logo logo
AI Search

چار رکعت تراویح کے قعدہ اولی میں بھول کر درود شریف پڑھنا

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

چار رکعات تراویح میں قعدہ اولی میں بھول کر درود شریف پڑھنے کاحکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میرا سوال یہ ہے کہ میں چار رکعت کی نیت سے تراویح پڑھتا ہوں، اگر میں دوسری رکعت میں التحیات کے بعد درود شریف بھول کر پڑھوں گا، تو سجدہ سہو کرنا واجب ہوگا یا نہیں؟

جواب

چار رکعت تراویح ایک سلام کے ساتھ پڑھنی ہوں، توان کے قعدہ اولی میں درود و دعا پڑھنا، اور تیسری رکعت کو ثنا سے شروع کرنا بہتر ہے، اس سے سجدہ سہو واجب نہیں ہوتا۔

نوٹ: یاد رہے! چار رکعت تراویح ایک سلام کے ساتھ پڑھنا جائز تو ہے، مگر دو دو رکعت کر کے دس سلاموں کے ساتھ بیس رکعتیں ادا کرنا بہتر ہے، کہ یہی متوارث (شروع سے چلتا آیا طریقہ) ہے۔

امامِ اہلِ سنّت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے فتاویٰ رضویہ میں سوال ہوا کہ چار رکعت تراویح یا نوافل ایک نیت سے پڑھے، (تو) قعدہ اولیٰ میں درود شریف و دعا اور تیسری رکعت میں سبحٰنک اللھم پڑھے یا نہیں؟ تو جواباً ارشاد فرمایا: ”پڑھنا بہتر ہے۔ درمختار میں ہے

"لایصلی علی النبی صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی القعدۃ الاولٰی فی الاربع قبل الظھر والجمعۃ وبعدھا لایستفتح اذا قام الی الثالثۃ منھا وفی البواقی من ذوات الاربع یصلی علی النبی صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم ویستفتح ویتعوذ ولو نذرا لان کل شفع صلٰوۃ"

مگر تراویح خود ہی دو رکعت بہتر ہے لانہ ھو المتوارث (کیونکہ طریقہ متوارثہ یہی ہے۔)۔۔۔۔یہاں تک کہ اگر چار یا زائد ایک نیت سے پڑھے گا، تو بعض ائمہ کے نزدیک دو ہی رکعت کے قائم مقام ہوں گی، اگرچہ صحیح یہ ہے کہ جتنی پڑھیں شمار ہوں گی جبکہ ہر دو رکعت پر قعدہ کرتا رہا ہو۔ عالمگیری میں ہے:

"ان قعد فی الثانیۃ قدر التشھد اختلفوا فیہ فعلی قول العامۃ یجوز عن تسلیمتین وھو الصحیح ھکذا فی فتاوی قاضی خاں"

(فتاوی رضویہ، جلد 7، صفحہ 443، 444، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد ابو بکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4817
تاریخ اجراء: 21 رمضان المبارک1447ھ/11 مارچ 2026ء