فرض نماز کے بعد امام کا درس دینا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
ہر نماز کے فرضوں کے بعد امام کا درس دینا کیسا ؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس بارے میں کہ ہمارے ہاں ایک مسجد میں ہر نماز کے فرضوں کے بعد امام صاحب کچھ دیر درس دیتے ہیں، تو شرعی رہنمائی فرمائیں کہ کیا ایسا کرنا درست ہے؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں فجر و عصر کی نمازوں کے فوراً بعد درس دینے میں تو حرج نہیں، البتہ باقی نمازوں کے فوراً بعد درس نہ دیا جائے، بلکہ فرضوں کے بعد کی سنتیں وغیرہ ادا کرنے کے بعد دیا جائے، کیونکہ فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق جن فرض نمازوں کے بعد سنتیں ہیں، ان میں فرضوں اور سنتوں کے درمیان زیادہ وقفہ کرنا مکروہِ تنزیہی ہے۔ مزید یہ کہ مسجد میں درس دینے کے حوالے سے اس بات کا بھی خیال رکھا جائے کہ ایسے وقت میں اور اتنی آواز سے ہو کہ کسی نمازی کی نماز میں خلل نہ آئے۔
اور تیسری نہایت اہم بات یہ ہے کہ درس اتنی تعداد اور مقدار میں دینا چاہیے کہ لوگ بیزار نہ ہوجائیں۔
صحیح مسلم میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے:
”كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا سلم لم يقعد إلا مقدار ما يقول اللهم أنت السلام ومنك السلام، تباركت یاذا الجلال والإكرام“
ترجمہ: نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو ”اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت یا ذا الجلال والإكرام“ کہنے کی مقدار ہی بیٹھتے۔ ( صحيح مسلم،ج 1،ص 414،دار احیاء التراث، بیروت)
خاتم المحققین علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ مذکورہ بالاحدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں:
”وقول عائشة بمقدار لا يفيد أنه كان يقول ذلك بعينه، بل كان يقعد بقدر ما يسعه ونحوه من القول تقريبا۔۔۔۔وأما ما ورد من الأحاديث في الأذكار عقيب الصلاة فلا دلالة فيه على الإتيان بها قبل السنة، بل يحمل على الإتيان بها بعدها؛ لأن السنة من لواحق الفريضة وتوابعها ومكملاتها فلم تكن أجنبية عنها، فما يفعل بعدها يطلق عليه أنه عقيب الفريضة۔۔۔۔ حتى لو صلاها بعد الأوراد تقع سنة مؤداة، لكن لا في وقتها المسنون“
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس مقدار والی بات ، کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بعینہ صرف یہی دعا پڑھتے تھے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اتنے وقت تک بیٹھتے تھے جتنے میں یہ دعا یا تقریبا اس جتنا کوئی اور وِرد و وَظیفہ پڑھا جاسکے۔۔۔۔ جہاں تک نماز کے بعد پڑھے جانے والے اوراد و اذکار کے متعلق احادیث ہیں، تو ان میں اس بات کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ انہیں سنت سے پہلے پڑھا جائے، بلکہ انہیں سنت کے بعد پڑھنے پر محمول کیا جائے گا، کیونکہ سنت فرض نماز کے لوازمات، توابع اور تکمیلات میں سے ہے، لہذا یہ فرض نماز سے علیحدہ نہیں ہوتی۔ پس سنت کے بعد پڑھنے کو بھی فرض نماز کے بعد پڑھنا ہی کہا جائے گا۔۔۔۔ حتی کہ اگر کوئی شخص اوراد ووظائف کے بعد سنت ادا کرے تو وہ سنت ادا ہو جائے گی، لیکن وہ اپنے مسنون وقت میں ادا نہیں ہوگی۔ (رد المحتار،ج1،ص530،دار الفکر،بیروت)
اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن سے سوال ہو اکہ جس فرض کے بعد سنّت ہے اس فرض کے بعد مناجات کرنا درست ہے یا نہیں؟ یا بغیر مناجات کے سنّت ادا کرے یا مختصر مناجات کے بعد سنّت شروع کرے؟
تو آپ علیہ الرحمہ نے جواباً ارشاد فرمایا: ”جائز و درست تو مطلقاً ہے۔ مگر فصلِ طویل مکروہ تنزیہی و خلافِ اولٰی ہے اور فصلِ قلیل میں اصلاً حرج نہیں۔۔۔آیۃ الکرسی یا فرض مغرب کے بعد 10دس بار کلمۂ توحید پڑھنا فصلِ قلیل ہے۔ “ (فتاوی رضویہ، ج 6، ص234، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
فتاوی امجدیہ میں ہے :”جس نماز کے بعد سنتیں ہیں ان میں سلام کے بعد مختصر دعاؤں پر اکتفاء کرے، تاکہ سنتوں میں زیادہ تاخیر نہ ہو۔ زیادہ تاخیر کو ہمارے فقہاء کرام مکروہ فرماتے ہیں۔“ (فتاوی امجدیہ، ج 1، ص 77، مکتبہ رضویہ،کراچی)
مسجد میں درس دینے میں اس بات کا خیال رکھا جائے کہ کسی نمازی کی نماز میں خلل نہ آئے، جیساکہ اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا کہ مسجد میں مسائل کا بطور وعظ نماز سے پہلے یا بعد بیان کرنا چاہیے یا نہیں، جب کہ کوئی نفل پڑھتا ہو، کوئی سنتیں ؟ تو آپ نے جواباً ارشاد فرمایا ’’مسائل قبل نماز خواہ بعد نماز ، ایسے وقت بیان کئے جائیں کہ لوگ سننے کے لئے فارغ ہوں ، نمازیوں کی نماز میں خلل نہ آئے ۔‘‘ (فتاوی رضویہ، ج 8، ص 123، رضا فائونڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Pin-7717
تاریخ اجراء: 9 شعبان المعظم 1447 ھ/ 29جنوری 2026ء