logo logo
AI Search

جس جگہ 14 راتیں اور 15 دن ٹھہرنا ہو وہاں قصر کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

جس جگہ چودہ راتیں اور پندرہ دن ٹھہرنے ہوں تو نماز پوری پڑھنی ہوگی یا قصر ؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص پاکستان سے مدینہ منورہ حاضری کے لیے گیا۔ وہاں اس کی نیت چودہ راتیں مکمل ٹھہر کر پندرہویں دن واپس آنے کی تھی، تو اس نے وہاں پہنچ کر دو دن نمازیں قصر پڑھیں، لیکن پھر کسی نے بتایا کہ مکمل نمازیں پڑھنی ہیں، جس وجہ سے اس نے باقی کے ایام میں مکمل نمازیں ادا کیں اور یوں وہ 14 راتیں مکمل اور پندرہویں دن کی 3 نمازوں تک مدینہ شریف حاضر رہا، پندرہویں رات مدینہ شریف نہیں گزاری اور پھر واپس آگیا۔ شرعی رہنمائی فرما دیں کہ یہ شخص مدینہ شریف جتنا عرصہ حاضر رہا، مقیم تھا یا مسافر ؟ اور اس کی پہلے دو دن اور باقی کی نمازوں کا کیا حکم ہے ؟

نوٹ: اس شخص نے یہ ساری نمازیں منفرد اور دوسری پر قعدہ کر کے پڑھی تھیں۔

جواب

پوچھی گئی صورت میں اس شخص نے شروع کے دو دن جو قصر نمازیں پڑھیں، وہ تو درست ادا ہوگئی ہیں، لیکن دو دن کے بعد جو نمازیں قصر کی بجائے مکمل ادا کی ہیں، وہ مکروہ تحریمی، واجب الاعادہ ہوئی ہیں، ان کا اعادہ کرنا اس پرواجب ہے۔

مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ جب کوئی شخص 92کلومیٹر کی مسافت پر 15 سے کم دن ٹھہرنے کی نیت سے جائے، تو وہ شرعی مسافر ہوتا ہے اور یہاں پر 15دن سے مراد 15 راتیں ہیں یعنی کسی جگہ مسلسل 15 راتیں نہیں ٹھہرے گا، تو مسافر رہے گا اور اگر کسی جگہ پر 15 راتیں مسلسل ٹھہرنے کی نیت ہے، اگرچہ دن میں کسی اور جگہ جانا ہے، تو وہ مقیم ہوجائے گا، مسافر نہیں ہوگا، بشرطیکہ دن میں جہاں جانا ہے، رات والے مقام سے وہ شرعی مسافت پر واقع نہ ہو، الغرض جب تک 15 راتوں سے کم ٹھہرنے کی نیت ہوگی، تو مسافر ہی رہے گا۔ لہٰذا پوچھی گئی صورت میں جب آپ کی نیت مدینہ شریف میں 14 راتیں ٹھہرنے کی تھی، 15 راتوں کی نہیں تھی، تو آپ وہاں مقیم بھی نہیں تھے، شرعی مسافر ہی تھے، جس وجہ سے آپ پر نمازوں میں قصر کرنا واجب تھا اور شرعی مسافر جب اکیلے نماز پڑھتے ہوئے قصداً نماز میں قصر نہ کرے، پوری پڑھ لے، تو یہ قصداً واجب کو ترک کرنا ہے، جو ناجائز و گناہ ہے، لہٰذا اس کی توبہ کرنا اور مکمل پڑھی گئی نمازوں کا اعادہ کرنا آپ پر واجب ہے۔

مقیم ہونے کے لیے پندرہ راتیں مسلسل ایک جگہ پر گزارنے کی نیت ضروری ہے، اگرچہ دن کسی دوسری جگہ پر گزارے۔ اس کے بارے میں سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن جدالممتار میں فرماتے ہیں:

’’اقول: الحق ان التوالی شرط فانہ لو نوی ان یقیم ھاھنا اسبوعاً فی اول کل شھر لا یکون مقیماً ھاھنا ابداً۔ و الخروج قسمان: احدھما: الخروج نھاراً او لیلاً الی موضع آخر مع المبیت ھاھنا، فھذا لا یقطع التوالی؛ لان مقامک ھو مبیتک، الا تری! انک تسال التاجر عن مقامہ فیقول فی المحل الفلانی مع کونہ کل یوم نھاراً بالسوق۔ و الآخر: الخروج الی موضع آخر للمبیت فیہ و لو لیلۃ، فھذا الذی یقطع التوالی و ھو الموجود فی مِنیٰ‘‘

ترجمہ: میں کہتا ہوں: حق یہ ہے کہ تسلسل شرط ہے۔ اگر یہ نیت کرے کہ ہر مہینے کی ابتدا میں ایک ہفتہ یہاں مقیم رہے گا، تو یوں کبھی بھی یہاں مقیم نہیں ہو گا۔ خروج (نکلنے) کی دو قسمیں ہیں۔ پہلی قسم یہ ہے کہ دن یا رات میں دوسری جگہ کی طرف اس نیت کے ساتھ نکلنا کہ رات یہاں گزارے گا تو یہ تسلسل کو منقطع نہیں کرے گا، اس لیے کہ تیری اقامت کی جگہ وہ ہے، جو تیرے رات گزارنے کی جگہ ہے۔ کیا تو نہیں دیکھتا کہ جب تو تاجر سے اس کی قیام گاہ کے بارے میں پوچھے، تو وہ کہے گا فلاں محلہ، اس کے باوجود کہ وہ ہر روز دن میں بازار میں ہوتا ہے۔

دوسری قسم:  دوسری جگہ کی طرف نکلنا اس میں رات گزارنے کے لیے، اگرچہ ایک ہی رات ہو۔ یہ ’’منیٰ‘‘ میں موجود ہے (یعنی ذی الحجہ میں حاجی نے مکہ میں اقامت کی نیت کی، تو اس کی نیت اقامت معتبر نہیں کہ اس نے پندرہ دن مکمل ہونے سے پہلے منیٰ میں رات گزارنے کے لیے نکلنا ہے)۔ (جدالممتار، کتاب الصلوٰۃ، باب صلوٰۃ المسافر، جلد 3، صفحہ 566، 567، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

رات کا اعتبار کرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے بحر الرائق میں فرمایا:

”لأن ‌إقامة ‌المرء تضاف إلى مبيته يقال فلان يسكن في حارة كذا، وإن كان بالنهار في الأسواق“

ترجمہ: وجہ یہ ہے کہ آدمی کی رہائش کی نسبت اس مقام کی طرف ہوتی ہے جہاں وہ رات گزارتا ہے، کہا جاتا ہے فلاں شخص فلاں بستی میں رہتا ہے اگرچہ دن کے وقت وہ بازاروں میں ہوتا ہو۔ (البحر الرائق، کتاب الصلوٰۃ، باب صلوٰۃ المسافر، جلد 2، صفحہ 232، مطبوعہ کوئٹہ)

درست مسئلہ معلوم نہ ہونے کی وجہ سے مسافر نے قصر نماز پوری پڑھی، تو اس کے متعلق فتاویٰ رضویہ میں ہے: ”جس پر شرعاً قصر ہے اور اس نے جہلاً پوری پڑھی، اس پر مواخذہ ہے اور اس نماز کا پھیرنا واجب۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 8، صفحہ 270، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

تنبیہ ! جس نے اس صورت میں قصر کی بجائے مکمل نمازیں ادا کرنے کا مسئلہ بتایا ہے، اسے غلط فہمی ہوئی یا اس نے غلط بتایا، جبکہ مسئلہ صحیح یاد کرکے ہی بتانا چاہیے۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Aqs-2762
تاریخ اجراء: 18 رمضان المبارک 1446ھ/19 مارچ 2025ء