logo logo
AI Search

الکوحل والی سینی ٹائزر لگا کر نماز پڑھ سکتے ہیں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

الکوحل والی سینی ٹائزر لگاکر نماز پڑھنا کیسا ؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ آج کل الکوحل کا استعمال بہت بڑھ چکا ہے، جیسا کہ ادویات میں اور انجیکشن سے پہلے روئی سے لگایا جاتا ہے، اسی طرح سنیٹائزر میں الکوحل ہوتا ہے، اس سے ہاتھوں کو صاف کیا جاتا ہے، بہت سے لوگ پانی سے ہاتھ دھونے کی بجائے سنیٹائزر سے ہاتھ صاف کرنے کو ترجیح دیتے ہیں اور پھر انہیں ہاتھوں سے کھانا بھی کھاتے ہیں، تو جسم کے جس حصے پر الکوحل لگایا جائے، کیا وہ حصہ ناپاک ہو جاتا ہے؟ سنیٹائزر لگا کر نماز پڑھنے سے نماز ہو جاتی ہے یا نہیں؟ سائل: قاری احمد رضا (ڈی ایچ اے، فیز 2، اسلام آباد)

جواب

جید علمائے کرام نے لوگوں کے کثرت سے الکوحل ملی اشیاء کے استعمال میں مبتلا ہونے کی وجہ سے اس کے بارے میں یہ حکم ارشاد فرمایا ہے کہ خارجی استعمال کی حد تک ان اشیاء کا استعمال جائز ہے، الکوحل آمیز اشیاء ناپاک نہیں، بلکہ پاک ہیں، لہذا اگر ہاتھوں یا جسم کے کسی حصے پر سنیٹائزر یا الکوحل لگا ہو تو ہاتھ یا جسم کا وہ حصہ ناپاک نہیں ہو گا، اسی طرح الکوحل ملی پرفیوم لگانے سےکپڑے ناپاک نہیں ہوں گے۔ البتہ کھانے پینے کے معاملہ میں حکم یہ ہے کہ الکوحل کا پینایا جس چیز میں الکوحل شامل ہو، اس کا کھانا یا پینا حرام ہے، ہاں ضرورت اور دفع حرج کی وجہ سے صرف ادویات کی حد تک الکوحل کی اجازت ہے۔

سید ی اعلی حضرت امام اہلسنت مجدددین وملت امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمٰن ارشاد فرماتے ہیں:

’’والحرج مدفوع بالنص و عموم البلویٰ من موجبات التخفیف لا سیما فی مسائل الطھارۃ و النجاسۃ‘‘

یعنی نص سے ثابت ہے کہ حرج دور کیا گیا اور عموم بلویٰ سے حکم میں تخفیف ہو جاتی ہے، خصوصاً مسائل طہارت اور نجاست میں۔‘‘ (فتاوی رضویہ ج 4، ص 390، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: عبدہ المذنب محمد نوید چشتی عفی عنہ
مصدق: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: HAB-0303
تاریخ اجراء: 19 رجب المرجب 1445ھ 31 جنوری 2024ء