logo logo
AI Search

نماز میں رکوع و سجود کی تسبیحات زیادہ پڑھنا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

تنہا نماز پڑھنے کی صورت میں رکوع و سجود کی تسبیحات زیادہ تعداد میں پڑھنا کیسا؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

اکیلے نماز پڑھتے ہوئے فرض، سنت یا نفل نماز کے رکوع و سجود میں تسبیحات تین سے زیادہ پڑھ سکتے ہیں؟

جواب

اکیلے نماز پڑھنے والاتین سے زائد مرتبہ بھی رکوع و سجود کی تسبیحات پڑھ سکتا ہے بلکہ افضل ہے البتہ ختم طاق عدد پر کی جائے۔

بہار شریعت میں ہے: ’’تین بار تسبیح ادنی درجہ ہے، کہ اس سے کم میں سنت ادا نہ ہوگی، اور تین بار سے زیادہ کہے تو افضل ہے، مگر ختم طاق عدد پر ہو، ہاں اگر یہ امام ہے اور مقتدی گھبراتے ہوں تو زیادہ نہ کرے۔‘‘ (بہارشریعت،ج1،ص527، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا فرحان احمد عطاری مدنی

فتویٰ نمبر: Web-2483

تاریخ اجرا: 28ربیع الاول1447ھ/22ستمبر2025ء