logo logo
AI Search

بے وضو جمعہ کا خطبہ ہوجائے گا ؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

جمعہ کے خطبہ کے لیے وضو ہونا شرط ہے ؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا جمعہ کے خطبہ کے لیے باوضو ہونا شرط ہے؟ ایک امامِ جمعہ کے بازو پر زخم تھا، خطبۂ جمعہ کے دوران اس زخم سے خون نکلنے کی وجہ سے وضو ٹوٹ گیا، تاہم اُس نے اِسی حالت میں خطبہ مکمل کیا اور اس کے فوراً بعد مختصر وقت میں دوبارہ وضو کر کے نمازِ جمعہ پڑھائی۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس صورت میں خطبہ اور نمازِ جمعہ کا کیا حکم ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں نمازِ جمعہ اور خطبہ درست ادا ہوئے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ خطبہ کا حکم ذکر و اذکار کی طرح ہے جس کے لیے طہارت شرط نہیں بلکہ سنت ہے، لہذا صورت مسئولہ میں دورانِ خطبہ وضو ٹوٹ جانے کے باوجود خطبہ ادا ہو گیا۔ نیز چونکہ امام نے خطبہ کے بعد کوئی اجنبی فعل نہیں کیا اور بِلا تاخیر ہی وضو کر کے نمازِ جمعہ پڑھا دی، اس لیے وہی سابقہ خطبہ ہی نمازِ جمعہ کو کافی ہو گیا، اور نماز درست ادا ہو گئی۔

خطبہ کے لیے طہارت شرط نہیں بلکہ سنت ہے۔ چنانچہ علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں: ”صرح في متن الملتقى بسنية الطهارة والقيام كما في كثير من المعتبرات۔۔ ما في البدائع حيث قال: والطهارة سنة عندنا لا شرط، حتى إن الإمام إذا خطب جنبا أو محدثا فإنه يعتبر شرطا لجواز الجمعة۔“ ترجمہ: متنِ ملتقیٰ اور بہت سی معتبر کتابوں میں اس بات کی صراحت کی گئی ہے کہ خطبہ کے لیے طہارت اور قیام سنت ہیں۔۔ بدائع میں ہے کہ ہمارے نزدیک طہارت شرط نہیں بلکہ سنت ہے، یہاں تک کہ اگر امام حالتِ جنابت یا بے وضو ہو کر خطبہ دے، تب بھی جمعہ جائز ہونے کے لیے شرط کے طور پر اس کا اعتبار کیا جائے گا۔ (رد المحتار على الدر المختار، ج 2، ص 150، مطبوعہ مصطفى البابي الحلبي)

خطبہ ایک ذکر ہے اور ذکر اللہ کے لیے باوضو ہونا شرط نہیں ہے۔ چنانچہ الہدایہ میں ہے: ”ولو خطب قاعدا أو على غير طهارة جاز، لحصول المقصود“ ترجمہ: اگر امام بیٹھ کر یا بے وضو خطبہ دے تو یہ جائز ہے، کیونکہ اس سے بھی خطبہ کا مقصود حاصل ہو جاتا ہے۔

ہدایہ کی مذکورہ عبارت میں "لحصول المقصود" کی وضاحت کرتے ہوئے علامہ بدر الدین عینی رحمۃ اللہ علیہ (سنِ وفات: 855ھ) البناية شرح الهداية میں فرماتے ہیں: ”وهو الذكر والوعظ، وفي المحيط والمبسوطين: الخطبة ذكر، والمحدث والجنب لا يمنعان ما خلا قراءۃ القرآن فی حق الجنب“ ترجمہ: یعنی خطبے کا مقصود اللہ تعالیٰ کا ذکر اور وعظ و نصیحت ہے۔ المحیط، امام محمد کی الاصل اور مبسوط سرخسی میں ہے کہ خطبہ ذکر ہے، اور مُحدث (بے وضو شخص) اور جُنُب کو ذکرِ الٰہی ممنوع نہیں، مگر یہ کہ جنبی کو تلاوتِ قرآن سے (منع کیا جائے گا)۔ (البناية شرح الهداية، ج 3، ص 57، دار الكتب العلمية، بيروت لبنان)

حالتِ حدث میں پڑھے گئے خطبے کا اعادہ لازم نہیں ہے، اگر چہ کہ بے وضو خطبہ پڑھنا ناپسندیدہ عمل ہے، چنانچہ علامہ احمد بن محمد الطحطاوی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی: 1231ھ) فرماتے ہیں: ”فلو خطب محدثا أو جنبا جاز ويكره، ويستحب إعادتها إذا كان جنبا، إلا أذانه. زيلعي. وإن لم يعد أجزأ“ ترجمہ: اگر کسی شخص نے بے وضو یا حالتِ جنابت میں خطبہ دیا تو خطبہ ہو جائے گا، البتہ ایسا کرنا مکروہ ہے۔ اور اگر وہ حالتِ جنابت میں ہو تو خطبہ کا اعادہ کرنا (محض) مستحب ہے، البتہ (اس صورت میں بھی) اذان کا اعادہ نہیں کیا جائے گا۔ اور اگر خطبہ کا اعادہ نہ کیا تو بھی خطبہ کافی ہو جائے گا۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، ج 1، ص 514، دار الکتب العلمیۃ، بیروت، لبنان)

خطبہ ذکر اللہ ہے اور حدیث پاک میں اس کو "کشطر الصلاۃ" کہنا ثواب کے اعتبار سے ہے نہ کہ شرائط کے اعتبار سے۔ چنانچہ امام شمس الأئمہ محمد بن احمد السرخسی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی: 483ھ) فرماتے ہیں: ”ولنا أن الخطبة ذكر، والمحدث والجنب لا يمنعان من ذكر اللہ ما خلا قراءة القرآن في حق الجنب، وليست الخطبة نظير الصلاة ولا بمنزلة شطرها، بدليل أنها تؤدى غير مستقبل بها القبلة، ولا يفسدها الكلام. وتأويل الأثر أنها في حكم الثواب كشطر الصلاة، لا في اشتراط شرائط الصلاة فيها“ ترجمہ: ہماری دلیل یہ ہے کہ خطبہ اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے، اور بے وضو یا جنبی شخص کو ذکرِ الٰہی منع نہیں، سوائے اس کے کہ جنبی قرآنِ کریم کی تلاوت نہیں کر سکتا۔ نیز خطبہ نہ تو نماز کی مثل ہے اور نہ ہی نماز کے کسی جُزء کے قائم مقام، اور اس کی دلیل یہ ہے کہ خطبہ پڑھتے وقت قبلہ کی طرف رخ نہیں کیا جاتا ہے اور نہ ہی دوران خطبہ کلام کرنے سے خطبہ فاسد ہوتا ہے۔ (باقی رہا) حدیثِ پاک میں خطبہ کو جُزءِ نماز کے قائم مقام قرار دینا، تو اس سے مراد ثواب کے اعتبار سے ہے، نہ کہ نماز کی تمام شرائط اس میں لازم ہونے کے اعتبار سے۔ (المبسوط للسرخسی، ج 2، ص 26، مطبعة السعادة، مصر)

طہارت کو خطبہ کی سنتوں میں سے شمار کیا گیا ہے نہ کہ شرائط میں سے۔ چنانچہ جمعہ کی شرائط اور سنتوں کو بیان کرتے ہوئے صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمہ اللہ (سال وفات:1367ھ) لکھتے ہیں: ”خطبہ جمعہ میں شرط یہ ہے کہ: وقت میں ہو، نماز سے پہلے ہو، ایسی جماعت کے سامنے ہو جو جمعہ کے لیے شرط ہے۔۔اتنی آواز سے ہو کہ پاس والے سن سکیں۔۔ خطبہ میں یہ چیزیں سنت ہیں: خطیب کا پاک ہونا ۔۔“ (بھار شریعت، ج 1، حصہ 4، ص 766 تا 767 ملتقطاً، مکتبۃ المدینہ کراچی)

اگر جمعہ کے خطبہ اور نماز کے درمیان کچھ تاخیر ہو جائے، جو کہ نماز ہی کے متعلق کسی فعل کی وجہ سے ہو، تو یہی خطبہ نماز کو کفایت کرے گا، چنانچہ علامہ زین الدین ابراہیم بن محمد، المعروف بابن نجیم مصری رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی: 970ھ) فرماتے ہیں: ”في الخلاصة فقال: ولو خطب محدثا أو جنبا ثم توضأ أو اغتسل وصلى جاز، ولو خطب ثم رجع إلى بيته فتغدى أو جامع واغتسل ثم جاء استقبل الخطبة، وكذا في المحيط معللا بأن الأول من أعمال الصلاة بخلاف الثاني، فإن ظاهره أن الاستقبال في الثاني لازم، وإلا فلا فرق بين الكل، وقد صرح في السراج الوهاج بلزوم الاستئناف وبطلان الخطبة، وهذا هو الظاهر؛ لأنه إذا طال الفصل لم يبق خطبة للجمعة، بخلاف ما إذا قل“

ترجمہ: اور خلاصہ میں ہے کہ اگر کسی نے بے وضو یا حالتِ جنابت میں خطبہ دیا، پھر وضو یا غسل کر کے نماز پڑھا دی تو یہ جائز ہے۔ البتہ اگر خطبہ دینے کے بعد اپنے گھر گیا، کھانا کھایا یا ہم بستری کی، پھر غسل کر کے واپس آیا تو خطبہ نئے سرے سے دے گا۔ اور محیط میں بھی یہ مسئلہ یوں ہی بیان ہوا ہے، اس علت کے ساتھ کہ پہلی صورت (صرف طہارت والی) نماز کے اعمال سے متعلق ہے، بخلاف دوسری صورت (کھانا کھانا وغیرہ) کے۔ اس کا ظاہر یہی ہے کہ دوسری صورت میں خطبہ از سرِ نو دینا لازم ہے، ورنہ تمام صورتوں میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔ نیز سراج الوہاج میں صراحت ہے کہ ایسی صورت میں خطبہ کا از سرِ نو شروع کرنا لازم ہے، اور پہلا خطبہ باطل ہو جاتا ہے۔ یہی زیادہ ظاہر ہے، کیونکہ جب وقفہ زیادہ طویل ہو جائے تو وہ جمعہ کا خطبہ باقی نہیں رہتا، بخلاف اس کے کہ وقفہ مختصر ہو۔ (البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق، ج 2، ص 159، دار الكتاب الإسلامي)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری

فتوی نمبر: GUJ-0167

تاریخ اجراء: 13 صفر المظفر 1448ھ/28 جولائی 2026ء