logo logo
AI Search

نماز میں قراءت کی غلطی درست کرلی تو نماز ہو جائے گی؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نماز میں قراءت کی غلطی کو فوراً درست کر لیا تو نماز کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

ہمارے امام صاحب نے نمازِ مغرب کی پہلی رکعت میں ”سورۃ القارعۃ“ تلاوت کی۔ جب یہ آیت پڑھی: ”فَاَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ“ تو اِس کے بعد ”فَاُمُّهٗ هَاوِیَةٌ“ پڑھ دیا، لیکن فوراً ہی توجہ ہو گئی کہ آیت درست نہیں پڑھی گئی، لہذا فوراً دوبارہ درست طریقے سے یوں پڑھا: ”فَاَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ (6) فَهُوَ فِیْ عِیْشَةٍ رَّاضِیَةٍ “ اور اِس کے بعد بقیہ سورت پڑھ کر رکوع میں گئے۔ کیا یوں درستی کر لینے سے نماز ادا ہو گئی؟

جواب

اگر کوئی شخص نماز پڑھتے ہوئے دورانِ قراءت ایسی غلطی کرے، کہ جس کے سبب معنی تبدیل اور نماز فاسد ہوتی ہو، مگر نمازی اُس آیت کو دوبارہ درست انداز میں پڑھ دے، تو اُس کی نماز درست ہوتی ہے، لہذا جب امام صاحب نے ”فَاَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ“ کے بعد ”فَاُمُّهٗ هَاوِیَةٌ “ پڑھا، مگر فوراً درست انداز میں ”فَاَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ (6) فَهُوَ فِیْ عِیْشَةٍ رَّاضِیَةٍ “ پڑھ دیا، تو نماز درست ہو گئی۔

”حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار“ میں بحوالہ ”المضمرات“ ہے:

”قرأ في الصلاة بخطأٍ فاحش، ثم أعاد وقرأ صحیحاً فصلاته جائزة“

ترجمہ: اگر کسی نمازی نے دورانِ نماز بڑی غلطی کی، لیکن پھر دوبارہ صحیح انداز میں تلاوت کر لی، تو اُس کی نماز درست ہے۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی در المختار، جلد  02، صفحہ  348، مطبوعۃ دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

فتاوٰی عالَم گیری میں ہے:

”ذكر في الفوائد لو قرأ في الصلاة بخطأ ‌فاحش ثم رجع وقرأ صحيحا قال عندي صلاته جائزة“

ترجمہ: ”الفوائد“ میں ذکر کیا گیا کہ اگر کسی نمازی نے دورانِ قراءت بڑی غلطی کی، لیکن پھر دوبارہ صحیح انداز میں تلاوت کر لی، تو آپ نے فرمایا کہ میری رائے کے مطابق اُس کی نماز درست ہے۔ (الفتاوى الھندیۃ، جلد  01، صفحہ  82، مطبوعۃ کوئٹہ)

”وقار الفتاوٰی“ میں ہے: ”نماز میں دورانِ قراءت غلط پڑھنے کے بعد پھر لوٹا کر صحیح طور پر اُسے پڑھا ، تو یہ نماز ہو جائے گی۔“ (وقار الفتاوی، جلد  02، صفحہ  83، مطبوعۃ بزم وقار الدین، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9752
تاریخ اجراء: 06 شعبان المعظم 1447ھ/26 جنوری 2026ء