logo logo
AI Search

قعدہ اخیرہ میں درود ابراہیمی کی جگہ دوسرا درود پڑھنا

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قعدہ اخیرہ میں درودِ ابراہیمی کے علاوہ کوئی اور درود پاک پڑھنا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

اگر کوئی قعدہ اخیرہ میں التحیات کے بعد درودِ ابراہیمی کی جگہ، کوئی اور درودِ پاک مثلاً: صلی اللہ تعالی علی محمد پڑھ لے، تو اس کی نماز کا کیا حکم ہے؟

جواب

افضل یہ ہے کہ نماز میں درودِ ابراہیمی پڑھا جائے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے درودِ ابراہیمی پڑھنے کی تعلیم ارشاد فرمائی ہے۔ البتہ! درود ابراہیمی کے علاوہ، کوئی دوسرا دورد پاک پڑھنا بھی جائز ہے۔ لہذا قعدہ اخیرہ میں التحیات کے بعد درودِ ابراہیمی کی جگہ صلی اللہ تعالی علی محمد پڑھنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔

درودِ ابراہیمی پڑھنے کے افضل ہونے کے بارے میں حاشیہ طحطاوی علی الدر المختار میں ہے

بان یذکر الصلاۃ و البرکۃ و الرحمۃ مع زیاۃ السیادۃ ندباً و تکرار انک حمید مجید و فی القھستانی عن الجلابی: یصلی بما یحضرہ، انتھی، و اتباع المسنون اولی

ترجمہ: نمازی درود (اللّٰهم صل على محمد)، برکت (اللّٰهم بارک على محمد) اور رحمت کے ساتھ سیادت (سیدنا) کو بھی استحبابی طور پر ذکر کرے اور انک حمید مجید کی تکرار کرے۔ قہستانی میں الجلابی کے حوالے سے یہ منقول ہے کہ نمازی کوجو درود یاد ہو وہ پڑھے، الخ البتہ مسنون درود (درودِ ابراہیمی) کی پیروی بہتر ہے۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار، جلد 1، صفحہ 373، مطبوعہ: کوئٹہ)

بہارِ شریعت میں نماز کی سنتوں کا ذکر کرتے ہوئے مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: بعد تشہد دوسرے قعدہ میں دُرود شریف پڑھنا (سنت ہے) اور افضل وہ دُرود ہے، جو پہلے مذکور ہوا (یعنی درودِ ابراہیمی)۔ (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 531، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4820
تاریخ اجراء: 17رمضان المبارک1447ھ / 07مارچ2026ء