نماز میں تعوذ اور تسمیہ چھوڑنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
نماز میں تعوذ و تسمیہ نہ پڑھنے کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
اگر کوئی نماز میں اعوذ باللّٰہ اور بسم اللہ بالکل نہیں پڑھتا، تو کیا حکم ہے؟
جواب
امام اور منفرد (یعنی تنہا نماز پڑھنے والے) کے لیے ثنا کے بعد، قراءت سے پہلے تعوذ (یعنی اعوذ باللّٰہ) اور تسمیہ (یعنی بسم اللہ) پڑھنا سنت ہے، بلا وجہ قصدا ان کو ترک کرنا مکروہ ہے، لیکن نمازہوجائے گی۔
فتاوی عالمگیری میں ہے
(سننھا)۔۔۔ التعوذ و التسمیۃ
ترجمہ: نماز کی سنتوں میں سے تعوذ اور تسمیہ بھی ہیں۔ (فتاوی عالمگیری، جلد 1، صفحہ 72، مطبوعہ: کوئٹہ)
نماز کی سنتیں بیان کرتے ہوئے مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: (۱۳) ثنا و (۱۴) تعوذ و (۱۵) تسمیہ و (۱۶) آمین کہنا اور (۱۷) ان سب کا آہستہ ہونا (۱۸) پہلے ثنا پڑھے (۱۹) پھر تعوذ (۲۰) پھر تسمیہ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 522، 523، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
بہار شریعت میں ہے ہر سنت کا ترک مکروہ ہے۔ یوہیں ہر مکروہ کا ترک سنت۔ (بہار شریعت، ج 01، حصہ 02، ص 301، مکتبۃ المدینہ)
سنت كے ترک سے بھی نماز ہوجاتی ہے، چنانچہ در مختار میں ہے
ترک السنۃ لا یوجب فسادا و لا سھوا
ترجمہ: سنت کا ترک نہ نماز کو فاسد کرتا ہے اور نہ ہی سجدہ سہو کو لازم کرتا ہے۔ (الدر المختار، جلد 2، صفحہ 207، مطبوعہ: کوئٹہ)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد فراز عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4695
تاریخ اجراء: 09 شعبان المعظم1447ھ / 29 جنوری2026ء