logo logo
AI Search

تلاوت کے دوران آیتِ سجدہ چھوڑنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

سجدہ تلاوت سے بچنے کے لیے آیت سجدہ چھوڑنا کیسا؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ دوران قراءت کسی سورت میں آیت سجدہ آجائے تو اس غرض سے آیت سجدہ کو چھوڑ دینا کہ سجدہ تلاوت لازم نہ ہو اور بقیہ سورت کی تلاوت جاری رکھنا، درست ہے یا نہیں؟ رہنمائی فرما دیں۔

جواب

قرآن کریم کی تلاوت کے دوران آیت سجدہ آنے پر اسے چھوڑ دینا اور بقیہ سورت کی تلاوت جاری رکھنا، مکروہ تحریمی ہے، اس کراہت کی وجوہات یہ ہیں کہ آیتِ سجدہ چھوڑنا سجدے سے تکبر و ناپسندیدگی والے اعراض کے مشابہ ہے جو کفار کا طرزِ عمل ہے، نیز سجدہ تلاوت کے وجوب سے راہ فرار اختیار کرنا ہے۔

آیت سجدہ چھوڑنے کی کراہت کے متعلق  الجوھرۃ النیرۃ  میں ہے:

و أجمعوا أنه إذا ترك آية السجدة و تعدى إلى غيرها لكی لا تجب عليه السجدة أنه يكره

ترجمہ: فقہاء کا اس بات پر اجماع ہے کہ جب کوئی شخص آیتِ سجدہ چھوڑ کر اس سے اگلی آیت پڑھے، تاکہ اس پر سجدہ تلاوت واجب نہ ہو، تو اس کا ایسا کرنا، مکروہ ہے۔ (الجوهرة النيرة، جلد 1، صفحہ 283، مطبوعہ المطبعة الخيرية)

یہاں کراہت سے تحریمی مراد ہے، جیسا کہ تنویر الابصار کی عبارت

و كره ترك آية سجدة

کے متعلق الدر المختار میں ہے:

و مفاده أن الكراهة تحريمية

ترجمہ: اس کا مفاد یہ ہے کہ ایسا کرنا مکروہ تحریمی ہے۔ (در المختار شرح تنوير الأبصار، صفحہ 104، مطبوعہ دار الكتب العلمية، بيروت)

بہار شریعت میں ہے: پوری سورت پڑھنا اور آیت سجدہ چھوڑ دینا، مکروہ تحریمی ہے۔(بھارِ شریعت، جلد 1، حصہ 4، صفحہ 736، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

آیت سجدہ کو چھوڑنا سجدے سے پھرنے اور متکبرانہ اعراض کرنے کے مشابہ ہے، چنانچہ شرح الوقایۃ میں ہے:

(و كره ترك سجدة): أي ترك آية السجدة (و قراءة باقي السورة)؛ لأنه يشبه الاستنكاف

ترجمہ: آیت سجدہ کو چھوڑ کر بقیہ سورت کی تلاوت جاری رکھنا، مکروہ ہے، کیونکہ یہ سجدے سے متکبرانہ اعراض كرنے کے مشابہ ہے۔ (شرح الوقایۃ، جلد 2، صفحہ 175، مطبوعہ دار الوراق، عمان)

آیت سجدہ چھوڑنا، معبودِ حقیقی کی اطاعت و فرمانبرداری سے اعراض کرنے کے مشابہ ہے، جیساکہ فتح باب العنايۃ شرح النقايۃ میں ہے:

(و يكره) في الصلاة و غيرها (ترك آية السجدة و حدها) لأنه يشبه الاستنكاف عن السجود، و الإعراض عن طاعة المعبود

ترجمہ: (دورانِ قراءت) اکیلی آیت سجدہ کو چھوڑنا، خواہ نماز میں ہو یا غیر نماز میں، مکروہ ہے، کیونکہ یہ سجدے سے پھرنے اور معبودِ حقیقی کی فرمانبرداری سے اعراض کے مشابہ ہے۔ (فتح باب العنایۃ شرح النقایۃ، جلد 1، صفحہ 383، مطبوعہ دار الأرقم، بيروت)

آیت سجدہ کو چھوڑنا، قرآنی آیت چھوڑنا ہے، حالانکہ اس میں سے کچھ بھی چھوڑنے کے لائق نہیں، اسی طرح (آیت سجدہ چھوڑنا) سجدہ تلاوت کے وجوب سے راہ فرار اختیار کرنا ہے، چنانچہ المبسوط للسرخسي میں ہے:

و يكره للمرء ترك آية السجدة من سورة يقرؤها لأنه في صورة الفرار عن السجدة و ليس ذلك من أخلاق المؤمنين و لأنه في صورة هجر آية السجدة و ليس شيء من القرآن مهجورا

ترجمہ: کسی بھی شخص کے لیے آیت سجدہ والی سورت کی قراءت کے دوران آیت سجدہ کو چھوڑ دینا، مکروہ ہے، کیونکہ یہ سجدہ تلاوت کے وجوب سے راہ فرار اختیار کرنا ہے اور مسلمانوں کی شان کے لائق نہیں، یہ اس لیے (بھی مکروہ ہے) کہ آیت سجدہ چھوڑنے کی صورت قرآنی آیت چھوڑنے کے مترادف ہے، حالانکہ قرآن کریم میں سے کچھ بھی چھوڑنے کے لائق نہیں۔ (المبسوط للسرخسی، جلد 2، صفحہ 3، مطبوعہ دار المعرفۃ، بیروت)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9739
تاریخ اجراء: 01 شعبان المعظم 1447ھ / 21 جنوری 2026ء