وتر کے بعد نفل پڑھنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وتر کے بعد نفل کا ثبوت
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ وتر کے بعد نفل نہیں ہے، اس کی کیا حقیقت ہے؟
جواب
نمازِ عشا میں وتر کے بعد نفل پڑھنا، بلا شبہ جائز اور حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے بھی ثابت ہے، بلکہ سونے سے پہلے وتر ادا کرنے والوں کے بارے میں حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو سونے سے پہلے وتر پڑھے، تو اسے چاہئے کہ وہ دو رکعت نفل بھی ادا کرے، پھر اگر تہجد کے لیے بیدار ہو گیا، تو تہجد پڑھ لے، ورنہ یہی نفل تہجد کے قائم مقام ہو جائیں گے۔ لہذا ان نوافل کا ضرور اہتمام کرنا چاہئے۔رسولِ خدا صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
ان هذا السهر جهد و ثقل، فاذا اوتر احدكم، فليركع ركعتين، فان قام من الليل و الا كانتا له
ترجمہ: بے شک یہ جاگنا مشقت اور نفس پر گراں ہے، پس جب تم میں سے کوئی شخص وتر پڑھے، تو اسے چاہئے کہ دو رکعت نفل بھی ادا کرے، پس اگر وہ رات کو بیدار ہوگیا (تو ٹھیک) ورنہ یہ دو رکعتیں تہجد کے قائم مقام ہو جائیں گی۔ (مسند الدارمی، جلد 2، صفحہ 993، حدیث: 1635، مطبوعہ: السعودیۃ)
اس کے تحت مراٰۃ المناجیح میں ہے یعنی جسے تہجد میں جاگنے کی امید نہ ہو، وہ سونے سے پہلے وتر پڑھ لے، اگر تہجد کے لیے جاگ گیا، تو تہجد بھی پڑھ لے، ورنہ ان شاءاﷲ ان دو نفلوں کا ثواب تہجد کے برابر ہوجائے گا۔ یہ رب تعالیٰ کی اس امت مرحومہ پرحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدقہ کرم نوازی ہے۔ (مراٰۃ المناجیح، جلد 2، صفحہ 282، نعیمی کتب خانہ، گجرات)
بعدِ وتر نوافل کا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عمل سے ثبوت:
(۱) حضرتِ امِ سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا ارشاد فرماتی ہیں:
ان النبی صلى اللہ عليه و سلم كان يركع ركعتين بعد الوتر و هو جالس
ترجمہ: بے شک حضور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وتر کے بعد دو رکعتیں بیٹھ کر ادا فرماتے تھے۔ (مسند احمد، جلد 44، صفحہ 177، حدیث: 26553، مؤسسۃ الرسالۃ)
(۲) حضرتِ ابو امامہ رضی اللہ تعالی عنہ ارشاد فرماتے ہیں:
ان النبی صلى اللہ عليه وسلم كان يصليهما بعد الوتر وهو جالس يقرأ فيهما: اذا زلزلت الارض وقل يا ايها الكافرون
ترجمہ: حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وتر کے بعد بیٹھ کر دو رکعتیں پڑھتے تھے اور ان میں سورہ زلزال اور سورہ کافرون پڑھتے تھے۔ (مسند احمد، جلد 36، صفحہ 584 تا 585، حدیث: 22246، مؤسسۃ الرسالۃ)
(۳) حضرتِ ابوسلمہ رضی اللہ تعالی عنہ ارشاد فرماتے ہیں:
سالت عائشة عن صلاة رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم، فقالت: كان يصلی ثلاث عشرة ركعة، يصلی ثمان ركعات، ثم يوتر، ثم يصلی ركعتين وهو جالس، فاذا اراد ان يركع قام فركع، ثم يصلی ركعتين بين النداء و الاقامة من صلاة الصبح
ترجمہ: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے بارے میں سوال کیا، تو انہوں نے فرمایا: حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے، آٹھ رکعتیں پڑھنے کے بعد وتر پڑھتے، پھر بیٹھ کر دو رکعتیں پڑھتے تھے، پس جب رکوع کا ارادہ فرماتے تو کھڑے ہوتے، پھر رکوع کرتے، پھر اذان و اقامت کے درمیان نمازِ فجر کی دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ (صحیح مسلم، صفحہ 268، حدیث: 738، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: وتر کے بعد دو نفل پڑھنا مستحب ہے، وہ جو حدیث شریف میں آیا کہ رات میں وتر کو آخری نمازبناؤ، وہاں تہجد سے آخر مراد ہے، یعنی تہجد پہلے پڑھو، وتر بعد میں، یہ دو نفل تہجد نہیں۔ (مراٰۃ المناجیح، جلد 2، صفحہ 271، نعیمی کتب خانہ، گجرات)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4836
تاریخ اجراء: 23 رمضان المبارک 1447ھ / 13 مارچ 2026ء