سجدہ سہو کے بعد نماز کا کوئی فرض یاد آجائے تو کیا حکم ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
سجدہ سہو کرنے کے بعد نماز کا کوئی فرض یاد آجائے تو کیا سجدہ سہو دوبارہ کرنا ہوگا ؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
اگر کسی شخص نے سجدۂ سہو ادا کر لیا ہو، پھر اسی نماز میں کوئی فرض سجدہ بھولا ہوا یاد آ جائے اور وہ فوراً ادا کر لے، تواس صورت میں دوبارہ سجدۂ سہو کرنا لازم ہوگا یا نہیں؟
پوچھنے کی وجہ یہ ہے کہ میں نے کل تنہا نمازِ عصر ادا کرتے ہوئے بھولے سے قعدۂ اُولیٰ میں سورۂ فاتحہ پڑھ لی، جس کی وجہ سے میں نے نماز کے آخر میں سجدۂ سہو کیا۔ اس کے بعد مجھے یاد آیا کہ نماز کی چوتھی رکعت کا ایک سجدہ مجھ سے رہ گیا تھا، چنانچہ میں نے فوراً وہ سجدہ ادا کیا اور دوبارہ قعدۂ اخیرہ کیا، کیونکہ مجھے یہ مسئلہ معلوم تھا کہ اگر قعدۂ اخیرہ میں نماز کا کوئی فرض سجدہ یاد آ جائے تو فوراً اس کی ادائیگی ضروری ہوتی ہے، پھر دوبارہ قعدۂ اخیرہ کر کے نماز مکمل کی جاتی ہے۔البتہ میں نے دوبارہ سجدۂ سہو اس خیال سے نہیں کیا کہ ایک نماز میں صرف ایک ہی مرتبہ سجدۂ سہو کی اجازت ہوتی ہے اور میں وہ پہلے ہی ادا کر چکا تھا۔اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس صورت میں میری نماز کا کیا حکم ہے؟ کیا مجھے دوبارہ سجدۂ سہو کرنا چاہیے تھا یا نہیں؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں نماز کا بھولا ہوا سجدہ ادا کرنے کے بعد دوبارہ قعدۂ اخیرہ کرنا اور اس کے بعد دوبارہ سجدۂ سہو کرنا بھی لازم تھا، اس لیے کہ شرعی اعتبار سے وہی سجدۂ سہو معتبر ہوتا ہے جو نماز کے بالکل آخر میں کیا جائے، جبکہ صورت مسئولہ میں نماز کا بھولا ہوا فرض سجدہ ادا کرنے کی وجہ سے پہلا سجدۂ سہو نماز کے آخر میں واقع نہیں ہوا، لہٰذا وہ غیر محل میں ہونے کی بنا پر معتبر ہی نہیں رہا۔ اس بنا پر بعد میں کیا جانے والا سجدۂ سہو، پہلے سجدۂ سہو کا تکرار نہیں تھا، کیونکہ پہلا سجدۂ سہو باطل اور کالعدم ہو چکا تھا، اس لیے شرعاً معتبر اور قابلِ شمار سجدۂ سہو وہی ہوتا جو نماز کے اختتام پر کیا جاتا۔ چونکہ اس صورت میں سجدۂ سہو واجب ہونے کے باوجود جان بوجھ کر ادا نہیں کیا گیا، اس لیے نماز مکروہِ تحریمی ہو گئی، اور ایسی نماز کو دوبارہ صحیح طریقے سے ادا کرنا واجب ہے۔
ترک واجب کے سبب سجدہ سہو کرنے کے بعد نماز کا بھولا ہوا سجدہ کیا تو دوبارہ سجدہ سہو لازم ہے کہ پہلے والا سجدہ سہو غیر محل میں ہونے کے سبب غیر معتبر ہے، چنانچہ درمختار و رد المحتار میں ہے:
”(من أدرك الإمام في تشهد المغرب وعليه سهو فسجد معه وتشهد ثم تذكر)أي الإمام( سجود تلاوة فسجد) أي المأموم مع الإمام(وتشهد) لأن سجود التلاوة يرفع القعدة( ثم سجد) أي المأموم مع الإمام للسهو لأن سجود السهو لا يعتد به إلا إذا وقع خاتما لأفعال الصلاة(قلت: ومثل التلاوة تذكر الصلبية) أي في إبطال القعدة قبلها وإعادة سجود السهو“
ترجمہ: (وہ شخص) جس نے امام کو مغرب کی نماز کے دوسرے تشہد میں پایا، جبکہ امام پر سجدۂ سہو لازم تھا، تو وہ مقتدی امام کے ساتھ سجدۂ سہو میں شریک ہوگا اور تشہد پڑھے گا، پھر امام کو یاد آیاکہ اس پر سجدۂ تلاوت باقی ہے، تو اس نے سجدۂ تلاوت کیا، تومقتدی بھی امام کے ساتھ سجدۂ تلاوت میں شریک ہوگا، اور تشہد پڑھے گا، کیونکہ سجدۂ تلاوت قعدہ کو ختم کر دیتا ہے۔ اس کے بعد مقتدی امام کے ساتھ دوبارہ سجدۂ سہو کرے گا، کیونکہ سجدۂ سہو اس وقت تک معتبر نہیں ہوتا جب تک وہ نماز کے افعال کے آخر میں واقع نہ ہو۔ میں کہتا ہوں: سجدۂ تلاوت کی طرح ہی اصل (فرض) سجدہ یاد آ جانا بھی ہے، یعنی وہ بھی اس سے پہلے کے قعدہ کو باطل کر دیتا ہے اور سجدۂ سہو کو دوبارہ کرنا لازم ہو جاتا ہے۔ (الدر المختار مع رد المحتار، ج 01، ص 466 مطبوعہ مصر)
یونہی علامہ سید طحطاوی علیہ الرحمۃ مراقی الفلاح کے حواشی میں لکھتے ہیں:
”فلا يجب عليه أكثر من سجدتين بالإجماع ولا يرد ما لو سجد للسهو ثم تذكر سجدة تلاوة أو صلبية فإنه يسجد للمتروكة ثم يعيد سجود السهو فقد تكرر سجود السهو في صلاة واحدة حقيقة وحكما لأنا نقول هذا ليس بتكرار وإنما أعيد لرفعه بالعود إلى التلاوية أو الصلبية لتبين أن سجوده الأول لم يكن في محله كذا في البحر“
ترجمہ: پس بالاجماع اس پر دو سجدوں سے زیادہ لازم نہیں ہوتے۔ اور یہ اعتراض وارد نہیں ہوتا کہ اگر کسی شخص نے سجدۂ سہو کرلیا، پھر اسے سجدۂ تلاوت یا نماز کا اصل سجدہ یاد آگیا، تو وہ پہلے اس چھوڑے ہوئے سجدے کو ادا کرے گا، پھر سجدۂ سہو کو دوبارہ کرے گا؛ تو اس صورت میں ایک ہی نماز میں حقیقتاً اور حکماً سجدۂ سہو کا تکرار ہوگیا ہے! ہم کہتے ہیں کہ یہ تکرار نہیں ہے، بلکہ سجدۂ سہو کو محض اس لیے دوبارہ کیا جاتا ہے کہ اس صورت میں سجدہ تلاوت یا اصل فرض سجدے کی طرف لوٹنے سے یہ بات واضح ہوگئی کہ پہلا سجدۂ سہو اپنے محل میں نہیں تھا۔اسی طرح بحر الرائق میں مذکور ہے۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، ص 465، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
سجدہ سہو لازم ہوجانے کے باوجود جان بوجھ کر ادانہ کیا تو اب نماز کا اعادہ لازم ہے، درمختار و رد المحتارمیں ہے:
”(و لھا واجبات لا تفسد بترکھا و تعاد وجوباً فی العمد و السھو ان لم یسجد لہ)أی للسھو“
ترجمہ: نماز کے کچھ واجبات ہیں جن کو چھوڑنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی لیکن اگر جان بوجھ کر ان واجبات کو چھوڑا یا سجدہ سہو واجب ہونےکے باوجود نہ کیا تو اعادہ لازم ہے۔ (درمختار مع ردالمحتار، ج 1، ص 456، مطبوعہ مصر)
بہار شریعت میں ہے: ”اگر سہواً واجب ترک ہوا اور سجدۂ سہو نہ کیا جب بھی اعادہ واجب ہے۔“ (بہارشریعت، ج 1، حصہ 4، ص 708، مطبوعہ: مکتبۃ المدینہ )
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: HAB-0715
تاریخ اجراء: 09 شعبان المعظم 1447ھ/29 جنوری 2026 ء