نماز میں آیت سجدہ سے پہلے سجدہ تلاوت کرنے کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
آیت سجدہ پڑھنے سے پہلے سجدہ تلاوت کر لیا اور آیت پڑھنے کے بعدسجدہ نہ کیا، تو نماز کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلےکے بارے میں کہ میں نے تراویح میں غلطی سے آیت سجدہ سے پہلے والی آیت پر سجدہ تلاوت کرلیا، میں سمجھا کہ یہ آیت سجدہ ہے، جبکہ آیت سجدہ اس سے اگلی والی آیت تھی، اور پھر اگلی آیت یعنی آیت سجدہ پڑھنے پر دوبارہ سجدہ تلاوت نہیں کیا، بلکہ قراءت جاری رکھی اور آٹھ آیات مزید پڑھنے کے بعد رکوع کیا اور حسب معمول نماز مکمل کرلی، آخر میں سجدہ سہو بھی نہیں کیا اور نہ ہی ان دو رکعتوں کا اعادہ کیا، تو ایسی صورت میں نماز کا کیا حکم ہوگا ؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں تراویح کی ان دو رکعتوں کا اعادہ واجب ہے، کیونکہ آپ کا نماز میں آیت سجدہ پڑھے بغیر سجدہ تلاوت کرنا زائد سجدہ شمار ہوگا، جس کی وجہ سے آپ پر سجدہ سہو لازم تھا، جس طرح کوئی شخص ایک رکعت میں بھولے سے دو کے بجائے تین سجدے کرلے، تو ایک زائد سجدہ ہونے کی وجہ سے اس پر سجدہ سہو لازم ہوتا ہے، اور سجدہ سہو لازم ہونے کے باوجود سجدہ سہو نہ کرنے کی صورت میں نماز مکروہ تحریمی و واجب الاعادہ ہوگی، نیز یہاں نماز مکروہ تحریمی ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ زائد سجدہ کرنے کے بعد جب آپ نے آیتِ سجدہ پڑھی، تو آپ پر سجدہ تلاوت کرنا واجب تھا، لیکن آپ نے نہیں کیا، تو اس کی وجہ سے نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوئی، کیونکہ نماز میں آیت سجدہ پر سجدہ تلاوت کرنا نماز کے اعمال و افعال اور اس کے واجبات میں شامل ہے اور یہ نماز میں بلا تاخیر ادا کرنا واجب ہے، اگر سجدہ کرنا بھول گیا، تو جب تک حرمتِ نماز میں ہے، اگرچہ سلام پھیر لیا ہو، سجدہ تلاوت کرے اور آخر میں سجدہ سہو بھی کرے، اگر بالکل ہی سجدہ تلاوت چھوڑ دیا اور نماز سے باہر ہوگیا، تو اس سجدہ تلاوت کی قضا نہیں، بلکہ اب اس نماز کا اعادہ واجب ہوگا ، لہذا صورتِ مسئولہ میں آپ اور ان دو رکعتوں میں شریک تمام نمازیوں پر تراویح کی ان دو رکعتوں کا اعادہ کرنا لازم ہے، البتہ ان دو رکعتوں میں پڑھے جانے والے قرآن پاک کا اعادہ کرنا ضروری نہیں ہے۔
نماز میں زائد سجدہ کرنا ترکِ واجب ہے۔ چنانچہ درمختار مع رد المحتار میں نماز کے واجبات کے بیان میں ہے:
’’(و ترک تکریر رکوع و تثلیث سجود) لأن فی زیادۃ رکوع أو سجود تغییر المشروع، لأن الواجب فی کل رکعۃ رکوع واحد و سجدتان فقط، فاذا زاد علی ذلک فقد ترک الواجب، ملتقطا‘‘
ترجمۃ: اور (ایک رکعت میں) رکوع ایک سے زائد نہ کرنا اور تین سجدے نہ کرنا (واجب ہے)، کیونکہ رکوع یا سجدہ زیادہ کرنے میں مشروع کو تبدیل کرنا ہے، اس لیے کہ ہر رکعت میں فقط ایک رکوع اور دو سجدے فرض ہیں، اگر اس پر کچھ زیادہ کیا، تو اس نے واجب کو ترک کیا۔ (درمختار مع رد المحتار ج 2، ص 201، مطبوعہ کوئٹہ)
فتاویٰ رضویہ میں سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ سے سوال ہوا کہ امام نے ایک رکعت میں تین سجدے کرلیے اور سجدہ سہو بھی نہیں کیا، تو اس کی نماز کا کیا حکم ہے؟ اس کے جواب میں سیدی اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ’’فرض ادا ہوگیا، واجب ترک ہوا سجدہ سہو لازم تھا، نماز پھیریں اتنے آدمی۔‘‘ (فتاویٰ رضویہ جلد 8، صفحہ 215، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاھور)
بہار شریعت میں ہے: ’’ایک رکعت میں تین سجدے کيے یا دو رکوع یا قعدۂ اولیٰ بھول گیا تو سجدۂ سہو کرے۔‘‘ (بھار شریعت، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 520، مکتبۃ المدینہ، کراچی )
نماز میں آیت سجدہ پڑھنے کے بعد سجدہ تلاوت کرنا نماز کے واجبات میں شامل ہے۔ چنانچہ ’’غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی‘‘ میں واجبات نماز کے باب میں ہے:
’’(و)منھا(سجدۃ التلاوۃ)فانھا مع کونھا واجبۃ فی نفسھا فھی من واجبات الصلاۃ ایضا اذ تلیت فیھا حتی لو اخر ھا عن محلھا سھواً یجب علیہ سجود السھو‘‘
ترجمہ: اور واجبات میں سے سجدہ تلاوت بھی ہے، کیونکہ جب نماز میں آیت سجدہ تلاوت کی جائے اس وقت یہ فی نفسہ واجب ہونے کے ساتھ، نماز کے واجبات میں سے بھی ہے، یہاں تک کہ اگر کسی نے اسے اپنے محل سے موخر کیا، تو اس پر سجدہ سہو، واجب ہوگا۔ (غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی، ص 258، مطبوعہ لاھور)
علامہ سید طحطاوی حنفی علیہ الرحمۃ نماز کے واجبات بیان کرتے ہوئے درمختار کےحاشیہ میں فرماتے ہیں
’’ومنھا سجدۃ التلاوۃ عند قراءۃ آیتھا‘‘
اور ان (واجبات)میں سے آیت سجدہ کی قراءت کے وقت سجدہ تلاوت بھی ہے۔ (حاشیہ طحطاوی علی الدر، ج 1، ص 212، مطبوعہ کوئٹہ)
بہار شریعت، واجبات نماز میں ہے: ’’(45)آیت سجدہ پڑھی ہو تو سجدہ تلاوت کرنا۔‘‘ (بھار شریعت، ج 1، ص 519، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
نماز میں آیت سجدہ پڑھنے کے بعد بلا تاخیر سجدہ تلاوت کرنا واجب ہے، اگر نہ کیا، تو جب تک حرمتِ نماز میں ہے، اگرچہ سلام پھیر لیا ہو، سجدہ تلاوت کرے اور سجدہ سہو کرے۔ چنانچہ متن تنویر الابصار اور شرح درمختار میں ہے:
’’(وھی علی التراخی)علی المختار(ان لم تکن صلویۃ) فعلی الفور لصیرورتھا جزءًا منھا و یاثم بتاخیرھا و یقضیھا ما دام فی حرمۃ الصلاۃ و لو بعد السلام۔ ملتقطا‘‘
اور یہ یعنی سجدہ تلاوت، مختار قول کے مطابق بطور تراخی واجب ہے، بشرطیکہ نماز کا نہ ہو کہ نماز میں واجب سجدہ تلاوت علی الفور واجب ہے کہ یہ نماز کا جزء بن چکا ہے اور اس میں تاخیر کرنے کی صورت میں گنہگار ہوگا اور جب تک نماز کی تحریمہ باقی ہے، اگرچہ سلام کے بعد، وہ سجدہ کرے گا۔ (متن تنویر و شرح درمختار ج 2، ص 703، 704، مطبوعہ کوئٹہ )
علامہ محقق ابن عابدین الشامی علیہ الرحمۃ درمختار کی عبارت (و یاثم بتاخیرھا) کے تحت فرماتے ہیں:
’’لانھا وجبت بما ھو من افعال الصلاۃ، وھو القراءۃ و صارت من اجزائھا، فوجب اداؤھا مضیقا کما فی البدائع ولذا کان المختار وجوب سجود السھو لو تذکر ھا بعد محلھا“
کیونکہ یہ نماز کے افعال میں سے ایک فعل کی وجہ سے واجب ہوا، اور وہ فعل قراءت ہے اوریہ نمازکے اجزاء میں سے ہوگیا، لہٰذا اس کی ادائیگی تنگی کے ساتھ واجب ہے، جیسا کہ بدائع میں ہے اور اسی وجہ سے اگر اپنے محل کے بعد یاد آیا، تو مختار سجدہ سہو کا واجب ہونا ہے۔ (ردالمحتار، ج 2، ص 704، مطبوعہ کوئٹہ )
بہار شریعت میں ہے: ’’سجدہ تلاوت نماز میں فوراً کرنا واجب ہے، تاخیر کرے گا گنہگار ہوگا اور سجدہ کرنا بھول گیا تو جب تک حرمت نماز میں ہے، کرلے، اگرچہ سلام پھیرچکا ہو، اور سجدہ سہو کرے۔‘‘ (بھار شریعت، ج 1، ص 733، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
اگر نماز میں سجدہ تلاوت نہ کیا، تو اب اس کی قضا نہیں۔ چنانچہ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی میں ہے:
’’وکل سجدۃ وجب فی الصلوٰۃ ولم تؤد فیھا سقطت ای لم یبق السجود لھا مشروعا لفوات محلہ، اذ لو سجد خارج الصلوٰۃ یکون مؤدیا لھا انقص مما وجبت، وما وجب کاملا لا یتادیٰ ناقصا، ولو اداھا فی صلوٰۃ اخریٰ فکذلک، لکونھا اجنبیۃ منھا‘‘
ترجمہ: ہر وہ سجدہ جو نماز میں واجب ہوا، اور اس نماز میں اس کو ادا نہیں کیا، تو وہ ساقط ہوجائے گا یعنی محل فوت ہونے کی وجہ سے اب وہ سجدہ مشروع نہ رہے گا، کیونکہ اگر نماز سے باہر سجدہ کیا، تو وہ اس واجب سے کم ادا کرنے والا شمار ہوگا، اور جو چیز کامل واجب ہوئی اس کو ناقص ادا نہیں کیا جاسکتا، اور اگر اس کو دوسری نماز میں ادا کیا، تو بھی اسی طرح حکم ہوگا، کیونکہ وہ اس سجدے کے لئے اجنبی نماز ہے۔ (غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی، ص432، مطبوعہ لاھور )
بہار شریعت میں ہے: ’’نماز میں آیت سجدہ پڑھی تو اس کا سجدہ نماز ہی میں واجب ہے بیرون نماز نہیں ہو سکتا۔ اور قصداً نہ کیا تو گنہگار ہوا توبہ لازم ہے۔‘‘ (بھار شریعت، ج 1، ص 733، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
واجب اگر بھولے سے چھوٹا تو سجدہ سہو لازم ہے، اگر سجدہ سہو نہ کیا یا پھر جان بوجھ کر واجب چھوڑا تو نماز کا اعادہ واجب ہے۔ چنانچہ فتاویٰ رضویہ میں ہے: ’’واجب بھول کر چھوٹا تو سجدہ سہو کا حکم ہے اور قصداً چھوڑا یا بھول کرچھوٹا تھا مگر سجدہ سہو نہ کیا تو اعادہ واجب ہے۔‘‘ (فتاوی رضویہ ج 7، ص 306، مطبوعہ: رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
تراویح کی نماز واجب الاعادہ ہونے کی صورت میں قراءت کا اعادہ ضروری نہیں، چنانچہ اس کے متعلق سیدی اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں: ’’نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوئی کہ واجب ضم سورۃ بوجہ فصل بالاجنبی ترک ہوا مگر اعادہ تراویح سے اعادہ قرآن لازم نہیں یہ (یعنی اعادہ قرآن کا لازم ہونا ) جب تھا کہ تراویح باطل ہوجاتی ۔‘‘ (فتاوی رضویہ، ج 7، ص 481، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور )
تنبیہ (1): یاد رہے کہ نماز میں واجب سجدہ تلاوت، جس طرح مستقل سجدہ کرنے سے ادا ہوتا ہے، اسی طرح نماز کے رکوع اور سجدہ سے بھی ادا ہو جاتا ہے، مگر اس میں شرط یہ ہے کہ آیت سجدہ پڑھنے کے فوراً بعد رکوع اور سجدہ کیا جائے، تین آیات سے زیادہ تاخیر نہ کی جائے، جبکہ صورت مسئولہ میں آپ نے آٹھ آیات پڑھنے کے بعد رکوع اور سجدہ کیا، لہذا اس سے سجدہ تلاوت ادا نہ ہوگا۔ نیز نماز کے رکوع سے سجدہ تلاوت ادا ہونے میں مزید ایک شرط نیت کا ہونا بھی ہے یعنی رکوع میں سجدہ تلاوت کی نیت بھی ہو، اس کے بغیر سجدہ تلاوت ادا نہیں ہوگا، جبکہ نماز کے سجدہ سے سجدہ تلاوت ادا ہونے میں نیت کا ہونا شرط نہیں۔
چنانچہ تنویر الابصار اور شرح درمختار میں ہے:
’’(و) تودی( برکوع صلاۃ)اذا کان الرکوع (علی الفور من قراءۃ آیۃ)او آیتین و کذا الثلاث علی الظاھر کما فی البحر(ان نواہ)ای: کون الرکوع لسجود التلاوۃ علی الراجح(و)تودی(بسجودھا کذلک )ای: علی الفور (وان لم ینو)بالاجماع‘‘
ترجمۃ: اور سجدہ تلاوت نماز کے رکوع سے ادا ہوجاتا ہے، جبکہ وہ رکوع ایک آیت یا دو آیات اور اسی طرح ظاہر الروایہ کے مطابق تین آیات پڑھ کر فوراً کیا ہو (اس سے زیادہ تاخیر نہ کی ہو) جیسا کہ بحر میں ہے، بشرطیکہ نیت بھی کی ہو یعنی سجدہ تلاوت کے لئے رکوع کافی ہونے میں راجح قول پر (نیت شرط ہے) اور بالاجماع نماز کے سجدہ سے بھی اسی طرح یعنی علی الفور ہونے کی صورت میں سجدہ تلاوت ادا ہوجاتا ہے، اگرچہ اس میں نیت بھی نہ ہو۔ (تنویر و در مع ردالمحتار، ج 2، ص 706، 707، مطبوعہ کوئٹہ )
بہار شریعت میں ہے: ’’اگرآیت سجدہ پڑھنے کے بعد فوراً نماز کا سجدہ کرلیا یعنی آیت سجدہ کے بعد تین آیت سے زیادہ نہ پڑھا اور رکوع کرکے سجدہ کیا، تو اگرچہ سجدہ تلاوت کی نیت نہ ہو، ادا ہوجائے گا۔‘‘ (بھار شریعت، ج 1، ص 733، مکتبۃ المدینہ، کراچی )
تنبیہ (2): یاد رہے !جب تراویح کی دو رکعتیں کسی وجہ سے واجب الاعادہ ہوجائیں اور وقت میں ان رکعتوں کا اعادہ نہیں کیا، جیسا کہ صورتِ مسئولہ میں ہے، تو ان رکعتوں کا اعادہ تراویح کا وقت ختم ہو جانے کے بعد بھی واجب ہے، کیونکہ جو نماز واجب الاعادہ ہوجائے، اس کے متعلق راجح حکم یہ ہے کہ اس نماز کا اعادہ وقت کے اندر یا وقت کے بعد دونوں صورتوں میں واجب ہے، یہی وجہ ہے کہ کتب فقہ میں تروایح کے متعلق جہاں واجب الاعادہ ہونے کا حکم ارشاد فرمایا، اس میں کسی قسم کے وقت کی قید نہیں لگائی، البتہ جب تراویح کی دو رکعتیں فاسد ہو جائیں، تو ایسی صورت میں فقط اسی رات میں ان رکعتوں کو دوبارہ ادا کرنے کی صورت میں وہ تراویح میں شمار ہوجائیں گی اور اس رات کے گزر جانے کے بعد یعنی طلوع فجر ہو جانے سے چونکہ تراویح کا وقت ختم ہوجائے گا، لہٰذا بعد میں ان دو رکعتوں کو تراویح کی نیت سے نہیں بلکہ "جونفل شروع کرکے فاسد کردی" اس کی قضا کی نیت سے تنہا (یعنی بغیر جماعت) پڑھیں گے۔
اگر نماز واجب الاعادہ ہو گئی اور اسے وقت میں ادا نہ کر سکے، تو بعد میں بھی اعادہ واجب ہی رہے گا کہ اعادہ وقت کے ساتھ خاص نہیں۔ جیسا کہ رد المحتار میں ہے:
’’يشمل وجوبها في الوقت وبعده: أي بناء على أن الإعادة لا تختص بالوقت‘‘
نماز میں اعادہ واجب ہونے کا حکم وقت اور اس کے بعد دونوں کو شامل ہے۔ یعنی اس پر بنا کرتے ہوئے کہ اعادہ وقت کے ساتھ خاص نہیں۔ (ردالمحتارمع الدر المختار، ج 02، ص 631، مطبوعہ کوئٹہ )
فتاویٰ رضویہ میں تراویح کی ایک واجب الاعادہ صورت کے متعلق سوال ہوا، تو امام اہلسنت رحمہ اللہ نے مطلقاً تراویح کے واجب الاعادہ ہونے کا حکم ارشاد فرمایا، چنانچہ فتاویٰ رضویہ میں سوال ہوا کہ حافظ نے تروایح میں فاتحہ اور سورہ توبہ کے درمیان "اعوذ باللہ من النار ومن شر الکفار الخ " بالجہر قصدا پڑھا، اب دریافت طلب یہ امر ہے کہ نماز ہوئی یا نہیں اور ہوئی تو کیسی ؟ اگر نماز واجب الاعادہ ہو، تو ان دونوں رکعتوں میں جو قرآن پڑھا گیا ختم کے پورا ہونے میں اس کا اعادہ بھی ضرور ہے یا کیا ؟
اس کے جواب میں امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن لکھتے ہیں: ’’سورہ توبہ شریف کے آغاز پر بجائے تسمیہ یہ تعوّذ محدثات عوام سے ہے، شرع میں اس کی اصل نہیں، خیر بیرون نماز اس میں حرج نہ تھا، رہی نماز اگر سورہ فاتحہ کے بعد یہی سورہ توبہ شروع کی اور اس سے پہلے وہ اعوذ پڑھی تو نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوئی کہ واجب ضم سورۃ بوجہ فصل بالاجنبی ترک ہوا، مگر اعادہ تراویح سے اعادہ قرآن لازم نہیں، یہ جب تھا کہ تراویح باطل ہو جاتی۔‘‘ (فتاوی رضویہ، ج 7، ص 481، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور )
یونہی فتاویٰ فیض الرسول میں داڑھی منڈانے یا ایک مشت سے کم رکھنے والے حافظ کے پیچھے پڑھی گئی تراویح کے متعلق سوال ہوا، تو آپ رحمہ اللہ نے مطلقاً اعادہ کا حکم ارشاد فرمایا۔ چنانچہ لکھتے ہیں: ’’جو حفاظ ایک مشت سے کم داڑھی رکھنے کے عادی ہیں، وہ فاسق ہیں ایسے حفاظ کو امامت کرنا، جائز نہیں، اگر وہ لوگ امامت سے باز نہ آئیں، تو مسلمانوں پر لازم ہے کہ ان کو امامت سے روکیں اس لئے کہ ان کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں، جو نمازیں کہ ان کے پیچھے پڑھی گئی ہیں، خواہ فرض ہوں یا سنت ان کا دوبارہ پڑھنا واجب ہے، اگر دوبارہ نہیں پڑھیں گے تو گنہگار ہوں گے۔‘‘ (فتاویٰ فیض الرسول ج1 ، ص 285، مطبوعہ شبیر برادرز)
تراویح کی فاسد رکعتیں دوسرے دن پڑھنا چاہے تو تراویح کی نیت کے ساتھ پڑھنا مکروہ ہے، اس کے متعلق فتاوی عالمگیری میں ہے:
”إذا فاتت التراويح لا تقضى بجماعة ولا بغيرها وهو الصحيح، هكذا في فتاوى قاضي خان۔وإذا تذكروا أنه فسد عليهم شفع من الليلة الماضية فأرادوا القضاء بنية التراويح يكره ولو تذكروا تسليمة بعد أن صلوا الوتر قال محمد بن الفضل: لا يصلونها بجماعة وقال الصدر الشهيد يجوز أن يصلوها بجماعة، كذا في السراج الوهاج“
ترجمہ: جب تراویح فوت ہو جائے، اس کی قضا نہیں، نہ جماعت کے ساتھ اور نہ جماعت کے بغیر۔ اسی طرح فتاوی قاضیخان میں ہے، اور جب یاد آیا کہ گزشتہ رات شفع فاسد ہوا تھا، تو انہوں نے تراویح کی نیت سے قضا کرنے کا ارادہ کیا، تو یہ مکروہ ہے اور اگر وتر کے بعد یاد آیا کہ ایک سلام (یعنی دو رکعتیں) باقی ہیں، تو محمد بن فضل نے فرمایا کہ انہیں جماعت کے ساتھ نہیں پڑھیں گے اور صدر شہید نے فرمایا کہ جماعت کے ساتھ پڑھنا جائز ہے۔ اسی طرح سراج وہاج میں ہے۔ (فتاوی عالمگیری، ج 1، ص 117، مطبوعہ کوئٹہ)
ان کی جماعت مکروہ ہونے کے متعلق بہار شریعت میں ہے: ” وتر پڑھنے کے بعد لوگوں کو یاد آیا کہ دو رکعتیں رہ گئیں تو جماعت سے پڑھ لیں اور آج یاد آیا کہ کل دو رکعتیں رہ گئی تھیں، تو جماعت سے پڑھنا مکروہ ہے۔‘‘ (بھار شریعت ج 1، ص 694، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی فضیل رضا عطاری
فتویٰ نمبر:har-7325
تاریخ اجراء: 10 رمضان المبارک 1447 ھ/28 فروری 2026 ء