logo logo
AI Search

ہیجڑا اذان و اقامت کہہ سکتا ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ہیجڑے کی اذان و اقامت کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا خنثی یعنی ہیجڑا، اذان اقامت کہہ سکتا ہے؟

جواب

خنثٰی یعنی ہیجڑے کی اذان واقامت مکروہ ہے، لہذا اگر یہ اذان دے، تو دوبارہ اذان کہی جائے گی، لیکن اس کی اقامت کا اعادہ نہیں کیا جائے گا؛ کیونکہ اقامت کی تکرار مشروع نہیں ہے۔ در مختار میں ہے "(ويكره أذان)۔۔۔ خنثى (و فاسق) ولو عالما۔۔۔ (ويعاد أذان۔۔۔ لاإقامته) لمشروعية تكراره في الجمعة دون تكرارها "ترجمہ: خنثی اور فاسق اگرچہ عالم ہی ہوں، ان کی اذان مکروہ ہے۔ اور ان کی اذان کا اعادہ کیا جائے گا، اور اقامت کا اعادہ نہیں کیا جائے گا؛ کیونکہ جمعہ میں اذان کی تکرار تو مشروع ہے لیکن اقامت کی تکرار(کہیں بھی) مشروع نہیں۔ (در مختار مع رد المحتار، جلد 2، صفحہ 75، ملتقطاً، مطبوعہ: کوئٹہ)

بہارشریعت میں ہے "خنثی و فاسق اگرچہ عالم ہی ہو اور نشہ والے اور پاگل اور نا سمجھ بچے اور جنب کی اذان مکروہ ہے، ان سب کی اذان کا اعادہ کیا جائے۔" (بہارشریعت، ج 01، حصہ 03، ص 466، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد حسان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4937
تاریخ اجراء:09 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ/27 اپریل 2026ء