تراویح کی کچھ رکعات رات اور کچھ سحری میں پڑھنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
تراویح کی نماز کچھ سونے سے پہلے، اور کچھ سحری میں پڑھنا
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا عورتیں اس طرح کر سکتی ہیں، کہ دس رکعت تراویح رات کو پڑھ لیں، اور دس سحری کے وقت سو کر اٹھنے کے بعد پڑھ لیں۔؟
جواب
تراویح کا وقت عشا کے فرض پڑھنے کے بعد سے صبحِ صادق تک ہے، لہٰذا آدھی تراویح سونے سے پہلے اور آدھی سحری کے وقت پڑھنے سے بھی تراویح کی سنت ادا ہو جائے گی۔ البتہ! بہتر یہ ہے کہ عشا کے فرض کے بعد تراویح 20 رکعت مکمل پڑھ لیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ سحری میں باقی رکعات پڑھنے کا موقع ہی نہ ملے، جیسا کہ بعض اوقات آنکھ لیٹ کھلتی ہے، تو باقی رکعات کے فوت ہونے کا اندیشہ ہے، البتہ! اگر یقین ہو کہ فوت نہیں ہوں گی، تو سحری تک مؤخر کرنے میں بھی کوئی کراہت نہیں۔
فتاوی عالمگیری میں ہے
و الصحیح أن وقتھا ما بعد العشاء إلی طلوع الفجر قبل الوتر و بعدہ
ترجمہ: صحیح یہ ہے کہ تراویح کا وقت عشا کے بعد سے طلوعِ فجر تک ہے، وتر سے پہلے بھی پڑھ سکتے ہیں اور بعد بھی۔ (فتاوی عالمگیری، جلد 1، صفحہ 115، مطبوعہ: کوئٹہ)
درِ مختار میں ہے
(و يستحب تأخيرها إلى ثلث الليل) أو نصفه، و لا تكره بعده في الأصح
ترجمہ: تراویح کو تہائی رات یا نصف رات تک مؤخر کرنا مستحب ہے اور اصح قول کے مطابق اس کے بعد بھی مکروہ نہیں۔
اس کے تحت علامہ شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:
الأحسن أن لا يؤخر إليه خشية الفوات
ترجمہ: تراویح کی نماز فوت ہوجانے کے خوف سے زیادہ اچھی بات یہ ہے کہ اس میں تاخیر نہ کرے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، جلد 2، صفحہ 598، مطبوعہ: کوئٹہ)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4839
تاریخ اجراء: 24 رمضان المبارک 1447ھ / 14 مارچ 2026ء