logo logo
AI Search

انٹرنیٹ پر موجود اوقات نماز پر بھروسہ کرنا

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کیا انٹرنیٹ پر موجود نماز کے اوقات کو فالو کیا جا سکتا ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا انٹرنیٹ پر موجود نماز کے اوقات کو فالو کیا جا سکتا ہے؟ ان کے مطابق نماز پڑھ لینا جائز ہوگا؟

جواب

اوقات نماز کے وہ نقشے (Prayer timetables) جو فن توقیت کے ماہر مستند ادارے نے تیار کیے ہوں، ان کو فالو کرنا اور ان کے مطابق نماز ادا کرنا جائز ہے، تاہم نا معلوم یا غیر مستند ادارے کے بنائے ہوئے نقشوں کو اس وقت تک فالو کرنا جائز نہیں، جب تک ان کی مستند طریقے سے تصدیق نہ ہو جائے۔

واضح رہے! موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت سے تیار شدہ (AI generated) اوقات نماز کے نقشوں پر بھی عمل نہیں کیا جا سکتا، جب تک ان کی مستند طریقے سے تصدیق نہ ہو جائے۔ علامہ محمد امین بن عمر ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ”يشترط ‌لصحة ‌الصلاة ‌دخول ‌الوقت و اعتماد دخوله كما في نور الإيضاح وغيره ... و يكفي في ذلك أذان الواحد لو عدلا و إلا تحرى و بنى على غالب ظنه“ ترجمہ: نماز کے صحیح ہونے کے لیے وقت کا داخل ہونا اور وقت کے داخل ہونے کا یقین ہونا شرط ہے، جیسا کہ نور الایضاح وغیرہ میں ہے۔ اور وقت نماز کے حوالے سے ایک شخص کا آگاہ کر دینا کافی ہے اگر وہ عادل ہو، ورنہ (یعنی اگر وہ شخص عادل نہیں تو) آدمی تحری کرے گا اور ظن غالب پر عمل کرے گا۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الصلاة، جلد 2، صفحہ 36،  مطبوعہ: کوئٹہ)

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ”فينبغي ‌الاعتماد ‌في ‌أوقات ‌الصلاة ‌وفي ‌القبلة على ما ذكره العلماء الثقات في كتب المواقيت و على ما وضعوه لها من الآلات كالربع والأسطرلاب فإنها إن لم تفد اليقين تفد غلبة الظن للعالم بها وغلبة الظن كافية في ذلك“ ترجمہ: پس ثقہ علمائے کرام نے فن توقیت کی کتب میں جو (قواعد و ضوابط و جداول) ذکر کیے، اوقات نماز، اور تعیینِ قبلہ کے متعلق ان پر اعتماد کرنا چاہیے، اور انہوں نے جو اوقات کی پہچان، اور سمت قبلہ کے لیے آلات بنائے، جیسے ربع اور اسطرلاب، ان پر (اعتماد کیا جائے)؛ اس لیے، کہ یہ آلات اگر یقین کا فائدہ نہ بھی دیں، تو ان کے جاننے والے کو ظن غالب کا فائدہ تو دیں گے، اور اس مسئلہ میں ظن غالب ہی کافی ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الصلاة، جلد 2، صفحہ 139،  مطبوعہ: کوئٹہ)

شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1421ھ/2000ء) لکھتے ہیں: ”یہ ذہن نشین کر لیں کہ اوقات صلاۃ میں بھی ہر صاحب توقیت کا قول معتبر نہیں، صرف اسی کا معتبر ہے جو مسلمان دین دار ہونے کے ساتھ ساتھ حساب کا ایسا ماہر ہو کہ اس سے حساب میں غلطی شاید باید کبھی ہوتی ہو، نیز استخراج کے اصول سے کما حقہ واقف ہو اور اسے استخراج کا ملکہ بھی حاصل ہو۔“ (فتاوی جامعہ اشرفیہ، جلد 7، صفحہ 349، جامعہ اشرفیہ، مبارک پور)

مشورہ: دنیا بھر کے لیے مستند اوقات نماز حاصل کرنے کے لیے دعوت اسلامی کی آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں یا موبائل ایپ "Prayer Times" انسٹال کریں۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4960
تاریخ اجراء: 25 شوال المکرم1447ھ/14 اپریل 2026ء