logo logo
AI Search

آٹھ رکعت تراویح ایک سلام سے پڑھنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

آٹھ تراویح اکٹھی ایک سلام کے ساتھ پڑھنا کیسا؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کےبارے میں کہ رمضان المبارک میں عورتیں گھروں میں انفرادی طور پر نماز تراویح ادا کرتی ہیں، تو کیا یہ تراویح کی آٹھ آٹھ رکعات ایک سلام کے ساتھ پڑھ سکتی ہیں؟ یا ہر دو رکعت پر سلام پھیرنا ضروری ہو گا؟

جواب

اگر آٹھ رکعت تراویح ایک سلام کے ساتھ ادا کریں اور ہر دو رکعت پر قعدہ کریں تو تراویح ادا ہو جائے گی، لیکن مسنون طریقے کے خلاف ہے۔ طریقۂ متوارثہ (شروع سے جو طریقہ چلتا آرہا ہے، وہ) یہی ہے کہ بیس رکعت تراویح دس سلام کے ساتھ یعنی دو دو رکعت کر کے ادا کی جائیں، اس لیےعورتیں بھی دو دو رکعت نماز تراویح الگ الگ سلام کے ساتھ ادا کریں۔

چنانچہ غنیۃ المتملی میں ہے:

(و إن صلی أربع رکعات بتسلیمۃ واحدۃ) و الحال (أنہ لم یقعد علی رکعتین) منھا قدر التشھد (تجزي) الأربع (عن تسلیمۃ واحدۃ): أي عن رکعتین عند أبي حنیفۃ و أبي یوسف (و ھو المختار)۔۔۔ و لو قعد علی راس الرکعتین جازت عن تسلیمتین بالاتفاق

ترجمہ: اگر کسی نے چار رکعات ایک سلام کے ساتھ پڑھیں اور اس نے دو رکعت کے بعد بقدرِ تشہد قعدہ نہیں کیا تھا، تو شیخین کے نزدیک یہ چاروں رکعات ایک سلام ( دو رکعات) کے قائم مقام ہو جائیں گی اور یہی مختار مذہب ہے اور اگر دو رکعت پر قعدہ کیا ہو، تو یہ بالاتفاق دو سلاموں (چار رکعات) کے قائم مقام ہو جائیں گی۔ (حلبی کبیر، فصل فی النوافل، صفحہ 408، مطبوعہ در سعادت)

کنز الدقائق میں ہے:

و سن في رمضان عشرون ركعة بعشر تسليمات

ترجمہ: رمضان المبار ک میں بیس رکعات، دس سلاموں کے ساتھ پڑھنا سنت ہے۔ (کنز الدقائق، کتاب الصلاۃ، صفحہ 178، مطبوعہ دار البشائر)

امام اہل سنت، الشاہ احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں: تراویح خود ہی دو رکعت بہتر ہے۔

لانہ ھو المتوارث

(کیونکہ طریقۂ متوارثہ یہی ہے) تنویر میں ہے:

عشرون رکعۃ بعشر تسلیمات

(بیس رکعتیں دس سلاموں کے ساتھ پڑھائی جائیں) سراجیہ میں ہے:

کل ترویحۃ اربع رکعات بتسلیمتین۔

یعنی: ہر ترویحہ چار رکعتوں کا دو سلاموں کے ساتھ پڑھا جائے۔ یہاں تک کہ اگر چار یا زائد ایک نیت سے پڑھے گا تو بعض ائمہ کے نزدیک دو ہی رکعت کے قائم مقام ہوں گی اگرچہ صحیح یہ ہے کہ جتنی پڑھیں شمار ہوں گی جب کہ ہر دو رکعت پر قعدہ کرتا رہا ہو۔ (فتاوی رضویہ، جلد 07، صفحہ 444، 445، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1367ھ / 1947ء) لکھتے ہیں: تراویح میں سنت یہ ہے کہ ہر دو رکعت پر سلام پھیرا جائے۔۔۔ چار رکعت پر کسی نے سلام پھیرا، تو بعض مشائخِ حنفیہ فرماتے ہیں کہ یہ دو ہی رکعتیں ہیں اور بعض نے فرمایا کہ چار ہوئیں، صحیح قولِ ثانی ہے۔ (فتاوی امجدیہ، جلد 1، صفحہ 235، 236، مطبوعہ مکتبہ رضویہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9777
تاریخ اجراء: 11 شعبان المعظم1447ھ / 31 جنوری2026ء