سورہ فاتحہ سے پہلے بھول کر سورت شروع کرلینا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
سورہ فاتحہ سے پہلے بھول کر سورت شروع کر دی تو نماز کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے کل مغرب کی نمازمیں دوسری رکعت کے شروع میں بھولے سے سورہ قریش شروع کر دی اور دو آیتیں پڑھنے کے بعد یاد آنے پر سورہ فاتحہ پڑھی، پھر دوبارہ سورت ملائی اور بغیر سجدہ سہو کے نماز مکمل کر لی، اس معاملے میں میری رہنمائی فرمائیں کہ کیا مجھ پر سجدہ سہو لازم تھا یا نہیں؟ اور میری اس نماز کا کیا حکم ہے؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں اس نماز کو دوبارہ پڑھنا، واجب ہے، کیونکہ سورہ فاتحہ کو سورت ملانے سے پہلے پڑھنا، واجب ہے اور سورہ فاتحہ سے پہلے کسی سورت کی ایک آیت بھی بھول کر پڑھنے سے سجدہ سہو لازم ہو جاتا ہے اور سجدہ سہو لازم ہونے کے باوجود، سجدہ نہ کرنے سے نماز واجب الاعادہ ہوتی ہے، چونکہ صورت مسئولہ میں اصل حکم کے برخلاف ہی ہوا ہے اور سجدہ سہو بھی نہیں کیا، لہذا اس نماز کو دوبارہ پڑھنا واجب ہے۔
سوره فاتحہ سے پہلے ایک آیت پڑھنے سے بھی سجدہ سہو لازم ہوجاتا ہے، چنانچہ حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے:
و من الواجب تقدیم الفاتحۃ علی السورۃ و ان لا یوخر السورۃ عنھا بمقدار اداء رکن فلو بدأبآیۃ من السورۃ ثم تذکر الفاتحۃ یقرءھا و یعید السورۃ و یسجد للسھو لتاخیر الواجب عن محلہ
ترجمہ: سورہ فاتحہ کا سورت سے پہلے ہونا اور اس میں ایک رکن کی مقدار سے تاخیر نہ ہونا، واجب ہے، لہذا اگر کسی نے (سورہ فاتحہ) سے پہلے کسی سورت کی آیت پڑھنا شروع کی، پھر اسے سورہ فاتحہ یاد آئی، تو وہ اسے پڑھے، سورت کو ملائے اور واجب کو اس کے محل سے مؤخر کرنے کی وجہ سے سجدہ سہو کرے۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، صفحہ 460، مطبوعہ دار الكتب العلمية، بيروت)
بہار شریعت میں ہے: الحمد پڑھنا بھول گیا اور سورت شروع کر دی اور بقدر ایک آیت کے پڑھ لی اب یاد آیا، تو الحمد پڑھ کر سورت پڑھے اور سجدہ واجب ہے۔ (بهار شریعت، جلد 1، حصہ 4، صفحہ 711، مطبوعہ مکتبۃ المدینۃ، کراچی)
سجدہ سہو لازم تھا، لیکن نہ کیا، تو اس بارے فتاوی امجدیہ میں ہے: واجبات نماز سے ہر واجب کے ترک کا یہی حکم ہے کہ اگر سہواً ہو، تو سجدہ سہو واجب اور سجدہ سہو نہ کیا یا قصداً واجب کو ترک کیا تو نماز کا اعادہ واجب ہے۔ (فتاوی امجدیہ، جلد 1، صفحہ 276، مکتبہ رضویہ)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9738
تاریخ اجراء: 29 رجب المرجب 1447ھ /19 جنوری 2026ء