صلوۃ التسبیح کی نماز میں سجدے کی تسبیح بھول جانا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
صلوۃ التسبیح میں پہلی رکعت کے سجدے کی تسبیح نہیں پڑھی
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
تسبیح نماز کے پہلے سجدے میں، سجدے کی تسبیحات بھول جانے سے، نماز کا حکم کیا ہو گا؟ کیا سجدہ سہو کرنا ہوگا یا نماز ہو جائے گی؟ ہوا ایسا ہےکہ صلاۃ التسبیح پڑھتے ہوئے سجدے میں گیا، تو پڑھنی تو سجدے کی تسبیحات تھیں، مگر زبان سے سبحان اللہ والحمد للّٰہ ولا الہ الا اللہ و اللہ اکبر پڑھ لیا، صرف پہلے سجدے میں ایسا ہوا ہے، باقی الحمد للہ نماز ٹھیک رہی۔
جواب
بیان کی گئی صورت کے مطابق آپ کی نماز ہوگئی ہے، کہ اگر کوئی شخص جان بوجھ کر بھی رکوع و سجود کی تسبیحات نہ پڑھے، تب بھی اس کی نماز ہو جاتی ہے، اور اس پر سجدہ سہو لازم نہیں ہوتا، کیونکہ رکوع و سجود کی تسبیحات پڑھنا سنت ہے، اور سنت کے ترک پر سجدہ سہو لازم نہیں ہوتا، البتہ! ایسی نماز کو دوبارہ پڑھنا مستحب ہے۔
البحر الرائق میں ہے
"لایجب بترک سنۃ کالثناء والتعوذ والتسمیۃ وتکبیرات الرکوع والسجود وتسبیحاتھا"
ترجمہ: سنت، جیسے ثنا، تعوذ، تسمیہ، تکبیراتِ رکوع و سجود، اور ان دونوں کی تسبیحات ترک کرنے سے سجدہ سہو لازم نہیں ہوتا۔ (البحرالرائق، جلد2، صفحہ174، مطبوعہ: کوئٹہ)
درِ مختار میں ہے
”ترك السنۃ لا يوجب فساداً ولا سهواً بل إساءة لو عامدا“
ترجمہ: سنت کا ترک کرنا نماز کو فاسد نہیں کرتا اور نہ ہی سجدہ سہو کو لازم کرتا بلکہ اساءت لازم کرتا ہے، اگرجان بوجھ کر ترک کیا ہو۔
اس کے تحت رد المحتار میں ہے
”فلو غير عامد فلا إساءة أيضا بل تندب اعادة الصلاة“
ترجمہ: پس اگرجان بوجھ کر سنت ترک نہ کی ہو تو اساءت بھی نہیں بلکہ ایسی نماز کا اعادہ مستحب ہے۔ (رد المحتار مع الدر المختار، جلد 2، صفحہ 207، مطبوعہ: کوئٹہ)
حاشیہ طحطاوی علی المراقی میں ہے "قولہ: "وتعاد استحبابا بترك غيره" أي السنة" ترجمہ: واجب کے علاوہ یعنی سنت کے ترک ہونے پر نماز کا اعادہ مستحب ہے۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی، ص 344، دار الكتب العلمية، بیروت)
بہار شریعت میں ہے "سنن و مستحبات مثلاً تعوذ، تسمیہ، ثنا، آمین، تکبیراتِ انتقالات، تسبیحات کے ترک سے بھی سجدۂ سہو نہیں بلکہ نماز ہو گئی۔ مگر اعادہ مستحب ہے سہواً ترک کیا ہو یا قصداً۔" (بہار شریعت، ج 1، حصہ 4، ص 709، مکتبۃ المدینہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4829
تاریخ اجراء: 22 رمضان المبارک 1447 ھ/12 مارچ 2026 ء