چلتی گاڑی میں نماز کا حکم
بسم اللہ الرحمن الرحيم
چلتی گاڑی میں نماز پڑھنے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
سائل: محمد آصف مدنی (مانگا منڈی، لاہور)
جواب
نماز ایک اہم فرض ہے ،جس شخص نے سفر کرنا ہے اسے چاہئے کہ پہلے سے نمازوں کے اوقات کو پیش نظر رکھ کر بس کی ٹکٹ کروائے کہ یہ بس کس نماز کے وقت میں کہاں رکے گی ،جب پتہ ہوکہ نماز کا وقت دوران سفر آجائے گااور بس بھی نہیں رکے گی تو نماز پڑھ کر ہی سفر کے لئے جائے، ورنہ بیٹھنے سے پہلے کم از کم وضو کا اہتمام کرلےیا ساتھ میں پانی یا پانی کی سہولت نہ ہو تو پھر مٹی یا پتھر (کی پلیٹ یا پیالہ) رکھ لے تاکہ جیسے ہی نماز کا وقت داخل ہو اور موقع ملے تو وضو یا تیمم کر کے نماز کی ادائیگی کرلے۔ اگر گاڑی میں سوار ہوگیا ہے تو گاڑی میں نماز پڑھنے کی درج ذیل صورتیں اور احکام ہیں۔
(1) گاڑی رک نہیں رہی اور اس کا پہلے سے وضو موجود ہے تو جب نماز کا وقت جاتا دیکھے جہاں تک ممکن ہو قبلہ کی طرف منہ کر کے ورنہ جیسے آسانی ہو چلتی گاڑی میں نماز پڑھ لے۔
(2) وضو نہ ہونے کی صورت میں اگر بس میں پانی آسانی سےبغیر پیسوں کے یا پیسوں کے ساتھ مثلی قیمت یا اس سے کچھ زائد پیسوں میں ملتا ہے اور اس کے پاس اتنی رقم موجود ہے کہ پانی کو خرید سکتا ہے یا گھر جاکر پیسوں کی ادائیگی کر سکتا ہے اور آسانی سے بس میں وضو بھی کر سکتا ہے تو پانی سے وضو کر کے نماز پڑھے تیمم کرنا جائز نہیں۔
(3) اگر بس میں پانی میسرنہیں یا وضو کرنے کی کوئی صورت نہیں اور بس میں قابلِ تیمم مٹی پاتا ہے تو تیمم کر کے نماز پڑھے۔
(4) تیمم کے لائق مٹی بھی نہیں پاتا تو بغیر نماز کی نیت کئے نمازکی سی صورت بناتے ہوئے تمام ارکان کو ادا کر لے۔
ان سب صورتوں میں بعد میں نماز کا اعادہ کرنا ہوگا کیونکہ چلتی گاڑی میں بلاعذر شرعی فرض وواجب اور سنت فجر پڑھنا جائز نہیں کہ نماز کے لئے شروع نماز سے آخر تک اتحاد مکان اور قبلہ کی طرف منہ کرنا شرط ہے۔ اور اگر کسی عذر کی وجہ سے چلتی گاڑی میں نماز پڑھنی پڑجائے اور وہ عذر بھی ایسا ہو کہ جو بندوں کی طرف سے ہے تواس صورت میں نماز پڑھنے کی صورت میں اعادہ ہوگا۔ اور جہاں عذر بندوں کی طرف سے نہ ہو وہاں نماز پڑھنے کی صورت میں اعادہ نہیں ہوتا جیسا کہ ہوائی جہاز اور بیچ سمندر میں موجود کشتی میں نماز پڑھنے کی صورت میں کہ ہوائی جہاز اور کشتی کو روکیں گے تو بھی وہ ہوا اور پانی میں ہی رکیں گے نیچے زمین میسر نہیں اور نہ ہی باہر نکل کر نماز پڑھنا ممکن۔ جبکہ گاڑی کا معاملہ ایسا نہیں ہے کہ اسے اگر نماز کے لئے روکا گیا تو زمین پر رکے گی اور اتر کر نماز پڑھنا ممکن ہے۔
فتاوی شامی میں ہے: ان ماعداالنوافل من الفرض و الواجب بأنواعہ لایصح علی الدابۃ الالضرورۃ“ ترجمہ: بغیر ضرورت نوافل کے علاوہ فرض، واجب وغیرہ کو جانور پر ادا کرنا صحیح نہیں۔ (رد المحتار علی الدر المختار ج 2، ص 40، دار الفکر، بیروت)
مزید اسی میں ہے، ”الحاصل ان کل من اتحاد المکان و استقبال القبلۃ شرط فی صلاۃ غیر النافلۃ عند الامکان لایسقط الا بعذر فلو أمکنہ ایقافھا مسقبلاً فعل“ ترجمہ: حاصل یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو نوافل کے علاوہ نمازمیں اتحادِ مکان اور استقبال قبلہ دونوں شرط ہیں تو شرط عذرکے بغیر ساقط نہ ہوگی پس سواری کو قبلہ رخ کھڑا کر سکے تو کرے۔ (رد المحتار علی الدر المختار ج 2، ص 42،دار الفکر، بیروت)
سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن جدالممتارمیں ارشاد فرماتے ہیں: فالحاصل: ان الصلاۃ علی الدابۃ نفسھا لاتجوز الا بضرورۃ و تتقدر بقدرھا، فیجب الایقاف ان امکن و لا بد من الاسقبال ان قدر، و ایھما قدر علیہ وجب الاتیان بہ، فان عجز عنھما جاز لہ ان یصلی علیھا و ھی تسیر الی ای جھۃ قدر“ ترجمہ: حاصل یہ ہے کہ جانور پر نماز پڑھنا بغیر ضرورت کے جائز نہیں اور بقدر قدرت اس کا مکلف بنایا جائے گا، پس اگر جانور کو روکنا ممکن ہو تو روکنا واجب ہے اور قبلہ کی طرف منہ کرنے پر قادر ہونے کی صورت میں قبلہ کی طرف منہ کرنا ضروری ہے، ان دونوں چیزوں میں جس پر بھی قادر ہو اسے بجا لائے، اگر ان دونوں سے عاجز آگیا تو جانور کےچلتے ہونے کی حالت میں جس طرف منہ کرنا میسر ہو اس طرف منہ کر کے نماز پڑھنا درست ہے۔ (جد الممتار علی ردالمحتار، ج 2، ص 419، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
فتاوی رضویہ میں فرماتے ہیں: فرض اور واجب جیسے وتر و نذراور ملحق بہ یعنی سنّتِ فجر چلتی ریل میں نہیں ہوسکتے اگر ریل نہ ٹھہرے اور وقت نکلتا دیکھے، پڑھ لے پھر بعد استقرار اعادہ کرے، تحقیق یہ ہے کہ استقرار بالکلیہ ولو بالوسائط زمین یا تابع زمین پر کہ زمین سے متصل با تصال قرار ہو، ان نمازوں میں شرط صحت ہے مگر بہ تعذر، ولہذا دابہ پر بلا عذر جائز نہیں اگرچہ کھڑا ہو کہ دابہ تابع زمین نہیں، ولہذا گاڑی پر جس کا جُوا بیلوں پر رکھا ہے اور گاڑی ٹھہری ہوئی ہے جائز نہیں کہ بالکلیہ زمین پر استقرار نہ ہُوا ایک حصہ غیر تابع زمین پر ہے و لہذا چلتی کشتی سے اگر زمین پر اترنا میسّر ہو کشتی میں پڑھنا جائز نہیں بلکہ عند التحقیق اگرچہ کشتی کنارے پر ٹھہری ہو مگر پانی پر ہو زمین تک نہ پہنچی ہو اور یہ کنارے پر اُتر سکتا ہے کشتی میں نماز نہ ہوگی کہ اس کا استقرار پانی پر ہے اور پانی زمین سے متصل باتصال قرار نہیں جب استقرار کی حالتوں میں نمازیں جائز نہیں ہوتیں جب تک استقرار زمین پر اور وہ بھی بالکلیہ نہ ہو توچلنے کی حالت میں کیسے جائز ہو سکتی ہیں کہ نفس استقرار ہی نہیں بخلاف کشتیِ رواں جس سے نزول متیسر نہ ہو کہ اسے اگر روکیں گے بھی تو استقرار پانی پر ہوگا نہ کہ زمین پر، لہذا سیر ووقوف برابر، لیکن اگر ریل روک لی جائے تو زمین ہی پر ٹھہرے گی اور مثل تخت ہو جائےگی، انگریزوں کے کھانے وغیرہ کے لئے روکی جاتی ہے اور نماز کے لئے نہیں تو منع من جہتہ العباد ہُوا اور ایسے منع کی حالت میں حکم وہی ہے کہ نماز پڑھ لے اور بعد زوال مانع اعادہ کرے۔ (فتاوی رضویہ، ج 6، ص 137، 136، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
امام اہلسنت علیہ رحمۃ رب العزۃ فتاوی رضویہ کی تیسری جلد میں فرماتے ہیں: مسئلہ یہ ہے کہ جس کے پاس پانی نہ ہو اور بے قیمت نہ ملے اور قیمت حاجاتِ ضروریہ سے فارغ اُس کی ملک میں ہو اگر پاس موجود ہے فبہا ورنہ پانی وعدہ پر مل سکے کہ مثلاً گھر پہنچ کر قیمت بھیج دُوں گا تو ایسی حالت میں تیمم جائز نہیں پانی مول لے کر وضو یا غسل واجب بشرطیکہ بیچنے والا یا تو مثل قیمت کو دے یا بَل کرے تو تھوڑا سا جسے غبن یسیر کہتے ہیں ورنہ اگر غبن فاحش یعنی زیادہ بَل سے دیتا ہے تو خریدنا ضرور نہیں شرع تیمم جائز فرمائے گی یہاں روایات مختلف ہوئیں کہ اس غبن یسیر و فاحش کی حد کیا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مگر اظہر و اشہر و الیق بالعمل وہ قول ہے جو امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے نوادر میں منقول ہوا کہ یہاں دُونی قیمت کا نام غبنِ فاحش ہے اور اُس سے کم غبنِ یسیر مثلاً اُتنا پانی اُس مقام کے بازاری نرخ سے ایک پیسہ کا ہے اور بیچنے والا دو۲ کو دے تو تیمم کرلے اور دو ۲ سے کم کو تو خریدنا لازم اور تیمم ممنوع۔ اور قیمت دیکھنے میں اعتبار خاص اُس جگہ کا ہے جہاں اسے اس وقت ضرورت آب ہے اگر وہاں کی قیمت کا پتہ نہ چلے تو جو جگہ وہاں سے قریب تر ہے اُس کا اعتبار کرے۔ (فتاوی رضویہ، ج 3، ص 299، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں چلتی ریل گاڑی پر بھی فرض و واجب و سنت فجر نہیں ہو سکتی اور اس کو جہاز اور کشتی کے حکم میں تصور کرنا غلطی ہے کہ کشتی اگر ٹھہرائی بھی جائے جب بھی زمین پر نہ ٹھہرے گی اور ریل گاڑی ایسی نہیں اور کشتی پر بھی اسی وقت نماز جائز ہے جب وہ بیچ دریا میں ہو کنارے پر ہو اور خشکی پر آسکتا ہو تو اس پر بھی جائز نہیں ہے لہٰذا جب اسٹیشن پر گاڑی ٹھہرے اُس وقت یہ نمازیں پڑھے اور دیکھے کہ وقت جاتا ہے تو جس طرح بھی ممکن ہو پڑھ لے پھر جب موقع ملے اعادہ کرے کہ جہاں مِن جہۃ العباد کوئی شرط یا رکن مفقود ہو اُس کا یہی حکم ہے۔ (بھا ر شریعت، ج 1، حصہ 3، ص 673، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
فتاوی امجدیہ میں ہے: ریل پر جب وقت جاتا دیکھیں تو چلتی گاڑی میں پڑھ لیں پھر ٹھہرنے کے بعد پڑھیں۔ (فتاوی امجدیہ، ج 1، ص 46، مکتبہ رضویہ، کراچی)
حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں وضو سے عاجز آنے کی صورت میں نماز پڑھنے کے متعلق ہے ”و قالا یتشبہ بالمصلین وجوبا فیرکع و یسجدان وجد مکانا یابسا و الا یومیء قائماثم یعیدبہ یفتی و الیہ صح رجوع الامام“ ترجمہ: اور صاحبین علیھما الرضوان فرماتے ہیں: اس پر نمازیوں کے ساتھ تشبہ کرنا واجب ہے، پس رکوع و سجود کرے اگر خشک مکان پائے اگر ایسا نہ ہو تو اشارے سے کھڑے ہوکر نماز پڑھے پھر اس کا اعادہ کرے یہی مفتی بہ ہے اور اسی کی طرف امام اعظم رضی اللہ عنہ کارجوع کرنا صحیح ہے۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح شرح نور الایضاح، کتاب الصلوٰۃ، ج 1، ص 117، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
فتاوی شامی میں ہے ”و ظاہرہ انہ لاینوی ایضالا نہ تشبہ لاصلاۃ حقیقیۃ“ ترجمہ: اور ظاہر ہے کہ وہ نیت بھی نہ کرے کیونکہ یہ نماز کی تشبہ ہے نہ کہ حقیقی نماز ہے۔ (فتاوی شامی، کتاب الطہارۃ، ج 1، ص 253، دار الفکر، بیروت)
مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: اگر کوئی ایسی جگہ ہے کہ نہ پانی ملتا ہے نہ پاک مٹی کہ تیمم کرے تو اسے چاہیے کہ وقت نماز میں نماز کی سی صورت بنائے یعنی تمام حرکات نماز بلا نیت نماز بجا لائے۔ (بھار شریعت، ج 1، حصہ 2، ص 353،مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو شاہد مولانا محمد ماجد علی مدنی
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: Lar-8364-a
تاریخ اجراء: 05 جمادی الثانی 1440ھ / 11 فروری 2019ء