نابینا حافظ کا تراویح کی امامت کرنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
نابینا حافظ قرآن کا تراویح کی امامت کرنا
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا نابینا حافظ قرآن تراویح پڑھا سکتا ہے؟
جواب
تراویح یا دیگر نمازوں میں نابینا کی امامت کے متعلق تفصیل کچھ یوں ہے کہ:
اگر نابینے امام میں شرائط امامت میں سے کوئی شرط نہیں پائی جاتی، تو اس کی امامت جائز نہیں ہے۔ اور اگر اس میں امامت کی تمام شرائط پائی جاتی ہیں، اور وہاں اس سے زیادہ مسائل نماز و طہارت جاننے والا اور صحیح قراءت کرنے والا کوئی اور موجود نہیں، تو اس کا امامت کرانا بلا کراہت جائز ہے، اور اگر وہاں اس کے علاوہ کوئی اور ایسا شخص موجود ہے، جس میں امامت کی شرائط پائی جاتی ہیں، اور وہ اس سے زیادہ یا اس کے برابر مسائل نماز و طہارت جانتا ہے، تو اس کی موجودگی میں اس کا امامت کرانا مکروہ تنزیہی ہے یعنی جائز ہے مگر بچنا بہتر ہے۔ البحر الرائق شرح کنز الدقائق میں ہے
و قيد كراهة إمامة الأعمى في المحيط و غيره بأن لا يكون أفضل القوم، فإن كان أفضلهم فهو أولى
محیط وغیرہ میں نابینا کی امامت کی کراہت کو اس بات کے ساتھ مقید کیا کہ وہ قوم میں افضل نہ ہو، پس اگر وہ قوم میں افضل ہو تو وہی بہتر ہے۔ (البحر الرائق، جلد 1، صفحہ 369، دار الکتاب الاسلامی، بیروت)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: نابینا کی امامت مکروہِ تنزیہی ہے، جبکہ دوسرے لوگ مسائل طہارت و نماز میں اس سے زائد یا اس کے برابر ہوں اور اگر سب سے زائد یہی علم رکھتا ہو، تو اس کی امامت میں اصلاً کراہت نہیں، بلکہ اس صورت میں اسی کو امام بنانا بہتر ہے۔ (فتاوی امجدیہ، جلد 1، صفحہ 107، مکتبہ رضویہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد ابوبکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4684
تاریخ اجراء: 08 شعبان المعظم1447ھ / 28 جنوری2026ء