کہ صلوۃ الاوابین کا وقت اس وقت سے ہے کہ جب نمازی نماز مغرب پڑھ کر فارغ ہوں اور یہ وقت عشاء کا وقت آنے تک رہتا ہے۔ (المصنف ابن ابی شیبہ، جلد 2، صفحہ 14، رقم الحدیث 5922، دار التاج، لبنان)
اسی طرح شرح السنۃ للبغوی، جامع الاحادیث اور کنز العمال میں ہے، و النظم للاول: ”عن ابن عباس، قال: إن الملائكة لتحف بالذين يصلون بين المغرب إلى العشاء، و هي صلاة الأوابين“ ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہیں کہ فرشتے ضروران لوگوں کو گھیر لیتے ہیں، جو مغرب اور عشاء کے درمیان نماز پڑھتے ہیں اور یہ صلوۃ الاوابین ہے۔ (شرح السنۃ، جلد 3، صفحہ 474، المکتب الاسلامی، بیروت)
علامہ عبد الرحمن بن محمد شیخی زاده داماد آفندی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ”و الست بعد المغرب تسمى صلاة الأوابين“ ترجمہ: اور مغرب کے بعد چھ رکعتیں (پڑھنا مستحب ہے)، جو کہ نمازِ اوّابین کہلاتی ہیں۔ (مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر، جلد 1، صفحه 131، دار إحياء التراث العربي، بيروت)
مفتی محمد وقار الدین قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: مغرب کے فرض پڑھنے کے بعد کم از کم چھ رکعتیں پڑھنا مستحب ہے، ان کو اوابین کہتے ہیں۔ یہ چھ رکعتیں خواہ ایک سلام سے یا دو سے یا تین سلام سے پڑھ سکتے ہیں، (البتہ) تین سلام سے پڑھنا افضل ہے، یعنی ہر دو رکعت پر سلام پھیرے۔ مغرب کے فرض کے بعد دو رکعت سنت مؤکدہ اوابین کے نفل کے ساتھ ملا کر پڑھ سکتے ہیں۔ اس میں مطلق نماز کی نیت بھی کی جا سکتی ہے، اور سنت کی بھی۔ صلاة اوابین کی کم از کم چھ رکعات ہیں اور ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ بنت صدیق رضی اللہ عنہما کی روایت کے مطابق بیس رکعتیں ہیں۔ ( وقار الفتاوی، جلد 2، صفحہ 230، بزم وقار الدین، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد فراز عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4918
تاریخ اجراء: 21 شوال المکرم 1447ھ / 10 اپریل 2026ء