logo logo
AI Search

امامت کرنے والے کا تشہد میں گھٹنوں کے بل بیٹھنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

تشہد میں گھٹنوں کے بل بیٹھنے والا شخص امامت کروا سکتا ہے ؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

ہماری مسجد میں جو امام صاحب نماز پڑھاتے ہیں وہ تشہد میں جب بیٹھتے ہیں تو عذر کی وجہ سے صحیح طریقے سے بیٹھ نہیں پاتے، اس لئے وہ صرف گھٹنوں کے بل بیٹھتے ہیں، یعنی تشہد میں بائیں ٹانگ بچھا کے جس طرح پورے جسم کا وزن اس پر رکھنا ہوتا ہے ویسے وہ نہیں رکھ پاتے، بلکہ پیچھے کا حصہ اٹھا ہوا رہتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس طریقے پر بیٹھنا بھی بیٹھنا ہی کہلائے گا یا کھڑے ہونے کے زمرے میں آئے گا، نیز کیا تشہد میں ایسی حالت پر بیٹھنے والے امام کے پیچھے نماز ہوجائے گی؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں تشہد کی یہ حالت، بیٹھنے والی حالت ہی کہلائے گی اور نماز بھی ہو جائے گی، ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا بھی درست ہے۔

تفصیل اس میں یہ ہےکہ جب تک نچلا دھڑ سیدھا نہ ہو تب تک کی حالت کو فقہاء نے قعود سے اقرب والی حالت میں شمار کیا اور قعود سے اقرب حالت کو شرعا، عرفا، حقیقۃً کسی طرح بھی قیام نہیں کہا جاتا، بلکہ فقہاء نے سوال میں مذکورہ حالت پر وہی احکام جاری کئے ہیں جو بیٹھنے پرجاری ہوتے ہیں۔ لہذا یہ بیٹھنے والی حالت ہی شمار ہوگی، اس لئے تشہد میں بیٹھنے کی ہیئت مسنونہ تبدیل ہونے سے اس شخص کی امامت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ نیز عذر کی وجہ سے تو قیام جیسا فرض بھی اگر امام سے ساقط ہو جائے اور امام بیٹھ کر نماز پڑھائے تو بھی اس امام کی اقتداء کی جاسکتی ہے، یہاں تو صرف بیٹھنے کی ہیئت مسنونہ تبدیل ہو رہی ہے مزید کوئی فرض یا واجب امام سے ساقط نہیں ہو رہا تو یہاں بدرجہ اولی اس امام کی اقتداء میں نماز پڑھی جاسکتی ہے۔

گھٹنوں کے بل بیٹھنے کو قیام شمار نہیں کریں گے، کیونکہ جب تک نچلا دھڑ سیدھا نہ ہو تب تک کی حالت کو قیام نہیں کہا جاتا۔حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے:

”قوله: ”بانعدام استواء النصف الأسفل“ إنما كان إلى القعود أقرب لأنه لا يعده قائما في هذه الحالة لا حقيقة ولا عرفا ولا شرعا“

ترجمہ: مصنف کا یہ کہنا کہ ”جسم کا نیچے والا آدھا حصہ سیدھا نہیں ہے“ اسے قعود کے قریب اس لئے کہیں گے کیونکہ اس حالت والے کو حقیقۃً، عرفا، شرعا کسی طرح بھی کھڑا ہونے والا نہیں کہا جاتا۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح صفحہ 467 مطبوعہ کوئٹہ)

قعود سے اقرب کی حالت پر قیام کا حکم نہیں ہوگا۔ اسی لئے کھڑے نہ ہونے کی قسم کھائی تھی اور قعود سے اقرب حالت اختیار کی تب بھی قسم نہیں ٹوٹے گی۔ النتف فی الفتاوی میں ہے

”فان حلف الرجل علی ان لا یقوم، فان ذلک علی ثلاثۃ اوجہ، احدھا:  ان یقوم قائما، فانہ یحنث، والثانی: ان یکون الی القیام اقرب، فانہ یحنث ایضا، والثالث: ان یکون الی القعود اقرب فانہ لایحنث۔“

ترجمہ: اگر کسی شخص نے قسم اٹھائی کہ کھڑا نہیں ہوگا، تو اس کی تین صورتیں بنیں گی۔ پہلی صورت یہ کہ وہ سیدھا کھڑا ہو جائے، ا س صورت میں قسم ٹوٹ جائے گی۔ دوسری صورت یہ کہ کھڑا ہونے کے قریب ہو جائے تو بھی قسم ٹوٹ جائے گی۔ تیسری صورت یہ کہ وہ بیٹھنے کے قریب ہو تو اس صورت میں قسم نہیں ٹوٹے گی۔ (النتف فی الفتاوی جلد 1 صفحہ 407 مطبوعہ بیروت)

فقہاء نے سوال میں مذکورہ صورت کو قعود سے اقرب والی حالت شمار کر کے اس پرقعود کے احکام جاری کئے ہیں، جیسا کہ قعدہ اولی بھول کر کھڑا ہونے لگا تو فقہاء فرماتے ہیں کہ اگر گھٹنے زمین پر ہیں مگر سرین زمین سے اٹھ چکے ہیں (یہ وہی گھٹنوں کے بل بیٹھنے والی ہی حالت ہے) تو قعود کے قریب ہونے کی وجہ سے اس میں سجدہ سہو لازم نہیں ہوگا۔ البحرالرائق میں ہے

”(وان سھا عن القعود الاول وھو الیہ اقرب عاد والا لا) ای الی القعود، لان الاصل ان مایقرب من الشیئ یاخذ حکمہ کفناء المصر، فان کان اقرب الی القعود بان رفع الیتیہ من الارض ورکبتاہ علیھا او ما لم ینتصب النصف الاسفل، وصححہ فی الکافی، فکانہ لم یقم اصلا۔“

ترجمہ: اگر پہلے قعدے پر بیٹھنا بھول گیا اور ابھی بیٹھنے کے قریب ہے تو لوٹ آئے ورنہ نہیں، کیونکہ اصل یہ ہے کہ جو کسی چیز کے قریب ہو تو اس پر اسی قریبی شے کا ہی حکم ہوتا ہے، جیسے فناء مصر (پر مصر کا ہی حکم ہوتا ہے)۔ اگر بیٹھنے کے قریب ہو، اس طرح کہ سرین زمین سے اٹھی ہوئی ہوں اور گھٹنے ابھی زمین پر ہیں، یا جب تک نیچے کا آدھا حصہ سیدھا نہیں ہوا، کافی میں اسی دوسری صورت کی تصحیح فرمائی، یہ گویا کہ ایسے ہے جیسے اصلا کھڑا ہی نہیں ہوا۔ (البحر الرائق جلد 2، صفحہ  178 مطبوعہ کوئٹہ)

امام عذر کی وجہ سے بیٹھ کر نماز پڑھائے، یعنی قیام ساقط ہو جائے تب بھی اس کی اقتداء کی جاسکتی ہے۔ بدائع الصنائع میں ہے:

”یجوز اقتداء القائم الذی یرکع ویسجد بالقاعد الذی یرکع ویسجد استحسانا۔“

بیٹھ کر رکوع و سجدہ کرنے والے کی اقتداء کرنا اس شخص کیلئے جائز ہے جو کھڑا ہو کر نماز پڑھتا ہے اور رکوع و سجدہ کرتا ہے۔ (بدائع الصنائع جلد 1 صفحہ 355 مطبوعہ کوئٹہ)

بہارشریعت میں ہے ”کھڑا ہو کر نماز پڑھنے والا بیٹھنے والے اور کوزہ پشت کی اقتداء کرسکتا ہے، اگرچہ اس کا کُب حد رکوع کو پہنچا ہو۔ (بہارشریعت جلد 1 حصہ 3 صفحہ 573 مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابومحمد محمد فراز عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: OKR-0202
تاریخ اجراء: 02 شعبان المعظم 1447ھ/22 جنوری 2026 ء