logo logo
AI Search

جائے نماز پر اپنا نام لکھوانا اور اس پر نماز پڑھنا

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

الکوحل والی سینی ٹائزر لگاکر نماز پڑھنا کیسا ؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

 آج کل  جائےنماز پر اپنا نام لکھوایا جارہا ہے، اسی طرح جب کوئی حرمین شریفین سے کسی کے لیے جا ئےنماز لاتا ہے تو اس پر اس کا نام لکھواتا ہے، ایسا کرنا کیسا ہے ؟نیز یہ بھی ارشاد فرمائیں کہ کیا ایسی جائے نماز پر نماز ہوجائے گی؟

جواب

جائے نماز پر اپنا نام یا کوئی بھی تحریر لکھوانے سے بچنا چاہئے، اگرچہ حروف مفردہ (یعنی جدا جدا حروف) ہو ں، کیونکہ ایسی جائے نماز کو استعمال کرنے میں اس تحریر یا حروف کی بے ادبی و بے حرمتی ہونے کا احتمال ہے، جبکہ عند الشرع ان کا ادب و احترام مطلوب ہے، لہٰذا اگر پہلے سے ہی جائے نماز پرکسی چیز کا نام لکھا ہوا ہو، تو اسے مٹا دیا جائے یاچٹ لگی ہوئی ہو، تواسے جُدا کر دیا جائے۔

رہی یہ بات کہ ایسی جائے نماز پر نماز ہوگی یا نہیں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ جائے نماز پر کچھ لکھا ہوا ہونا کوئی ایسی چیز نہیں کہ جو نماز سے مانع ہو، لہٰذا اس پر نماز تو ہوجائے گی، البتہ ایسی جائے نماز پر نماز پڑھنے سے بچنا چاہئے کہ اولاً تو جس جائے نماز پر کچھ لکھا ہوا ہو، اس کو استعمال کرنے، بچھانے اور اس پر بیٹھنے سے فقہاء کرام علیہم الرحمۃ اجمعین نے منع فرمایا ہے اور ثانیاً یہ کہ ایسی جائے نماز پر موجود لکھائی پر جب نماز کے دوران نمازی کی نظر پڑے گی تو اس کا دھیان بٹے گا اور نماز میں ایسی ہر چیز سے بچنے کا حکم ہے جس سے نمازی کا دھیان بٹے، اس کی توجہ یا خشوع و خضوع باقی نہ رہے۔

خاتم المحققین علامہ سید ابن عابدین شامی علیہ الرحمۃ رد المحتار میں لکھتے ہیں:

”وفی الخانیۃ: بساط أو مصلى كتب عليه في النسج الملك لله يكره استعماله وبسطه، والقعود عليه، ولو قطع الحرف من الحرف أو خيط على بعض الحروف: حتى لم تبق الكلمة متصلة لا تزول الكراهة لأن للحروف المفردة حرمة وكذا لو كان عليها الملك أو الألف وحدها أو اللام“

ترجمہ: ایسے بچھونے یا مصلے کا استعمال کرنا، بچھانا یا اس پر بیٹھنا، مکروہ ہے جس پر بنتے وقت لکھا ہو" الملك لله" یعنی بادشاہت اللہ کے لیے ہے اور اگر حروف کو ایک دوسرے سے کاٹ دیا جائے یا بعض حروف پر سلائی کردی جائے، جس کے سبب کلمہ ملا ہوا نہ رہے، تو پھر بھی کراہت زائل نہیں ہوگی، کیونکہ حروف مفردہ (جدا جدا لکھے ہوئے حروف) کی بھی حرمت ہے۔ اور اسی طرح اگراس پر صرف لفظ "الملک" لکھا ہو یا تنہا الف یا لام لکھا ہو تو تب بھی یہی حکم ہے۔ (رد المحتار، کتاب الحظر والإباحۃ، ج 6، ص 364، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)

یہی مسئلہ بیان کرنے کے بعد امام ابن مازہ حنفی علیہ الرحمۃ محیط برہانی میں لکھتے ہیں:

”وللحروف المفردة حرمة؛ لأن نظم القرآن وأخبار النبي عليه السلام بواسطة هذه الحروف، وقد روي أن واحداً من الأئمة رأى الشبان يرمون، وقد كان المكتوب على الهدف: أبو جهل لعنه الله، فمنعهم عن ذلك، ومضى بوجهه، ثم رجع، فوجدهم محوا اسم الله وكانوا يرمون كذلك، فقال: إنما أمنعكم لأجل الحروف“

ترجمہ: اور حروف مفردہ کی بھی حرمت و عظمت ہے، کیونکہ الفاظ ِ قرآن اور نبی علیہ السلام کی احادیث انہی حروف کے واسطے سے ہیں، اورمروی ہے کہ ائمہ دین میں ایک امام صاحب نے چند نوجوانوں کو دیکھا جو کسی ہدف پر تیر اندازی کر رہے تھے اور ہدف پر لکھا تھا "ابوجہل، اس پر اللہ کی لعنت" تو انہوں نے اس سے ان کومنع کیا اور اپنےکام کوچل دئیے، پھر واپس ہوئے تو ان کو پایا کہ انہوں نے اللہ تعالی کا نام صاف کردیا اور بقیہ پر اسی طرح تیر پھینک رہے تھے، تو آپ نے فرمایا: میں حروف کی وجہ سے ہی منع کر رہا تھا۔ (المحیط البرھانی، کتاب الاستحسان والکراھیۃ، الفصل الثانی والثلاثون فی المتفرقات، ج 05، ص 408، دارالکتب العلمیۃ، بیروت)

درمختار میں ہے:

”ولابأس بنقشہ خلا محرابہ فانہ یکرہ لأنہ یلھی المصلی

ترجمہ: اور مسجد پر اس کے محراب کے علاوہ نقش و نگار کرنے میں کوئی حرج نہیں (محراب کے علاوہ اس لئے کہا) کیونکہ (محراب پر نقش و نگار کرنا) مکروہ ہے کیونکہ یہ نمازی کی توجہ ہٹادے گا۔ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصلوٰۃ، جلد  02، صفحہ  519، مطبوعہ کراچی)

در مختار کی عبارت ”لأنہ یلھی المصلی“ کے تحت رد المحتار میں ہے:

”أی فیخل بخشوعہ من النظر الی موضع سجودہ و نحوہ، و قد صرح فی البدائع فی مستحباب الصلوٰۃ أنہ ینبغی الخشوع فیھا و یکون منتھی بصرہ الی موضع سجودہ“

ترجمہ: تو جب نماز ی اپنے موضع سجود اور اس کی مثل کی طرف نظر کرے گا تو اس کے خشوع میں خلل واقع ہوگا، اور بدائع الصنائع میں باب مستحباب الصلوٰۃ میں یہ تصریح کی گئی ہے کہ نماز میں خشوع ہونا مناسب ہے اور یہ بھی بہتر ہے کہ نمازی کی نظر کی انتہاء اس کے موضع سجود کی طرف ہو۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الصلوٰۃ، جلد  02، صفحہ  520، مطبوعہ کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: HAB-0302
تاریخ اجراء: 10 شعبان المعظم 1445ھ/ 21 فروری 2024 ء