قضا نماز کی نیت میں دن معین کرنا ضروری ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
قضا نمازوں کی نیت کا آسان طریقہ
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ مجھ پر بہت سی نمازیں قضا ہیں، میں نے دو دن پہلے توبہ کر کے قضا نمازیں پڑھنا شروع کی ہیں، ان نمازوں کو پڑھتے وقت میں اس طرح نیت کرتا ہوں، مثلاً ظہر کی قضا نماز، عصر کی قضا نماز، لیکن دن کی تعیین نہیں کرتا، میں نے کافی عرصہ پہلے کسی عالم صاحب سے سنا تھا کہ قضا نماز کی ادائیگی میں دن کی تعیین نہ کی جائے، تو وہ نماز نہیں ہوتی، مجھے عالم صاحب کی بات صحیح طور پر یاد نہیں ہے، میری رہنمائی فرمائیں کہ میں نے جو قضا نمازیں دن کی تعیین کے بغیرپڑھی ہیں، وہ ہو گئیں یا نہیں؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں آپ نے جو قضا نمازیں دن کی تعیین کے بغیر پڑھیں، وہ نہیں ہوئیں، لہذا آپ ان نمازوں کو دوبارہ پڑھیں، کیونکہ جس کے ذمہ کئی نمازیں قضا ہوں، تو ان نمازوں کی ادائیگی میں دن اور نماز دونوں کا معین ہونا ضروری ہے، ان دونوں (دن یا نماز) میں سےصرف ایک کی نیت کرنے سے نماز نہ ہوگی۔
اہم نوٹ: جس پر قضا نمازیں زیادہ ہوں، انہیں عمومی طور پر دن اور تاریخ یاد نہیں ہوتی، بالفرض اگر دن وغیرہ یاد بھی ہو، تو قضا نماز کی ادائیگی میں دن کی تعیین کا خیال رکھنا حرج سے خالی نہیں، اسی وجہ سے فقہاء کرام نے قضا نمازوں کی نیت کے حوالے سے آسان طریقہ بیان فرمایا کہ ان نمازوں کی یوں نیت کی جائے کہ مجھ پر قضا نمازوں میں جو پہلی فجر ہے، اسے پڑھتا ہوں یا مجھ پر قضا نمازوں میں جو آخری فجر ہے، اس کی ادائیگی کرتا ہوں، اسی طرح بقیہ نمازوں کی نیت کر لی جائے، اس انداز سے نیت کرنے میں نماز کا نام اور دن دونوں متعین ہو جائیں گے۔ لہذا آپ آئندہ قضا نمازوں کی ادائیگی میں اس طریقہ کار کے مطابق نیت کر لیں گے، تو آپ کی وہ قضا نماز یں ذمہ سے ساقط ہو جائیں گی۔
جس پر متعدد نمازیں قضا ہوں، تو ان کی ادائیگی کے وقت دن اور نماز کا معین ہونا، ضروری ہے، جیساکہ درر الحکام میں ہے:
إذا كثرت الفوائت فاشتغل بالقضاء يحتاج إلى تعيين الظهر و العصر و نحوهما و ينوي أيضا ظهر يوم كذا أو عصر يوم كذا
ترجمہ: جب کسی شخص کی قضا نمازیں زیادہ ہوجائیں اور وہ ان کی قضا پڑھنے میں مشغول ہو، تو اس میں ظہر، عصر وغیرہ کی تعیین ضروری ہے اور ساتھ ہی یہ نیت کرنا بھی ضروری ہے کہ یہ فلاں دن کی ظہر ہے یا فلاں دن کی عصر۔ (درر الحكام شرح غرر الأحكام، جلد 1، صفحہ 127، مطبوعہ دار إحياء الكتب العربية)
بہار شریعت میں ہے: فرض قضا ہوگئے ہوں، تو ان میں تعیین یوم اور تعیین نماز ضروری ہے، مثلاً فلاں دن کی فلاں نماز مطلقاً ظہر وغیرہ يا مطلقاً نماز قضا نیت میں ہونا کافی نہیں۔ (بھار شریعت، جلد 1، صفحہ 494، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)
قضا نمازوں کی ادائیگی میں نیت کے آسان طریقہ کے متعلق فتاوی رضویہ میں ہے: (قضا نماز کی ادائیگی میں) اصح مذہب پر اتنا لحاظ ضرور ہے کہ نماز نیت میں معین مشخص ہو جائے’’ھوا لأحوط من تصحیحین‘‘ (دونوں تصحیحوں میں احوط یہ ہے) مثلاً: دس فجریں قضا ہیں، تو یوں گول نیت نہ کرے کہ فجر کی نماز کہ اس پر ایک فجر تو نہیں، جو اسی قدر بس ہو ،بلکہ تعیین کرے کہ فلاں تاریخ کی فجر، مگر یہ کیسے یاد رہتا ہے اور ہو بھی تو اس کا خیال حرج سے خالی نہیں، لہٰذا اس کی سہل تدبیر یہ نیت ہے کہ پہلی فجر جس کی قضا مجھ پر ہے، جب ایک پڑھ چکے، پھر یوں ہی پہلی فجر کی نیت کرے کہ ایک تو پڑھ لی، اس کی قضا اس پر نہ رہی، نو(9) کی ہے، اب ان میں کی پہلی نیت میں آئے گی، یونہی اخیر تک نیت کی جائے، اسی طرح باقی سب نمازوں میں کہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 8، صفحہ 142، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
یونہی فتاوی امجدیہ میں ہے: فقہا فرماتے ہیں جس کے ذمہ متعدد نمازیں ہوں اور دن یا د نہ ہوں، وہ قضا میں یہ نیت کرے کہ سب میں پہلی یا سب میں پچھلی فلاں نماز جو میرے ذمہ ہے، وہ پڑھتا ہوں کہ اس صورت میں تعیین و تخصیص ہوگئی، ہر نماز میں یہی نیت کرے کہ جو پڑھ چکا اب اس کے بعد والی سب میں پہلی یا پچھلی ایک ہی ہوگی۔ (فتاوی امجدیہ، جلد 1، صفحہ 273، مطبوعہ مکتبہ رضویہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9770
تاریخ اجراء: 10 شعبان المعظم1447ھ / 30 جنوری2026ء